فارن فنڈنگ کیس میں پھنسنے سے بچنے کے لیے PTI کا یو ٹرن


فارن فنڈنگ کیس میں تحریک انصاف کے وکیل نے سکروٹنی کمیٹی کے سامنے جماعت کے مرکزی سیکرٹری کے اس موقف سے لا تعلقی اختیار کرلی جس میں انہوں نے پی ٹی آئی کے چار ملازمین کے اکاؤنٹس میں متحدہ عرب امارات سے فنڈز وصول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ الیکشن کمیشن کی اسکروٹنی کمیٹی کی مختصر سماعت کے دوران پی ٹی آئی نے کے وکیل نے درخواست گزار اکبر ایس بابر کی جانب سے پی ٹی آئی ملازمین کے فرنٹ اکاؤنٹس کی تحقیقات کرنے کی درخواست پر تحریری جواب جمع کروایا۔ اکبر ایس بابر کی دائر کردہ درخواست میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اسٹیٹ بینک سے پی ٹی آئی کے چاروں ملازمین کے تمام فرنٹ اکاؤنٹس کی تفصیلات طلب کی جائیں تا کہ پی تی آئی کو غیر قانونی فنڈنگ کے حجم کا اندازہ لگایا جا سکے۔ اس معاملے میں سکروٹنی کمیٹی کے سامنے حکمراں جماعت کے وکیل شاہ خاور نے 15 فروری کو جواب جمع کرواتے ہوئے کہا کہ ‘ہم پی ٹی آئی آئی کے کسی عہدیدار کے کسی بیان کو نہیں اپناتے’۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے وکیل نے یو اے ای برانچ کے 4 ملازمین کے ذاتی اکاؤنٹس میں فارن فنڈنگ موصول ہونے کے اپنے مرکزی سیکریٹری خزانہ سراج احمد کے بیان سے لا لاتعلقی اختیار کی ہے لیکن اس نے پی ٹی آئی فنانس بورڈ کی یکم جولائی 2011 کو پی ٹی آئی ملازمین کو پارٹی فنڈز وصول کرنے کی اجازت دینے کے فیصلے سے لاتعلقی اختیار نہیں کی ہے۔ حکمران جماعت کے خلاف الیکشن کمیشن میں دائر کردہ فارن فنڈنگ کیس میں یہ معاملہ ایک بڑی بے ضابطگی کے طور پر سامنے آیا تھا جس نے کہ پارٹی پر منی لانڈرنگ کے الزامات کو تقویت دی تھی اور وزیراعظم کے سیاسی مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔

تاہم اب تحریک انصاف کے وکیل نے اس مسئلے سے نکلنے کے لیے یہ موقف اپنایا ہے کہ وہ تحریک انصاف کے کسی بھی عہدے دار کی جانب سے فارن فنڈنگ کے معاملے میں دیے گئے بیان کو تسلیم نہیں کرتے۔ یاد ریے کہ اس سے پہلے انکشاف ہوا تھا کہ تحریک انصاف کے متحدہ عرب عمارات آفس میں کام کرنے والے ٹیلی فون آپریٹر، کمپیوٹر آپریٹر، اکاونٹینٹ اور ہیلپر کے بینک اکاؤنٹس کو پارٹی فنڈز اکٹھے کرنے کے لئے استعمال کیا گیا جس کا بنیادی مقصد فراڈ تھا کیونکہ یہ فنڈ اکٹھا تو تحریک انصاف کے نام پر کیا جارہا تھا لیکن اسے چار پارٹی ملازمین کے اکاؤنٹس میں ڈالا جا رہا تھا تا کہ خرچ کرتے وقت کوئی قدغن عائد نہ ہو جیسا کہ پارٹی فنڈ استعمال کرتے وقت ہوتی ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا یے کہ یہ غیر قانونی سرگرمی پی ٹی آئی اور اسکے چیئرمین عمران خان کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزامات کا ثبوت بن سکتی تھی کیونکہ اس معاملے کی تصدیق پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری فنانس نے کی تھی۔ چنانچہ اب اسی معاملے سے بچنے کے لیے تحریک انصاف کے وکیل نے پارٹی کے مرکزی سیکرٹری فنانس سراج احمد کے بیان سے اظہار لاتعلقی کیا ہے۔

اس معاملے کی تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے ملازمین کی ایک دستاویزی فہرست حال ہی میں سامنے آئی تھی جنہیں کہ پاکستان کے اندر اور بیرونِ ملک سے پارٹی کے لیے فنڈز وصول کرنے کی اجازت دی گئی تھی. دستیاب دستاویز میں ان ملازمین کے نام بھی سامنے آئے ہیں جن میں مبینہ طور پر پی ٹی آئی کے ٹیلی فون آپریٹر طاہر اقبال، کمپیوٹر آپریٹر محمد نعمان افضل، اکاؤنٹنٹ محمد ارشد اور پی ٹی آئی کے دفتر کے ہیلپر محمد رفیق شامل ہیں۔ پی ٹی آئی ملازمین کو فنڈز اکٹھے کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ یکم جولائی 2011 کو ہونے والے پارٹی کے ایک اجلاس میں کیا گیا تھا جس میں پی ٹی آئی کے موجودہ چیف آرگنائزر سیف اللہ نیازی، موجودہ سیکریٹری جنرل عامر محمود کیانی، حال ہی میں تعینات ہونے والے پمز کے چیئرمین آف دی بورڈ آف ڈائریکٹرز، سردار اظہر طارق خان، پارٹی کے سابق سیکریٹری خزانہ اور پاکستان کے حالیہ سفیر برائے کرغزستان کرنل یونس علی رضا اور طارق آر شیخ شریک تھے۔

اس ضمن میں جب پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری خزانہ اور مشیر مالیات سراج احمد سے رابطہ کیا گیا تھا تو انہوں نے تصدیق کی تھی کہ پی ٹی آئی کے مالیاتی بورڈ کی جانب سے ان چاروں ملازمین کو پارٹی کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کے لیے اجازت دی گئی تھی۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ متحدہ عرب امارات سے ویسٹرن یونین کے ذریعے آنے والی رقم بعد میں تحریک انصاف کے اکاؤنٹ میں ہی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ‘یہ یو اے ای سے ویسٹرن یونین کے ذریعے موصول شدہ عطیات پر اندرونی کنٹرول کے لیے ہمارا اندرونی ارینجمینٹ تھا کیوں کہ یو اے ای کے قوانین کسی سیاسی پارٹی کو براہ راست فنڈز منتقل کرنے کی اجازت نہیں دیتے’۔ سراج احمد نے یہ بھی کہا تھا کہا کہ یو اے ای سے ان ملازمین کے اکاونٹس میں موجود تمام رقم پی ٹی آئی کے اکاؤنٹ میں ہی گئی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button