فردوس اعوان نے فرنٹ مین کے ذریعے کروڑوں کی کمیشن کھائی

معلوم ہوا ہے کہ فردوس عاشق اعوان کو وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات کے عہدے سے تب برطرف کیا گیا جب خفیہ انکوائری میں یہ ثابت ہو گیا کہ انھوں نے میڈیا کو دئیے جانے والے سرکاری اشتہارات کی مد میں غبن کرنے کے لئے اپنے فرنٹ مین کے ذریعے ایک ڈمی ایڈورٹائزنگ ایجنسی بنا رکھی تھی جسے اب تک 15 کروڑ روپے دئیے جاچکے تھے۔
حال ہی میں اپنے عہدے سے برطرف کی جانے والی فردوس عاشق اعوان کی چھٹی کرائے جانے کی بڑی وجہ ان الزامات کا ثابت ہونا ہے کہ انہوں نے اپنی پوزیشن کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے قواعد کے برعکس کمیشن کھانے کے لیے اپنے فرنٹ مین منیر گوندل کی ایڈورٹائزنگ ایجنسی وفاقی حکومت کے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ رجسٹر کروائی اور پھر ملک کی دیگر دس اہم ترین رجسٹرڈ اشتہاری ایجنسیوں کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے صرف اسی ایک ایجنسی کے ذریعے سرکاری خزانے سے تقریبا پندرہ کروڑ روپے کے اشتہارات جاری کیے۔ کہا جاتا ہے کہ کمیشن کی مد میں منیر گوندل کی ایجنسی کو تقریبا چھ کروڑ روپے ملے جسے انہوں نے فردوس آپا کے ساتھ ففٹی ففٹی بانٹ لیا۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے ہے کہ کپتان حکومت کے پہلے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے نے ڈمی ایڈورٹائزنگ ایجنسیوں کا خاتمہ کرکے صرف دس مستند ایڈورٹائزنگ کمپنیوں کو کام کرنے کی اجازت دی تھی اور ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ جب بھی حکومت سرکاری اشتہارات جاری کرے گی، تو انہی دس مستند اور رجسٹرڈ اشتہاری ایجنسیوں کے ذریعے جاری کیے جائیں گے۔ تاہم چند مہینوں بعد فواد چوہدری اس عہدے سے ہٹا دئیے گئے اور بعد میں فردوس عاشق کو پنکی پیرنی کی تگڑی سفارش پر وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات لگادیاگیا۔ فردوس عاشق نے جب دیکھا کہ سرکار اشتہارات جاری کرنے والی ہے تو انہوں نے اپنے فرنٹ مین منیر گوندل کے ذریعے ایک ایڈورٹائزنگ ایجنسی بنائی اور اسے رجسٹرڈ کروا لیا۔ بعد ازاں اسی کمپنی کے ذریعے پندرہ کروڑ روپے کے سرکاری اشتہارات جاری کئے گئے اور دیگر کمپنیاں منہ دیکھتی رہ گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جب وزیراعظم عمران خان کو اس معاملے کی بھنک پڑی تو انہوں نے اس کی خفیہ انکوائری کروائی۔ انکوائری میں یہ بات سامنے آئی کہ فردوس عاشق اعوان نے سرکاری اشتہارات سے تقریبا چھ کروڑ کمیشن اکٹھا کیا جس میں سے تین کروڑ روپے انہوں نے خود رکھے اور باقی رقم اپنے فرنٹ میں منیر گوندل کو دے دی۔
اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ فردوس عاشق عوان پر صرف ایڈورٹائزنگ کمپنیوں کے معاملے میں کرپشن ثابت نہیں ہوئی بلکہ انہوں نے وفاقی سیکرٹری اطلاعات سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ وہ ان کے کچن کا خرچہ اٹھائیں۔ ایسا نہ کرنے پر انہوں نے پہلے ایک خاتون وفاقی سیکرٹری کو تبدیل کروایا اور بعد میں آنے والے سیکرٹری سے بھی یہی مطالبہ کیا جس نے وزیراعظم کو سارے معاملے سے آگاہ کردیا۔ اس کے علاوہ فردوس عاشق اعوان نے جس طرح پی ٹی وی اور دیگر اداروں سے ناجائز مراعات حاصل کیں اس حوالے سے بھی وزیراعظم کو سخت شکایت تھی۔ کہا جاتا ہے کہ ایک میٹنگ میں پی ٹی وی کے ایم ڈی ارشد خان نے جب فردوس عاشق اعوان کی شکایت کرنا چاہی تو انہوں نے بری طرح مداخلت کی جس پر کپتان نے انتہائی ناگواری کا اظہار کیا۔ میٹنگ میں موجود بعض شخصیات نے بتایا کہ وزیراعظم کی جانب سے بار بار بولنے سے منع کرنے کے باوجود جب فردوس عاشق اعوان چپ نہ ہوئیں تو کپتان ان پر باقاعدہ چیخ پڑے اور انہیں میٹنگ روم سے نکال دینے کی دھمکی بھی دی۔
اس میٹنگ کے بعد فردوس عاشق نے کپتان سے ملاقات کرکے وضاحت دینے کی کوشش کی لیکن خود کو کلیئر نہ کر سکیں۔ کہا جاتا ہے کہ فردوس عاشق کو معاون خصوصی لگوانے میں وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ پنکی پیرنی کا بڑا ہاتھ ہے تاہم جب فردوس عاشق کے خلاف کرپشن کی رپورٹ سامنے آئی تو وزیراعظم نے کسی بھی مصلحت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انہیں عہدے سے فارغ کر کے شبلی فراز کو وفاقی وزیر اطلاعات جبکہ فردوس عاشق کی جگہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کو معاون خصوصی برائے اطلاعات لگا دیا ہے۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ فردوس عاشق کی جس انداز سے کابینہ سے رخصتی ہوئی ہے اب یہ خاصا مشکل نظر آتا ہے کہ وہ مزید تحریک انصاف کے ساتھ چل سکیں کیونکہ سیالکوٹ کی مقامی سیاست اور پارٹی امور کے حوالے سے بھی تحریک انصاف کے پرانے کارکنوں اور رہنماؤں کو فردوس عاشق اعوان کے کردار کے حوالے سے کئی تحفظات تھے جن کا وہ وزیر اعظم کے سامنے اظہار بھی کر چکے ہیں۔ فردوس عاشق اعوان کو وزارت اطلاعات چلانے میں معاونت فراہم کرنے والے کئی اعلیٰ افسران اور تحریک انصاف کے رہنماؤں نے نجی محفلوں میں شکوہ کیا کہ فردوس عاشق نے احسان فراموشی کرتے ہوئے ہوئے انہیں کی جڑیں کاٹیں اور بالآخر مکافات عمل کا شکار ہوگئیں اور بے آبرو ہو کر کابینہ سے نکلیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button