فارن فنڈنگ کیس میں PTI کی منی لانڈرنگ کے ثبوت مل گئے


حکمران جماعت تحریک انصاف کے خلاف الیکشن کمیشن میں دائر کردہ فارن فنڈنگ کیس میں ایک اور بڑی بے ضابطگی سامنے آ گئی ہے جو کہ منی لانڈرنگ کے الزامات کو تقویت پہنچاتی یے اور وزیراعظم عمران خان کے سیاسی مستقبل کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ غیر قانونی فارن فنڈنگ کیس میں اب یہ انکشاف ہوا یے کہ تحریک انصاف کے متحدہ عرب عمارات آفس میں کام کرنے والے ٹیلی فون آپریٹر، کمپیوٹر آپریٹر، اکاونٹینٹ اور ہیلپر کے بینک اکاؤنٹس کو پارٹی فنڈز اکٹھے کرنے کے لئے استعمال کیا گیا جس کا بنیادی مقصد فراڈ کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا۔ یہ فنڈ اکٹھا تو تحریک انصاف کے نام پر کیا جارہا تھا لیکن اسے پارٹی ملازمین کے اکاؤنٹس میں ڈالا جا رہا تھا کہ اس کو خرچ کرتے وقت کوئی قدغن عائد نہ ہو جیسا کہ پارٹی فنڈ کو استعمال کرتے وقت ہوتی ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا یے کہ یہ غیر قانونی سرگرمی پی ٹی آئی اور اسکے چیئرمین عمران خان کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزامات کا ثبوت بن سکتی ہے، کیونکہ یہ سب پی ٹی آئی کے چیئرمین کی ملی بھگت سے ہوتا رہا۔ تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے ملازمین کی ایک دستاویزی فہرست ھال ہی میں سامنے آئی ہے جنہیں کہ پاکستان کے اندر اور بیرونِ ملک سے پارٹی کے لیے فنڈز وصول کرنے کی اجازت دی گئی تھی. دستیاب دستاویز میں ان ملازمین کے نام بھی سامنے آئے ہیں جن میں مبینہ طور پر پی ٹی آئی کے ٹیلی فون آپریٹر طاہر اقبال، کمپیوٹر آپریٹر محمد نعمان افضل، اکاؤنٹنٹ محمد ارشد اور پی ٹی آئی کے دفتر کے ہیلپر محمد رفیق شامل ہیں۔ پی ٹی آئی ملازمین کو فنڈز اکٹھے کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ یکم جولائی 2011 کو ہونے والے پارٹی کے ایک اجلاس میں کیا گیا تھا جس میں پی ٹی آئی کے موجودہ چیف آرگنائزر سیف اللہ نیازی، موجودہ سیکریٹری جنرل عامر محمود کیانی، حال ہی میں تعینات ہونے والے پمز کے چیئرمین آف دی بورڈ آف ڈائریکٹرز، سردار اظہر طارق خان، پارٹی کے سابق سیکریٹری خزانہ اور پاکستان کے حالیہ سفیر برائے کرغزستان کرنل یونس علی رضا اور طارق آر شیخ شریک تھے۔

اس ضمن میں جب پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری خزانہ اور مشیر مالیات سراج احمد سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ پی ٹی آئی کے مالیاتی بورڈ کی جانب سے ان چاروں ملازمین کو پارٹی کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کے لیے اجازت دی گئی تھی۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ متحدہ عرب امارات سے ویسٹرن یونین کے ذریعے آنے والی رقم بعد میں تحریک انصاف کے اکاؤنٹ میں ہی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ‘یہ یو اے ای سے ویسٹرن یونین کے ذریعے موصول شدہ عطیات پر اندرونی کنٹرول کے لیے ہمارا اندرونی ارینجمینٹ تھا کیوں کہ یو اے ای کے قوانین کسی بھی سیاسی پارٹی کو براہ راست فنڈز منتقل کرنے کی اجازت نہیں دیتے’۔

سراج احمد نے کہا کہ یو اے ای سے ان ملازمین کے اکاونٹس میں موجود تمام رقم پی ٹی آئی کے اکاؤنٹ میں ہی گئی تھی اور جسکی ایک آزادانہ طور پر جائزہ لینے والے آڈیٹر احسن اور احسن نے بھی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی چیئرمین عمران خان نے ایک آڈیٹر بھی تعینات کیا تھا تا کہ عطیات کے نظام پر نظرِ ثانی کی جاسکے، انہوں نے کہا کہ فنانس بورڈ کے پاس موصول ہونے والے عطیات کا مکمل کنٹرول تھا اور یہ سب مفاہمت سے کیا گیا تھا۔

