فاطمہ بھٹو 11 برس تک کس بے وفا مرد سے محبت کرتی رہی؟

ذوالفقار علی بھٹو کی پوتی، بے نظیر بھٹو کی بھتیجی اور مرتضیٰ بھٹو کی بیٹی فاطمہ بھٹو کی نئی کتاب نے ادبی حلقوں میں تہلکہ مچا دیا ہے۔ فاطمہ نے اپنی نئی کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ وہ 11 برس تک شادی کے بغیر ایک بے وفا مرد کے ساتھ تعلق میں رہیں لیکن پھر اسے چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

معروف لکھاری اور صحافی عامر خاکوانی اپنی تازہ تحریر میں کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فاطمہ بھٹو نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ایک بھٹو بھی ٹوٹ سکتا ہے، اور یہ کہ ٹوٹ کر دوبارہ جڑنا ہی اصل بہادری ہے۔ انکے مطابق پاکستان میں جہاں بھٹو خاندان کو ایک دیومالائی حیثیت حاصل ہے، وہاں فاطمہ بھٹو کا اپنی ناکام محبت اور شخصی کمزوریوں کو تسلیم کرتے ہوئے بے باکی سے منظرِ عام پر لانا کوئی آسان کام نہیں۔ انکے مطابق فاطمہ بھٹو اپنے دادا ذوالفقار علی بھٹو کی طرح تخلیقی ذہن کی مالک ہیں۔ لڑکپن ہی میں ان کی انگریزی نظمیں شائع ہونا شروع ہو گئی تھیں۔ اب تک ان کے دو ناول اور دو نان فکشن کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ چند برس قبل شائع ہونے والی ایک نان فکشن کتاب میں انہوں نے اپنی پھوپھو بے نظیر بھٹو پر اپنے والد مرتضیٰ بھٹو کے قتل کے حوالے سے سنگین الزامات بھی عائد کیے تھے۔ لیکن اپنی نئی کتاب میں انہوں نے ایسا کوئی الزام عائد نہیں کیا۔

عامر خاکوانی کا کہنا ہے کہ فاطمہ بھٹو کی نئی کتاب “Hour of the Wolf” آور آف دی وولف دراصل ان کی نجی زندگی کی کہانی ہے۔ یہ کتاب ان کی پرائیویٹ ذاتی زندگی سے پردہ اٹھاتی ہے۔ کتاب سے پتہ چلتا ہے کہ بھٹو خاندان کی یہ شہزادی کن اذیت ناک مراحل سے گزری، اسے کن بڑے المیوں، ذہنی اور جذباتی صدمات اور کرب کا سامنا کرنا پڑا۔ خاکوانی کا کہنا ہے کہ قدرت نے فاطمہ بھٹو کو ایک بڑے، نامور اور عالمی شہرت یافتہ سیاسی گھرانے میں پیدا کیا۔ مالی وسائل کی کوئی کمی نہ تھی۔ خود فاطمہ بھٹو دلکش خدوخال کی مالک، باوقار اور پرجمال خاتون ہیں۔ کولمبیا یونیورسٹی اور لندن اسکول آف اورینٹل اسٹڈیز جیسے اعلیٰ تعلیمی اداروں سے تعلیم یافتہ، حساس اور تخلیقی ذہن رکھنے والی، پراعتماد، مضبوط اور طاقتور شخصیت کی حامل۔ وہ ایسی تھیں کہ زندگی کے تمام دروازے ان کی پہلی دستک پر ہی کھل سکتے تھے۔

لیکن اس سب کے باوجود فاطمہ بھٹو کی زندگی شدید ذاتی المیوں کی نذر ہو گئی۔ تین برس کی عمر میں ان کے والدین میں علیحدگی ہو گئی اور وہ اپنے والد مرتضیٰ بھٹو کے ساتھ رہنے لگیں۔ ان کی سوتیلی والدہ غنویٰ بھٹو نے ان کی پرورش کی۔ تاہم صرف 14 برس کی عمر میں فاطمہ بھٹو کے والد مرتضیٰ بھٹو کو ان کے گھر کے سامنے ہی سفاکی سے قتل کر دیا گیا، اور آج تک اس قتل کے ذمہ دار سامنے نہ آ سکے۔ یہ ایسا صدمہ تھا جس کے سائے میں فاطمہ جوان ہوئیں۔ غنویٰ بھٹو، جو میر مرتضیٰ بھٹو کی دوسری اہلیہ تھیں، نے فاطمہ کو اپنی بیٹی کی طرح پالا، مگر ان کی کنٹرولنگ اور سخت گیر شخصیت فاطمہ کے لیے کئی مشکلات کا سبب بھی بنی۔

