فاطمہ جناح کیخلاف انتخابی مہم چلانے والےگوہر ایوب خان کی کہانی

پاکستان کے سابق وزیر خارجہ، سپیکر قومی اسمبلی اور پہلے فوجی صدر جنرل ایوب خان کے صاحبزادے گوہر ایوب خان پاکستان کی تاریخ کے اہم کرداروں میں ایک سے تھے۔گوہر ایوب کا شمار ان بیٹوں میں ہوتا ہے جو اپنے والد کے زِیرسایہ ترقی کے زینے طے کرتے ہیں اور زندگی بھر اپنے والد کے حوالے سے ہی جانے جاتے ہیں۔
گوہر ایوب نے اپنی عملی زندگی کا آغاز سنہ 1957 میں پاکستانی فوج میں اس وقت کمیشن حاصل کر کے کیا جب ان کے والد اس کے کمانڈر تھے اور بعدازاں برطانیہ کی رائل اکیڈمی سینڈہرسٹ میں تربیت کے لیے چلے گئے۔
پاکستان واپس آنے کے بعد انہوں نے اپنے والد جنرل ایوب خان کے ساتھ ان کے سٹاف کے طور پر کام کیا اور ان کے دورِ صدارت میں اندرون و بیرون ملک بیشتر وقت ان کے ساتھ ہی رہے، تاہم جلد ہی وہ فوج سے کپتان کی حیثیت سے ریٹائر ہو گئے اور اس کے بعد اپنے سسر جنرل حبیب اللہ خان کے ساتھ گندھاارا انڈسٹریز کے نام سے ایک ’کاروباری سلطنت‘ کی بنیاد رکھی۔محقق عقیل عباس جعفری کے مطابق اس کاروباری سلطنت کا فائدہ گوہر ایوب اور ان کے سسر دونوں کو ہوا اور اس وقت کے پاکستان میں ان کا کاروبار بڑے کاروباروں میں شمار ہوتا تھا۔ان کی کاروباری سرگرمیوں کی وجہ سے ایوب خان پر تنقید بھی ہوتی تھی اور یہ تبصرے بھی ہوتے تھے کہ اس کے پیچھے صدر خود ہیں۔گوہر ایوب سنہ 1965 کے صدارتی انتخاب کے اہم کردار کی حیثیت سے بھی جانے جاتے ہیں کیونکہ انہوں نے فاطمہ جناح کے خلاف اپنے والد کی انتخابی مہم چلائی تھی۔
عقیل عباس جعفری کے مطابق ایوب خان کے دور صدارت کے خاتمے کے بعد گوہر ایوب پس منظر میں چلے گئے اور پھر ضیا الحق کے مارشل لا میں ہی سامنے آئے۔’اگرچہ گوہر ایوب کو صدر ایوب کی انتخابی مہم اور فاطمہ جناح کے خلاف متنازع کردار کے حوالے سے دیکھا جاتا ہے اور اس انتخاب کو پاکستان کی خراب سیاسی فضا کی ابتدا سمجھا جاتا ہے مگر گوہر ایوب خان جب سنہ 1990 میں مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی منتخب ہو کر آئے تو اپنے والد کی ذوالفقار بھٹو سے مخاصمت کے باوجود بینظیر بھٹو اور بیگم نصرت بھٹو سے اچھی طرح پیش آئے۔‘
پاکستان مسلم لیگ نواز کے سینیئر رکن صدیق الفاروق کے مطابق جب نواز شریف نے سیاست شروع کی تو اس وقت گوہر ایوب ان لوگوں میں شامل تھے جو ضیاالحق کے مارشل لا کے ساتھ تھے۔’نواز شریف نے ضیا الحق کے مارشل لا کے دوران سیاست شروع کی۔ اس وقت گوہر ایوب ضیا الحق کے ساتھ تھے اور فوج میں ان کا اثر ورسوخ تھا۔ جب نواز شریف کا محمد خان جونیجو سے اختلاف ہوا تو انہوں نے میاں صاحب کا ساتھ دیا اور پھر ان کے ساتھ مل گئے۔‘سنہ 1990 کے انتخابات میں مسلم لیگ ن کی کامیابی کے بعد گوہر ایوب کو قومی اسمبلی کا سپیکر بنا دیا گیا۔صدیق الفاروق کا کہنا تھا کہ ’اس وقت ان کو صدر بنانے کے لیے بھی بات چلی اور گوہر ایوب نے نواز شریف کو کہا کہ اگر انہیں صدر بنا دیں تو وہ عہدہ سنبھالتے ہی آئینی ترمیم پر دستخط کر دیں گے، تاہم وہ صدر نہیں بن سکے۔
سنہ 1997 میں جب مسلم لیگ ن دوسری مرتبہ انتخابات جیت کر آئی تو گوہر ایوب کو وزیر خارجہ بنایا گیا۔ مئی 1998 میں جب انڈیا نے ایٹمی دھماکے کیے اور پاکستان نے جوابی دھماکوں کی تیاریاں شروع کیں تو اس پر بہت زیادہ عالمی دباؤ آیا۔ ان دنوں گوہر ایوب نے بڑھ چڑھ کر ایٹمی دھماکوں کے متعلق بیانات دیے۔
اس کو یاد کرتے ہوئے صدیق الفاروق کہتے ہیں کہ ’گوہر ایوب صاحب ہاک تھے، ڈوو نہیں تھے۔‘تاہم 1999 میں اس وقت فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف کے نواز شریف کا تختہ الٹنے کے کچھ عرصے بعد گوہر ایوب ان کی بنائی گئی جماعت مسلم لیگ ق میں چلے گئے۔اس حوالے سے صدیق الفاروق کا کہنا تھا کہ ’انہیں اقتدار چاہیے تھا، نواز شریف چلے گئے تھے اور پرویز مشرف آ گئے تھے، اس لیے وہ کنگز پارٹی میں چلے گئے۔‘
اپنی وفات سے کئی برس قبل ہی گوہر ایوب نے عملی سیاست کے میدان سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔ ان کے بیٹے عمر ایوب ان کی جگہ اپنے آبائی حلقے سے سیاست کر رہے تھے۔انہوں نے بھی پہلے مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کی اور پھر پاکستان تحریک انصاف میں چلے گئے۔اس وقت جب پاکستان تحریک انصاف زِیرعتاب ہے تو عمر ایوب اس کے سیکریٹری جنرل ہیں۔
