فارن فنڈنگ سکروٹنی کمیٹی الیکشن کمیشن کو آنکھیں دکھانے لگی

الیکشن کمیشن کی جانب سے تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس میں حکومتی جماعت کے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کے لیے بنائی جانے والی سکروٹنی کمیٹی نے اب الیکشن کمیشن کو ہی آنکھیں دکھانا شروع کردی ہیں جس کا ایک مظاہرہ 22 مارچ کو دیکھنے میں آیا۔ جب الیکشن کمیشن کی جانب سے سکروٹنی کمیٹی کے سربراہ کو یاد دلایا گیا کہ ان کو اگست 2020 میں پی ٹی آئی بینک اکاؤنٹس کے آڈٹ کا کام 6 ہفتوں میں مکمل کرنے کو کہا گیا تھا لیکن اب چھ ماہ سے زائد گزر چکے ہیں تو انہوں نے کوئی تسلی بخش جواب دینے کی بجائے یہ حیرت انگیز موقف اپنایا کہ اسکروٹنی کا یہ عمل کبھی ختم نہیں ہوگا۔ یاد رہے کہ فارن فنڈنگ کیس کے پٹیشنر اکبر ایس بابر پہلے ہی یہ الزام عائد کر چکے ہیں کہ سکروٹنی کمیٹی واضح طور پر حکومتی ایجنڈے کے تحت چل رہی ہے اور نہیں چاہتی کہ سکروٹنی کا عمل کبھی ختم ہو اور فورا فنڈنگ کیس کا فیصلہ آ سکے۔

22 مارچ کو پی ٹی آئی کی جانب سے اپنی مالی دستاویزات کو خفیہ رکھنے کے سکروٹنی کمیٹی کے فیصلے کو چیلنج کرنے کی درخواست کی سماعت کے دوران جب خیبر پختونخوا سے ای سی پی کے رکن جسٹس (ر) ارشاد قیصر نے اسکروٹنی پینل کے سربراہ سے پوچھا کہ پی ٹی آئی اکاؤنٹس کی جانچ کا عمل کب تک جاری رہے گا تو انہوں نے کہا ‘ہمیشہ کے لیے’۔ جب انہیں اکبر ایس بابر کی جانب سے پی ٹی آئی کی جمع کروائی گئی دستاویزات کے حصول کی درخواست پر جواب جمع کرانے کو کہا گیا تو سکروٹنی کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ وہ پہلے ہی یہ دستاویزات فراہم نہ کرنے کا آرڈر پاس کرچکے ہیں اور انہیں مذید کوئی جواب جمع کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس۔ہر جسٹس (ر) ارشاد قیصر نے کہا کہ ہم نے کمیٹی کو 27 اگست 2020 کو 6 ہفتوں میں اپنی رپورٹ کو حتمی شکل دینے کا حکم دیا تھا، آپ کو تحریری طور پر یہ سمجھانا پڑے گا کہ کمیٹی حکم نامے کے مطابق مقررہ مدت کے اندر جانچ پڑتال مکمل کرنے میں اور 6 ماہ بعد بھی رپورٹ پیش کرنے میں کیوں ناکام ہے’۔

اس پر اسکروٹنی کمیٹی کے سربراہ نے، جو آئندہ دو ماہ میں ریٹائر ہونے والے ہیں، تحریری جواب پیش کرنے پر اتفاق کیا اور جانچ پڑتال میں تاخیر کی ذمہ داری دونوں فریقین پر عائد کر دی۔ انکے اس موقف پر درخواست گزار اور پی ٹی آئی کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے حیرت کا اظہار کیا کہ کمیٹی کو بغیر کسی ٹھوس پیش رفت کے پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کرنے میں تین سال کیوں لگ گے ہیں؟ یاد رہے کہ پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کے لیے سکروٹنی کمیٹی 2018 میں بنائی گئی تھی اور پھر ڈھائی برس بعد اگست 2020 میں اسے چھ ہفتے میں کام ختم کرنے کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی۔