عامر خاکوانی کے مطابق فاطمہ بھٹو آج بھی غنویٰ بھٹو کو ہی اپنی ماں سمجھتی ہیں۔ ان کی حقیقی والدہ، انکے والد کے قتل کے کئی برس بعد جب انہیں لینے آئیں تو فاطمہ نے ان کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا اور واضح طور پر کہا کہ ان کے نزدیک غنویٰ بھٹو ہی ان کی ماں ہیں۔ غنویٰ بھٹو کے بطن سے مرتضیٰ بھٹو کا ایک بیٹا ذوالفقار جونیئر ہے، جس سے فاطمہ کو بے حد محبت ہے۔ نئی کتاب میں فاطمہ نے اس کا ذکر کیا ہے، تاہم وہ اپنی والدہ غنویٰ بھٹو کی کنٹرولنگ طبیعت پر شکوہ بھی کرتی ہیں۔

فاطمہ بھٹو اپنی کتاب میں لکھتی ہیں کہ ایک روز جب انہوں نے ماں سے کہا کہ اب وہ بڑی ہو چکی ہیں اور اپنے مالی معاملات اور بینک اکاؤنٹس خود دیکھنا چاہتی ہیں تو غنویٰ بھٹو سخت برہم ہو گئیں۔ انہوں نے طعنہ دیا کہ والد کے قتل کے بعد انہوں نے فاطمہ کی جان بچائی، اس کی پرورش کی، اور اب یہ صلہ دیا جا رہا ہے۔ اسکے بعد غنویٰ نے ان کو غصے میں ایک گالی دی اور گھر چھوڑنے کی دھمکی دیتے ہوئے کمرے سے نکل گئیں۔ فاطمہ لکھتی ہیں کہ والد کے بعد انہیں سب سے زیادہ خوف اپنے قریبی لوگوں کے چھوڑ جانے کا تھا، اسی خوف کے باعث انہوں نے فوراً ماں سے معذرت کر لی اور کہا کہ انہیں اکاؤنٹس نہیں دیکھنے۔

کتاب میں فاطمہ بھٹو کی پالتو بلی کوکو بھی ایک اہم کردار کے طور پر سامنے آتی ہے۔ فاطمہ کو جانوروں سے خاص لگاؤ ہے۔ وہ کتے پالتی رہی ہیں، مگر کوکو نے ان کی زندگی میں محبت کے رنگ بھر دیے۔ ایک نہایت تکلیف دہ اور افسوسناک تعلق کے دوران، جب فاطمہ کا اپنے اوپر سے اعتماد تقریباً ختم ہو چکا تھا، کوکو نے اپنی بے لوث محبت کے ذریعے ان میں دوبارہ جینے کی خواہش پیدا کی۔ اس کے بعد فاطمہ نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی زندگی کا سب سے بڑا سچ بیان کریں گی۔ یہ کتاب دراصل اسی سچ کی داستان ہے۔

کتاب کے مطابق فاطمہ بھٹو اپنی شادی سے قبل 11 برس تک ایک مرد کے ساتھ محبت کے تعلق میں رہیں۔ کتاب میں اس شخص کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، بلکہ اسے ہر جگہ ’وہ آدمی‘ یا ’دی مین‘ کہا گیا ہے۔ فاطمہ کی اس سے ملاقات 2011 میں نیویارک میں ہوئی۔ وہ اسکی طاقتور اور سحر انگیز شخصیت سے متاثر ہوئیں۔ فاطمہ بھٹو لکھتی ہیں:
وہ ایسا تھا جیسا میں آج تک کسی سے نہیں ملی تھی۔ بے باک، خود پر حد درجہ یقین رکھنے والا، خوبصورت، کھردرے نقوش والا، قدیم وضع قطع کی مردانہ وجاہت رکھنے والا… ایک آزاد روح۔

دونوں ایک دوسرے کے قریب آئے اور دس برس سے زائد عرصے تک اس تعلق میں بندھے رہے، جسے فاطمہ اب جھوٹے وعدوں، بے وفائی اور دھوکے سے لبریز ایک زہریلا رشتہ قرار دیتی ہیں۔

