شبلی فراز وزیر اطلاعات، عاصم سلیم باجوہ معاون خصوصی اطلاعات مقرر

فردوس عاشق اعوان کی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے مشہور انقلابی شاعر احمد فراز کے صاحبزادے سینیٹر شبلی فراز کو وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مقرر کیا ہے جبکہ معاون خصوصی اطلاعات فردوش عاشق اعوان سے انکا عہدہ واپس لے لیا گیا۔ انکی جگہ سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین اور پاک فوج کے سابق ترجمان لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کو وزیر اعظم کا نیا معاون خصوصی برائے اطلاعات مقرر کردیا گیا ہے۔
عاصم سلیم باجوہ اس وقت چائنا پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) اتھارٹی کے چیئرمین کے عہدے پر کام کررہے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم اس سے قبل جون 2012 سے دسمبر 2016 تک ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر (بین الخدماتی تعلقات عامہ) خدمات سر انجام دے رہے تھے۔ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم فوج کے وہ واحد افسر ہیں جو ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر کے عہدہ سے ریٹائرڈ ہونے سے پہلے جنرل ہیڈ کوارٹر میں پوسٹ ہوئے تھے۔ جنرل باجوہ نے 1984میں فوج میں کمیشن حاصل کیا۔ وہ کمانڈ اینڈ سٹاف کالج، کوئٹہ اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی، اسلام آباد سے فارغ التحصیل ہیں۔ انھوں نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی، اسلام آباد سے وار سٹڈیز میں اور کنگز کالج لندن سے ڈیفنس سٹڈیز میں ایم کی ڈگریاں حاصل کیں۔ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم نے تمغہ بسالت اور ہلال امتیاز جیسے اہم اعزازات حاصل کیے ہیں۔
معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کو عہدے سے ہٹانے پر وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے اپنے ردعمل میں کہا کہ ایک سچے اور باوقار شخص شبلی فراز کو وزیراطلاعات مقرر کیا گیا ہے۔ اسی طرح باصلاحیت آدمی عاصم سلیم باجوہ کو معاون خصوصی اطلاعات مقرر کیا گیا ہے۔ دونوں افراد مل کر اپنی اچھی ٹیم بنائیں گے۔
Truly an honorable and dignified man @shiblifaraz has been appointed new Information minister of Pak, and a brilliant @AsimSBajwa appointed SAPM on info both ll make a great team…. all the best
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) April 27, 2020
واضح رہے معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان حکومتی بیانیے کو اس طرح سے بیان نہیں کرتی تھیں جس سے اپوزیشن جماعتیں بھی خوش نہیں تھیں۔ بلکہ جہاں حکومت اپوزیشن کے ساتھ کچھ معاملات کو سیدھا کرتی تھیں، وہاں کچھ دیر بعد فردوس عاشق اعوان ان معاملات کو پھر سے الجھا دیتی تھیں۔جس کا نتیجہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تناؤ کی صورت نکلتا۔ اسی طرح فردوس عاشق اعوان میڈیا کے ساتھ بھی اپنے تعلقات کو بحال کرنے میں ناکام رہیں۔ تحریک انصاف کے اندر بھی لوگ فردوس عاشق کیلئے کوئی اچھا بیانیہ نہیں رکھتے تھے۔ پی ٹی آئی ارکان ان کو دوسری جماعت کی کھلاڑی اور کارکردگی کے لحاظ سے نااہل سمجھتے تھے۔ جنوری اور فروری میں ہی فردوس عاشق اعوان کے جانے کی اطلاعات تھیں کرونا وائرس کے باعث ان کو رخصتی میں تھوڑا وقت مل گیا تھا لیکن کورونا کی صورتحال میں بھی فردوس عاشق اعوان خود کو منوانے میں ناکام نظر آئیں۔