سراج احمد نے کہا کہ پارٹی کے عطیات کا ریکارڈ رکھنے اور انتظام کرنے کا نطام بہت کنٹرولڈ تھا اور فنانس بورڈ براہ راست اس پورے طریقہ کار کی نگرانی کیا کرتا تھا اور کسی ھیراپیری کا کوئی امکان موجود نہیں تھا۔ ایک سول کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ یو اے ای سے جو رقم موصول ہوئی وہ 20 لاکھ روپے کے قریب تھی۔ تاہم ان کے پاس اس سوال کا کوئی جواب موجود نہیں تھا کہ تحریک انصاف کے لئے اکٹھے کیے گئے فنڈز کو اس کے چار ملازمین کے اکاؤنٹس میں کیوں ڈالا جاتا رہا اور پھر وہ فنڈز کہاں استعمال ہوئے۔

اس ضمن میں جب پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس دائر کرنے والے اکبر ایس بابر سے رابطہ کیا تھا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ معاملہ وہ خوف 11 ستمبر 2011 کو لکھے گئے ایک خط کے ذریعے پارٹی چیئرمین عمران خان کے علم میں لائے تھے جو الیکشن کمیشن اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش کردہ ریکارڈ کا حصہ نہیں تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ لاکھوں روپے کے عطیات ان فرنٹ اکاؤنٹس میں عطیات دہندگان نے جمع کروائے اور پی ٹی آئی ملازمین سے نقد ادائیگی کے لیے چیکس پر دستخط کروا کر یہ رقوم نکالی گئیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ غیر قانونی حرکت پی ٹی آئی اور اس کی قیادت کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزامات کا ثبوت بن سکتی ہے، کیونکہ یہ سب پی ٹی آئی کی سینیئر قیادت کی ملی بھگت سے ہوتا رہا جو پارٹی کے سینٹرل سیکریٹریٹ کو چلا رہی تھی۔
فارن فنڈنگ کیس کے پٹیشنز اکبر ایس بابر کا کہنا ہے کہ اگر اس کیس کا فیصلہ میرٹ پر ہوں تو ان کے تمام تر الزامات ثابت ہو جائیں گے اور عمران خان نا اہل ہو سکتے ہیں۔ تاہم انکا کہنا تھا کہ ابھی تو الیکشن کمیشن کی جانب سے تشکیل دی گئی سکروٹنی کمیٹی ہی اپنا کام ختم کرنے کے موڈ میں نظر نہیں آتی۔

اکبر ایس بابر نے کہا کہ سکروٹنی کمیٹی جان بوجھ کر تاخیری حربے آزما رہی یے تاکہ اس اہم ترین کیس کا فیصلہ نہ ہو پائے۔ انکا کہنا ہے کہ سرکاری ملازمین پر مبنی سکروٹنی کمیٹی تحریک انصاف حکومت کے دبائو میں کام کرر ہی ہے اور عین حکومتی ہدایات کے مطابق معاملے کو طور دے کر مسلسل کیس کو الجھا رہی ہے۔اکبر ایس بابر نے کہا کہ جب گریڈ 18 گریڈ 19 یا گریڈ 20 کے سرکاری ملازم ملک کے وزیراعظم کے خلاف کیس کی تحقیقات کریں گے تو بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ قانون کے مطابق وزیراعظم اور ان کی جماعت کے خلاف انصاف ہر مبنی کوئی فیصلہ ہو سکے۔ اکبر ایس بابر کے مطابق یہ کیس الیکشن کمیشن اور سکروٹنی کمیٹی کے پاس آنے کے بعد سے اب تک ڈیڑھ سو سے زائد سماعتیں ہو چکی ہیں۔ اس دوران نہ صرف پی ٹی آئی کی جانب سے تاخیری حربے استعمال کئے گئے بلکہ غیر تصدیق شدہ اور جعلی دستاویزات جمع کروا کر گلو خلاصی کروانے کی کوشش کی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومتی دباو کی وجہ سے سکروٹنی کمیٹی نہ تو انہیں تحریک انصاف کی جانب سے جمع کروائے گئے شواہد اور ثبوتوں کی کاپیاں فراہم کرر ہی ہے اور نہ ہی ممنوعہ فسرن فنڈنگ سے متعلق تفصیلات اور چھپائے گئے 23 بینک اکائونٹس سے متعلق کچھ بتانے پر راضی ہے۔ یہ سب اس لئے ہو رہا ہے کہ تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن حکام کو ایسا کرنے سے روکا ہوا ہے۔

اکبر ایس بابر کا موقف ہے کہ سکروٹنی کمیٹی درست طریقے سے کام نہیں کر رہی اور اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر تحریک انصاف کا پیش کرہ تمام ریکارڈ مجھے نہیں دکھایا جائے گا تو میں کیسے کمیٹی کی کارروائی پر اعتماد کا اظہار کرسکتا ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں فارن فنڈنگ کیس کے شکایت کنندہ کے طور پر قانونی لحاظ سے بھی پی ٹی آئی کے جمع کروائے گے ریکارڈ تک رسائی کا مجاز ہوں لیکن مجھ سے شواہد چھپائے جا رہے ہیں۔ انکا کہنا یے کہ میرے پاس تحریک انصاف کو ممنوعہ فارن فنڈنگ دیے جانے کے ٹھوس اور ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں لیکن جب تک مجھے ریکارڈ تک رسائی نہیں ملتی، میں اپنا مواد کیوں پیش کروں۔؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button