فاطمہ کے مطابق دونوں غیر شادی شدہ تھے۔ اس شخص کا کہنا تھا کہ فاطمہ سے پہلے اسے کوئی ایسی عورت نہیں ملی جس کے ساتھ وہ زندگی گزار سکے، جبکہ فاطمہ کے ساتھ وہ سیٹل ہونا چاہتا تھا، مگر اسے وقت درکار تھا۔ فاطمہ کے بقول وہ مختلف بہانوں اور جھوٹے وعدوں کے ذریعے انہیں لٹکائے رکھتا رہا۔ وہ اس تعلق کو خفیہ رکھتا اور کبھی کسی کے سامنے فاطمہ کو اپنی بیوی، پارٹنر یا گرل فرینڈ تک تسلیم نہیں کرتا تھا۔

عامر خاکوانی، فاطمہ بھٹو کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ درحقیقت وہ شخص ایک نرگسیت پسند اور نفسیاتی مسائل کا شکار تھا، جس نے فاطمہ کو سخت کنٹرول میں رکھا۔ فاطمہ اس کی شخصیت سے گویا ہپناٹائز ہو چکی تھیں اور چاہتے ہوئے بھی اسے چھوڑ نہ پاتیں۔ انہیں اس خیال سے شدید خوف محسوس ہوتا تھا کہ کہیں وہ شخص انہیں چھوڑ نہ دے۔ وہ قدم قدم پر فاطمہ کو ذہنی طور پر ایکسپلائٹ کرتا، کبھی طنزیہ جملوں سے زخمی کرتا، کبھی مکمل خاموشی اختیار کر لیتا، اور بے رحمی سے نظرانداز کرتا۔

جب فاطمہ کہتیں کہ وہ یہ رشتہ چھوڑ کر جا رہی ہیں تو وہ دھمکی دیتا کہ اگر وہ گئیں تو زندگی میں کبھی اسے نہیں دیکھ سکیں گی۔ یہ سن کر فاطمہ خوف زدہ ہو کر رک جاتیں۔ حال ہی میں گارڈین کو دیے گئے ایک انٹرویو میں فاطمہ بھٹو نے بتایا کہ میں نے اپنی پوری زندگی میں ایسی عورتوں کی کہانیاں پڑھی تھیں جنہیں مردوں نے خطرناک حالات میں ڈال دیا تھا۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں بھی ان میں شامل ہو سکتی ہوں، کیونکہ یہ جسمانی تشدد نہیں تھا۔ میں سمجھتی رہی کہ میرے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا، جبکہ یہ سب ہو رہا تھا، مسلسل ہو رہا تھا، اور میں اس کا ادراک ہی نہیں کر پا رہی تھی۔ میں جانتی تھی کہ وہ جو نقصان پہنچانا چاہتا تھا، وہ مکمل تباہی تھی۔

فاطمہ بھٹو نے اس تعلق کو اس حد تک خفیہ رکھا کہ اپنے قریبی دوستوں کو بھی اس کی خبر نہ ہونے دی۔ دراصل وہ شخص یہی چاہتا تھا اور اس نے فاطمہ کو یہ باور کرا دیا تھا کہ ان کے رشتے کی انفرادیت یہی ہے کہ یہ صرف ان دونوں تک محدود رہے۔ لیکن 2021 کے آخر میں، جب فاطمہ بھٹو 40 برس کی ہوئیں، تو انہوں نے اس اذیت ناک تعلق کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ 2022 میں ان کی ملاقات اپنے موجودہ شوہر گراہم سے ہوئی، جنہوں نے ان کی زندگی کو محبت سے بھر دیا۔ ایک سادہ تقریب میں دونوں نے شادی کی۔ اب فاطمہ دو بچوں، ’میر‘ اور ’کیسپین‘ کی ماں ہیں۔

ماں بننے کے تجربے کے بارے میں فاطمہ بھٹو لکھتی ہیں:
جب میں نے پہلی بار اپنے بیٹے کو گود میں لیا تو مجھے محسوس ہوا کہ برسوں کے صدموں سے پیدا ہونے والی تمام کڑواہٹ میرے اندر سے دھل گئی ہے۔ میں، جو کبھی یہ سوچتی تھی کہ شاید میں ایک اچھی ماں نہیں بن سکوں گی، اب خود کو ایک نئی تخلیق کے روپ میں دیکھ رہی تھی۔ ممتا نے مجھے وہ قوت دی جو مجھے کسی سیاسی تقریر یا کتاب سے نہیں ملی تھی۔ اب میں کسی کی بیٹی یا کسی کی بھانجی نہیں، صرف ایک ماں ہوں، اور یہی میری سب سے بڑی پہچان ہے۔

Back to top button