فردوس عاشق اعوان نے تھپڑ والے معاملے پر وضاحت جاری کردی

پنجاب حکومت کی ترجمان ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور پیپلز پارٹی کے رہنما اور ایم این اے عبد القادر مندوخیل کے درمیان ایک ٹی وی شو کے سیٹ پر ہاتھا پائی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے وضاحت کی ہے کہ انہیں اپنے دفاع میں انتہائی اقدام اٹھانا پڑا۔
فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہےکہ نجی چینل کے ٹاک شو میں قادر مندوخیل سے بحث کا صرف ایک رخ دکھا جارہا ہے۔ ٹوئٹر پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ قادر مندوخیل نے غلیظ زبان استعمال کی تھی جسے ویڈیو کاحصہ نہ بناکریک طرفہ پروپیگنڈا کیاجارہاہے۔ فردوس عاشق نے دعویٰ کیا کہ مندوخیل نے نہ صرف انہیں بلکہ ان کے والد کو گالیاں دی تھیں، ایسے بدتہذیب سیاست اور معاشرے کے چہرے پر بدنما دھبے ہیں، قادر مندوخیل کے رویے اور عمل کے خلاف جلد قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔ فردوس عاشق نے نجی چینل سے درخواست کی کہ معاملے کی مکمل ویڈیو سامنے لائے۔
ٹاک شو کے دوران پیپلزپارٹی کے قادر مندوخیل کی جانب دھمکیاں دی گئیں۔ قادر مندوخیل نے بدزبانی اور بدکلامی کرتے ہوئے میرے مرحوم والد اور مجھے گالیاں دیں۔ اپنے دفاع میں مجھے انتہائی قدم اٹھانا پڑا! قانونی ٹیم سے مشاورت کےبعد قادر مندوخیل کےخلاف قانونی چارہ جوئی کی جائیگی۔ pic.twitter.com/7AbDNMaHV0
— Dr. Firdous Ashiq Awan (@Dr_FirdousAwan) June 9, 2021
دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما عبد القادر مندوخیل نے کہا کہ میں نے فردوس عاشق اعوان کے بارے میں سُن رکھا تھا لیکن مجھے اتنا اندازہ نہیں تھا کہ وہ اس حد تک پہنچ سکتی ہیں۔ کل مطالبات کے حوالے سے مزدوروں کی ہڑتال تھی، میں لاہور میں وہیں موجود تھا جہاں سے میں پروگرام میں شرکت کےلیے گیا۔ انہوں نے کہا کہ پروگرام میں آدھے گھنٹے تک فردوس عاشق اعوان نے کسی کو بات نہیں کرنے دی ، اور وہ خود ہی حکومت کے حوالے سے گفتگو کرتی رہیں، جب مسلم لیگ ن کی رہنما عظمیٰ بخاری نے بولنا چاہا تو انہیں بھی نہیں بولنے دیا ، جب میری باری آئی تو پھر فردوس عاشق اعوان نے بولنا شروع کر دیا، میں نے ان سے کہا کہ فردوس باجی آپ نے آدھا گھنٹہ بات کر لی ہے، مجھے بھی بولنے دیں، میں بھی اپنی پارٹی کے بارے میں بولنا چاہتا ہوں جس پر انہوں نے کہا کہ آپ کیا بولیں گے، آپ کی پارٹی تو سر سے لے کر پاؤں تک کرپشن میں ڈوبی ہوئی ہے جس پر میں نے ان سے کہا کہ جس حکومت کو آپ کرپٹ کہہ رہی ہیں آپ خود بھی اس حکومت کی وزیر رہ چکی ہیں۔ فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ میں نے پارٹی چھوڑ دی تھی جس پر میں نے ان سے کہا کہ آپ نے اطلاعات کی وزارت بھی تو چھوڑ دی تھی، میرے پاس کلپ موجود ہے کہ آپ نے دس فیصد کمیشن مانگا تھا، سیالکوٹ میں جو غبن ہوا ہے وہ بھی سب کے سامنے ہے، میرے اتنا کہنے پر فردوس عاشق اعوان نے مجھے ماں، باپ اور بہن کی گالیاں دیں، میں خاموش رہا اور برداشت کرتا رہا۔ آخر میں کھڑی ہو کر انہوں نے تھپڑ رسید کیا اور میرا گریبان بھی پکڑا، میں ان کے اس فعل پر حیران تھا اور میں نے سوچا کہ یہ خاتون ہیں اب میں انہیں کیسے ہاتھ لگاؤں، تھوڑی دیر کےلیے میں نے اُن کا ہاتھ ضرور روکا تھا لیکن انہوں نے خاتون ہونے کا ناجائز فائدہ اُٹھایا۔ مجھے اس بات پر بھی حیرانی ہوئی کہ چینل کی جانب سے بھی کسی نے بیچ بچاؤ نہیں کروایا۔ بریک میں بھی فردوس عاشق اعوان نے گالم گلوچ کی۔ جب میں جانے لگا تو پھر بھاگتے ہوئے میرے پیچھے آئیں اور مجھ سے کہا کہ تم کہاں جا رہے ہو؟ میں پولیس کو بلاتی ہوں جس پر میں نے ان سے کہا کہ آپ مجھے پولیس سے نہ ڈرائیں۔ عبد القادر مندوخیل نے فردوس عاشق اعوان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ جو کلپس سامنے آئے ہیں اُس میں واضح ہے کہ میں نے ان کو کرپٹ کہا ہے، ان کے اپنے لوگ ان کو کرپٹ کہتے ہیں اور اسی وجہ سے انہیں مرکز میں وزارت اطلاعات سے ہٹا دیا گیا تھا۔ انہوں نے مجھے کورٹ لے جانے کی بھی دھمکی دی جس پر میں نے ان سے کہا کہ جی آپ کورٹ لے جائیں میں وہاں بھی ثبوت پیش کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ فردوس عاشق اعوان کی تربیت ایسی ہوگی میری تربیت ایسی نہیں ہے کہ میں ایسے لوگوں کو جواب دوں۔ فردوس عاشق اعوان نے بیچ بچاؤ کروانے کےلیے آنے والے چینل کے عملے کو بھی کپ اُٹھا کر مارنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ میں اُس چینل سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ کلپ بھی جاری کریں جہاں یہ گالیاں دے رہی تھیں۔ اگر یہ چاہتی ہیں کہ یہ خود جو مرضی کہہ لیں اور کوئی ان کی کرپشن پر بھی بات نہ کرے تو ایسا ممکن نہیں ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ رات نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں شرکت کے دوران وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما عبدالقادر مندو خیل کو بحث میں گرما گرمی ہونے پر تھپڑ رسید کر دیا اور گالم گلوچ بھی کی۔ دونوں سیاسی رہنماؤں میں لڑائی ہونے کے بعد شو کو آف ایئر کر دیا گیا تھا۔
