آسیہ بی بی نے فرانس کی شہریت لینے کی خواہش کر دی

پاکستان میں اہانت مذہب کے الزام میں کئی سال قید رہنے اور سزائے موت کا سامنا کرنے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کا کہنا ہے کہ فرانس میں رہنا سب سے بڑی خواہش ہے اور اسی لئے وہ فرانسیسی حکومت سے سیاسی پناہ کی طلبگار ہیں ۔
2018 میں اپنے خاندان کے ساتھ کینیڈا منتقل ہونے کے بعد آسیہ بی بی کا فرانس کا پہلا دورہ تھا۔ جہاں ایک انٹرویو میں آسیہ بی بی کا کہنا تھا کہ فرانس میں رہنا میری سب سے بڑی خواہش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فرانس وہ ملک ہے جہاں مجھے نئی زندگی ملی ہے۔ اینی ایزابیل میرے لیے ایک فرشتہ ہیں۔ان کا اشارہ فرانسیسی صحافی اینی ایزابیل ٹولے کی جانب تھا جنہوں نے آسیہ بی بی کی رہائی کے لیے ایک طویل مہم چلائی اور بعد میں ان کے ساتھ اس بارے میں کتاب بھی لکھی۔
منگل کو پیرس کے میئر اینی ہڈالگو کی جانب سے آسیہ بی بی کو اعزازی شہریت دینے کا سرٹیفیکیٹ پیش کیا جائے گا۔ 2014 میں جب آسیہ بی بی کو اعزازی شہریت دینے کا اعلان کیا گیا تھا تو وہ اس وقت جیل میں تھیں۔آسیہ بی بی کا کہنا ہے کہ فرانسیسی صدر ایمونوئل میکروں کے ساتھ ان کی کوئی ملاقات طے نہیں ہے ’لیکن میں چاہوں گی کہ صدر میری درخواست سنیں۔اپنی کتاب میں آسیہ بی بی نے جیل میں خود پر گزرنے والی مشکلات کو بیان کیا ہے۔ انہیں عالمی برادری کی جانب سے اس سلوک کے خلاف دباؤ کے بعد 2018 میں رہا کیا گیا تھا۔ان کی رہائی پر پاکستان میں احتجاج کیا گیا تھا جہاں مسیحوں کو اکثر تشدد کا سامنا رہتا ہے۔
رہائی ملنے کے بعد وہ اپنے خاندان کے ساتھ کینیڈا منتقل ہو گئیں تھیں جہاں وہ پولیس کی حفاظت میں کسی نامعلوم مقام پر رہائش پذیر ہیں۔آسیہ بی بی کہتی ہیں کہ میں کینیڈا کی بہت شکرگزار ہوں۔ وہ چاہتی ہیں کہ وہ اینی ایزابیل کے ساتھ مل کر جدوجہد کریں تاکہ پاکستان میں اہانت مذہب کے الزام میں قید افراد کو رہا کرایا جا سکے۔
یاد رہے کہ آسیہ بی بی پر 2009 میں اس وقت اہانت مذہب کا الزام لگایا گیا تھا جب کھیتوں میں کام کرتے ہوئے ان کے ساتھی خواتین مزدوروں نے مسیحی ہونے کے باعث انہیں پانی دینے سے انکار کیا۔ اس معاملے پر ہونے والی تکرار کے بعد ایک مسلمان خاتون نے ایک مقامی مذہبی رہنما کو بتایا کہ آسیہ بی بی نے پیغمبر اسلام کے خلاف اہانت آمیز الفاظ ادا کیے۔
چیف جسٹس آف پاکستان سے ڈرامائی بریت کے باوجود انسانی حقوق کے لیے سرگرم افراد کا کہنا ہے کہ آسیہ بی بی کو عمر بھر شدت پسندوں سے جان کا خطرہ لاحق رہے گا جو انہیں پھانسی دینے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔آسیہ بی بی نے اپنی کتاب میں جیل میں اپنے ساتھ ہونے والے بدترین اور زلت آمیز سلوک کی تفصیلات بیان کی ہیں۔وہ اپنی نئی زندگی کو اپنانے کی راہ میں حائل مشکلات کا بھی ذکر کرتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ کس طرح اپنے والد اور خاندان کے باقی افراد سے سے دور رہتے ہوئے وہ ایک کرب کا شکار ہیں۔ آسیہ بی بی کہتی ہیں کہ پاکستان میرا ملک ہے اور مجھے اپنے ملک سے محبت ہے لیکن میں ہمیشہ کے لیے جلا وطن ہو چکی ہوں۔
