فاطمہ سہیل کے بعد عائشہ سہیل کا بھی شوہر پر تشدد کا الزام

معروف ماڈل اور اداکارہ فاطمہ سہیل کی جانب سے اپنے اداکار شوہر محسن عباس پر تشدد کے الزامات کے بعد ان سے طلاق حاصل کرنے کے بعد اب انکی بڑی بہن اور اینکر پرسن عائشہ سہیل نے بھی اپنے شوہر اور اینکر پرسن بیرسٹر احتشام پر گھریلو تشدد کا الزام عائد کر دیا ہے۔

عائشہ سہیل ماضی میں بطور نیوز اینکر جیو نیوز کے ساتھ وابستہ رہی ہیں اور آج کل وہ چینل ٹونٹی فور پر سلیم بخاری کے ساتھ کرنٹ افیئرز کا شو کر رہی ہیں۔ عائشہ نے اپنے شوہر اینکر۔پرسن بیرسٹر احتشام امیرالدین پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ شادی کے بعد سے ان کو تشدد کا نشانہ بنا رہا تھا جس کے بعد انہوں نے کچھ برس پہلے شوہر کا گھر چھوڑ دیا تھا۔

اس کے بعد عائشہ سہیل نے احتشام کے خلاف تھانے میں مار، پیٹ کا مقدمہ بھی درج کروایا تھا۔ عائشہ نے موقف اپنایا تھا کہ وہ شوہر کے تشدد سے تنگ آ گئی تھیں اور اسی لیے الگ رہائش بھی اختیار کر لی تھی۔ لیکن بچوں سے ملاقات کا بہانہ بنا کر ان کا شوہر رات گئے ان کے گھر آتا اور وہاں بھی انہیں تشدد کا نشانہ بناتا۔ عائشہ کی جانب سے درج کرائی گئی ایف آئی آر کے متن کے مطابق ان کے شوہر نے کچھ ماہ پہلے انہیں بچوں سمیت رات کو دو بجے گھر سے دھکے دے کر نکال دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انکا شوہر شادی کے بعد سے ہی ان کے ساتھ مسلسل مار پیٹ کرتا رہا لیکن وہ والدین کی عزت اور بچوں کی خاطر یہ ظلم برداشت کرتی رہیں۔

عائشہ سہیل نے بتایا کہ تشدد کے آخری واقعے میں احتشام انکے گھر میں زبردستی داخل ہوا اور آتے ہی انہیں مارنا پیٹنا شروع کر دیا، ملزم نے مجھے تھپڑ مارے، بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا اور گلا دبانے کی کوشش کی، وہ مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیتا رہا اور اسلحہ دکھا کر دھمکاتا رہا، بعد ازاں بچوں اور ملازمہ کے شور مچانے پر احتشام دھمکیاں دیتا ہوا فرار ہو گیا۔ عائشہ سہیل نے ایف آئی آر میں یہ بھی الزام لگایا کہ ان کے دیور حشام امیر الدین نے اپنے کزن عمر اور افروز کے ساتھ مل کر ان کے بچوں کو اغوا کرنے کی بھی کوشش کی، خاتون اینکر کی درخواست پر پولیس نے ان بیرسٹر حشام امیرالدین کے خلاف مقدمہ درج کر لیا تھا۔

واضح رہے کہ عائشہ سہیل کی بہن فاطمہ سہیل کی شادی ڈی جے محسن عباس سے ہوئی تھی، اور ان دونوں کی شادی بھی گھریلو تشدد کے الزامات پر ٹوٹ گئی تھی، فاطمہ سہیل نے بھی سابق شوہر ڈی جے محسن عباس پر گھریلو تشدد کے الزامات عائد کیے تھے، جس کے بعد محسن کافی عرصہ سوشل میڈیا ٹرولنگ کا نشانہ بنتے رہے، 24 جولائی 2019 کو مقامی پولیس نے ڈی جے محسن عباس کے خلاف گھریلو تشدد کا مقدمہ درج کیا تھا۔

Back to top button