تاہم اکبر ایس بابر کا کہنا ہے کہ سکروٹنی کمیٹی واضح طور پر حکومت کی اتحادی بنی ہوئی ہے اور نہیں چاہتی کہ اس کیس کا فیصلہ ہو پائےم ان کا کہنا تھا کہ اسی لیے پی ٹی آئی کے چھ شناخت شدہ اکاؤنٹس میں سے سکروٹنی کمیٹی نے ایک بھی اکاؤنٹ طلب نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکمران جماعت کے تمام 23 اکاؤنٹس، جن میں زیادہ تر ای سی پی سے پوشیدہ ہیں، خفیہ اور جانچ پڑتال کے دائرے سے باہر ہی رہے ہیں۔ اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ کوئی آڈیٹر ایسا آڈٹ قبول نہیں کرے گا جہاں تمام بینک اسٹیٹمنٹ کو خفیہ رکھا گیا ہو۔

22 مارچ کو اکبر ایس بابر کے وکیل نے نشاندہی کی کہ سکروٹنی کمیٹی نے پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس سے متعلق دستاویزات انہیں فراہم کرنے سے انکار کردیا ہے حالانکہ پی ٹی آئی کے تمام ریکارڈ تک رسائی درخواست گزار کا قانونی حق ہے۔ تاہم سکروٹنی کمیٹی کے سربراہ نے یہ موقف اپنایا کہ وہ یہ دستاویزات فراہم نہ کرنے کے حوالے سے آرڈر پاس کر چکے ہیں اور اس معاملے پر مزید گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔

اس پر اکبر ایس بابر کے وکیل سید احمد حسن شاہ نے کمیٹی کی آرڈر شیٹ کے اقتباسات پڑھ کر سنائے جن میں وجوہات بتائی گئیں تھیں کہ پی ٹی آئی کو یہ دستاویزات پٹیشنر کو دینے پر اعتراض ہے۔ انہوں نے کہاکہ کون سا قانون اور قاعدہ ملزم کو سکروٹنی کے عمل کو اپنی شرائط پر چلانے کی اجازت دیتا ہے؟ پی ٹی آئی کی تمام دستاویز ات اور ریکارڈ تک رسائی پٹیشنر کا قانونی حق ہے جس میں ’اطلاعات تک رسائی کے قانون‘ کے تحت حاصل حق بھی شامل ہے۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ سکروٹنی کمیٹی کی نہ تو نیت اور ارداہ دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی جرات نظر آتی ہے کہ وہ شفاف اور منصفانہ انداز میں جانچ پڑتال کا عمل مکمل کرسکے۔ سکروٹنی کمیٹی صرف یہ چاہتی ہے کہ جعلی سکروٹنی کے عمل کو پٹیشنر آنکھیں بند کرکے مان لے۔ سید احمد حسن شاہ نے تجویز دی کہ اگر تمام متعلقہ دستاویزات پٹیشنر کو فراہم کر دی جائیں جس میں پی ٹی آئی کے اکاونٹس بھی شامل ہیں تو درخواست گزار چند دن میں اس کے تمام حقائق پیش کردے گا۔ پھر کمیٹی پر منحصر ہے کہ وہ اس کا جائزہ لے اور اپنی معروضات الیکشن کمشن کو پیش کرے تاکہ مزید کارروائی عمل میں آسکے۔

کیس کی سماعت کے اختتام پر الیکشن کمیشن نے سکروٹنی کمیٹی کے سربراہ سے مقررہ مدت میں اکاؤنٹس کا آڈٹ مکمل نہ کرنے کی وجہ بارے تحریری جواب طلب کر لیا اور مزید سماعت 30 مارچ تک ملتوی کردی۔ بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پٹیشنر اور پی ٹی آئی کے بانی رہنما اکبر ایس بابر نے کہاکہ تمام پی ٹی آئی اکاونٹس کو کسی استثنی کے بغیر سکروٹنی کا لازمی حصہ ہونا چاہئے کیونکہ پاکستان کے عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ پی ٹی آئی قیادت مالی کرپشن اور غیرقانونی فنڈنگ میں ملوث ہوئی ۔ انہوں نے کہاکہ ان کا مقصد بڑا ہے اورکیس دائر کرنے کے پہلے دن سے وہ اپنے اسی مقصد پر کاربند ہیں کہ پی ٹی آئی کو کرپشن سے پاک کیاجائے اور جماعت کو اس کے بنیادی اصولوں اور مقاصد پر دوبارہ کھڑا کیاجائے۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان نے ایک ایسے راستے کا انتخاب کیا ہے جو ملک اور جماعت کے لئے تباہ کن ثابت ہوا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ وہ اس تباہی سے نکلنے کی راہ اپنائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button