فارن فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کے صبر کا پیمانہ لبریز

تحریک انصاف کی جانب سے فارن فنڈنگ کیس میں گذشتہ کئی برسوں سے تاخیری حربے استعمال کئے جانے پر الیکشن کمیشن کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے جسکے بعد چھ سال سے لٹکے ہوئے کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے چیف الیکشن کمشنر نے سکروٹنی کمیٹی کو ہر حال میں چھ ہفتوں کے اندر اکاونٹس کی تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ جمع کروانے کی ڈیڈ لائن جاری کر دی یے۔ الیکشن کمیشن کے اس حکم نے تحریک انصاف کی صفوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فارن فنڈنگ کیس اس لیے اہم ہے کہ اس کے ساتھ وزیراعظم عمران خان کا سیاسی مستقبل جڑا ہوا ہے۔ اگر اس کیس میں تحریک انصاف کی قیادت پر لگائے گئے اکبر ایس بابرکے الزامات درست ثابت ہو جائیں تو نہ صرف تحریک انصاف بطور سیاسی جماعت پابندی کا شکار ہو جائے گی بلکہ عمران خان بطور ممبر رکن اسمبلی بھی نااہل ہو سکتے ہیں۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا ماننا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ بھی فارن فنڈنگ کیس کو تحریک انصاف حکومت پر دبائو برقراررکھنے کے لئے استعمال کرسکتی ہے کیونکہ جب تک اس کیس کا فیصلہ تحریک انصاف کے حق میں نہیں ہوجاتا، عمران خان اور ان کی پوری جماعت اسٹیبلشمنٹ کی دست نگر رہے گی۔ ممکنہ طور پر تحریک انصاف کی حکوممت گرانے کے لئے اسٹیبلشمنٹ کسی بھی وقت اس کیس کو استعمال کرسکتی ہے۔
دوسری جانب آئینی ماہرین متفق ہیں کہ اگر فارن فنڈنگ کیس میں تحریک انصاف پر الزامات درست ثابت ہوگئے تو نہ صرف عمران کی کرسی چھن جائے گی بلکہ تحریک انصاف بطور جماعت بھی کالعدم قرار دی جاسکتی ہے جس کے نتیجے میں اس پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے تمام سینیٹرزاوراراکین قومی و صوبائی اسمبلی بھی نااہل قرار پائیں گے۔ موجودہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں کمیشن کی جانب سے سکروٹنی کمیٹی کو چھ ہفتوں کی مہلت دیئے جانے کے بعد اندازہ ہو رہا ہے کہ اب تحریک انصاف کے تاخیری حربے مزید نہیں چلیں گے اور اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچا کر تحریک انصاف کے مستقبل کا فیصلہ ہوجائے گا۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے حکمران جماعت تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس میں سکروٹنی کمیٹی کی جانب سے جمع کروائی گئی ‘نا مکمل’ رپورٹ مسترد کرنے کے بعد چھ ہفتوں کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔ اپنے حکم میں ای سی پی نے کہا کہ جمع کروائی گئی سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ نہ تو مکمل تھی اور نہ ہی تفصیلی تھی۔ ای سی پی کا کہنا تھا کہ سکروٹنی کمیٹی نے دونوں جماعتوں کے فراہم کردہ اورسٹیٹ بینک سے حاصل کردہ دستاویزات کی بنیاد پر نہ تو ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی نہ ہی دستاویزات سے شواہد کا جائزہ لیا اور ٹھوس رائے قائم کرنے میں ناکام رہی۔ کمیٹی کی سرزنش کرتے ہوئے ای سی پی نے کہا کہ کمیٹی کا یہ فرض اور ذمہ داری تھی کہ اس کے پاس دونوں جماعتوں کے جمع کروائی گئی ہر دستاویز کی صداقت، حقیقت اور ساکھ کی جانچ پڑتال کرے۔ ای سی پی نے مزید کہا کہ کمیٹی کے پاس دستاویز کی تصدیق اور دیگر چیزوں کے لیے مناسب فورم، ذرائع اور افراد سے رابطہ کرنے کا اختیار تھا۔ الیکشن کمیشن نے کہا کہ اعترافی طور پر قانون دستاویزات کی جانچ پڑتال کے لیے صداقت اور ساکھ کا معیار فراہم کرتا ہے لیکن کمیٹی نے اس سلسلے میں مناسب طریقہ کار کو اختیار نہیں کیا۔ اپنے سخت حکم نامے میں الیکشن کمیشن نے یہ بھی کہا کہ رپورٹ میں کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا گیا۔
ای سی پی کا کہنا تھا کہ یہ کہنا تکلیف دہ ہے کہ 28 سے 29 مہینے گزر جانے کے باجود اسکی ہدایات پر سختی سے عمل نہیں کیا گیا۔ ساتھ ہی کمیشن نے کمیٹی کو تازہ جانچ پڑتال کرنے اوراسے جتنی جلد ممکن ہو جمع کروانے کا حکم دیا لیکن اس میں 6 ہفتوں سے زائد کا وقت نہ لگے۔ 27 اگست کو اپنی رپورٹ مسترد ہونے کے بعد سکروٹنی کمیٹی نے 21 ستمبر کے روز اپنا پہلا اجلاس کیا جس میں اس کی رپورٹ پر الیکشن کمیشن کا متفقہ طور پر جاری کردہ حکم پڑھا گیا۔ چونکہ الیکشن کمیشن یہ فیصلہ ساڑھے 3 ہفتے پہلے سنایا تھا اس لیے کمیٹی کے پاس اب وہ کام مکمل کرنے کے لیے 3 ہفتوں سے بھی کم وقت ہے جو وہ 2 سال سے زائد عرصے میں نہیں کر پائی۔ دوسری جانب درخواست گزار اور پی ٹی آئی کے بانی رکن اکبرایس بابر نے الیکشن کمیشن کی جانب سے سکروٹنی رپورٹ مسترد ہونے کی روشنی میں آگے بڑھنے کی غرض سے اپنی قانونی ٹیم سے مشاورت کے لیے وقت طلب کیا بعدازاں ای سی پی نے اجلاس 24 ستمبر تک کے لیے ملتوی کردیا۔ کمیٹی کا مذکورہ اجلاس ایک متنازع نکتے پر ختم ہوا، اکبر ایس بابر نے مبینہ طور پر جعلی دستاویزات کی سکروٹنی کی ساکھ کے خلاف نوٹ جمع کروایا جبکہ کمیٹی نے سٹیٹ بینک کی ہدایت پر بینکوں سے موصول ہونے ولی پی ٹی آئی کی بینک سٹیٹمنٹس کی تصدیق فراہم کرنے سے انکار کیا۔ جس پر اکبرایس بابر نے نوٹ میں اس قسم کی جانچ پڑتال کو نظر کا دھوکا اور پی ٹی آئی کے جمع کروائے گئے غیر مصدقہ اور جعلی دستاویزات پر ربر اسٹمپ لگانے کی کوشش قرار دیا۔ درخواست گزار نے دعویٰ کیا کہ کمیٹی کی واضح ہدایات کے باوجود پی ٹی آئی کی فراہم کردہ 6 بینکس سٹیٹمنٹس میں سے ایک کو بھی جانچ پڑتال نے کے لیے پیش نہیں کیا گیا۔
اکبر ایس بابر نے پی ٹی آئی کی جانب سے سکروٹنی کے عمل سے سال 2013 کو نکالنے کے اقدام کو چیلنج کیا اورالزام لگایا کہ کمیٹی نے ڈھائی سال کے عرصے میں ان کے جمع کروائے گئے ثبوتوں کی تیزی سے تصدیق کرنے کی کوشش نہیں کی۔ خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کیس نومبر 2014 سے زیر التوا ہے جو اس پارٹی کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے دائر کیا تھا۔
خیال رہے کہ برسر اقتدار تحریک انصاف کے خلاف الیکشن کمیشن میں نومبر 2014 سے زیر التوا فارن فنڈنگ کیس شیطان کی آنت کی طرح لمبا ہوتا چلا جا رہا ہے اور چھ برس گزرنے کے بعد بھی وزیراعظم عمران خان اور انکی جماعت کیخلاف کسی قسم کی قانونی کارروائی نہیں ہوئی۔ واضح رہے کہ تحریک انصاف کے سابق بانی رکن اکبر ایس بابر کی جانب سے فارن فنڈنگ کیس میں تحریک انصاف پر الزام لگایا گیا تھا کہ جماعت کی جانب سے غیر قانونی غیر ملکی فنڈز میں تقریباً 30 لاکھ ڈالر 2 آف شور کمپنیوں کے ذریعے اکٹھے کیے گئے اور یہ رقم غیر قانونی طریقے ‘ہنڈی’ کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے پی ٹی آئی ملازمین کے اکاؤنٹس میں بھیجی گئی۔ ان کا یہ بھی الزام تھا کہ جو فنڈز بیرونِ ملک موجود اکاؤنٹس حاصل کرتے تھے، اسے الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی سالانہ آڈٹ رپورٹ میں پوشیدہ رکھا گیا۔ بعد ازاں ایک سال سے زائد عرصے تک اس کیس کی سماعت ای سی پی میں تاخیر کا شکار رہی تھی کیونکہ پی ٹی آئی کی جانب سے اکتوبر 2015 میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی کہ اس کے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال سے ای سی پی کو روکا جائے۔ جس کے بعد فروری 2017 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے دائرہ اختیار پر جائزہ لینے کے لیے کیس کو دوبارہ ای سی پی کو بھیج دیا تھا، اسی سال 8 مئی کو ای سی پی کے فل بینچ نے اس کیس پر اپنے مکمل اختیار کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی ٹی آئی اس طرح کے ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی کہ درخواست گزار کو پارٹی سے نکال دیا گیا اور وہ پی ٹی آئی اکاؤنٹس پر سوالات اٹھانے کا حق کھو بیٹھے۔ علاوہ ازیں مارچ 2018 میں پی ٹی آئی کے فارن فنڈنگ اکاؤنٹس کے معاملات کو دیکھنے کے لیے ایک سکروٹنی کمیٹی قائم کی گئی تھی جو اب تک فارن فنڈنگ کی تحقیقات کررہی تھی اور گزشتہ ماہ ہی الیکشن کمیشن میں اپنی رپورٹ جمع کروائی جسے ای سی پی نے مسترد کرکے تازہ رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
فارن فنڈنگ کیس کے حوالے سے قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ 2002 کے مطابق شق 15 کا استعمال کرتے تحریک انصاف کو بطور جماعت کالعدم قرار دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ آرٹیکل 61 اور 62 بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ تحریک انصاف اگر اس کیس میں خود کو کلیئر نہ کروا سکی تو نہ صرف بطور جماعت اس کا وجود ختم ہو جائے گا بلکہ اس جماعت سے تعلق رکھنے والے اراکین صوبائی، قومی اور سینیٹ بھی اپنے عہدوں سے فارغ ہوجائیں گے اور یوں تحریک انصاف کی حکومت کا خاتمہ ہوجائے گا۔
واضح رہے کہ سیاسی جماعتوں کو پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 کے آرٹیکل 13 کے تحت مالی سال کے اختتام سے 60 روز کے اندر الیکشن کمیشن میں بینک اکاؤنٹس کی آڈٹ رپورٹ جمع کروانا ہوتی ہے جس میں سالانہ آمدن اور اخراجات، حاصل ہونے والے فنڈز کے ذرائع، اثاثے اور واجبات شامل ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ پارٹی کا سربراہ الیکشن کمیشن میں ایک سرٹیفکیٹ بھی جمع کروانے کا مجاز ہوتا ہے جس میں یہ اقرار کیا جاتا ہے کہ تمام مالی تفصیلات درست فراہم کی گئی ہیں اور کوئی بھی فنڈ کسی ممنوعہ ذرائع سے حاصل شدہ نہیں ہے۔ واضح رہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے جو سرٹیفکیٹ جمع کروایا گیا اس میں اس بات کو چھپایا گیا ہے تحریک انصاف کو کس کس ذرائع سے پارٹی فنڈز ملے گی۔ پارٹی کے فنڈز کے ذرائع ظاہر نہ کرنے پر آرٹیکل 61 اور 62 کوئی بھی اتھارٹی استعمال کر سکتی ہے چاہے وہ الیکشن کمیشن ہو یا سپریم کورٹ۔۔۔۔
