فردوس عاشق عرف بونگی آنٹی کن الزامات پر فارغ ہوئیں؟

بونگی آنٹی کی عرفیت سے معروف وزیراعظم کی سابقہ غیر منتخب معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو ہٹائے جانے کی بنیادی وجہ ان کی نااہلی کے علاوہ ان پرکرپشن کے سنگین الزامات بھی بتائے جاتے ہیں۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے فردوس عاشق کے خلاف شکایات پر ایکشن لیتے ہوئے نہ صرف انہیں ڈی نوٹیفائی کرتے ہوئےعہدے سے ہٹایا ہے بلکہ ان کے خلاف کرپشن الزامات پر باقاعدہ انکوائری کا حکم بھی جاری کیا ہے۔ 27 اپریل کو وزیراعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کی کابینہ سے اچانک رخصتی کے اعلان نے سب کو حیران کر دیا کیونکہ انہیں فرسٹ لیڈی بشریٰ بی بی عرف پنکی پیرنی کے کافی قریب سمجھا جاتا تھا۔ گو کہ وزیراعظم کی حکومت کے پونے دو سال میں کابینہ میں کئی بار تبدیلیاں ہو چکی ہیں مگر یہ تبدیلی اس لیے مختلف ہے کہ اس میں صرف معاون خصوصی برائے اطلاعات کی چھٹی نہیں ہوئی بلکہ ایک اہم وزارت میں دو بڑے ناموں کی آمد ہوئی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات کے بڑے عہدے کے لیے سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز اور وزیراعظم کے معاون خصوصی کے طور پر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عاصم سلیم باجوہ کا انتخاب خاصا حیران کن اور غیر متوقع تھا۔
تاہم یہاں یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی یوں بغیر کسی پیشگی اطلاع کے اچانک وزارت اطلاعات سے چھٹی کی نوبت کیوں آئی؟ اس حوالے سے اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر فردوس عاشق پر ایک بڑا الزام یہ ہے کہ وہ اپنے شہر سیالکوٹ کے حلقے میں جاری ترقیاتی سکیموں میں ٹھیکیداروں سے پچیس فیصد کمیشن وصول کر رہی تھیں۔ اس کے علاوہ ان پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے میڈیا کے لیے مختص حکومتی اشتہاری بجٹ سے بھی کمیشن لینے کی کوشش کی۔ یاد رہے کہ پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں بھی فردوس عاشق اعوان وزارت اطلاعات و نشریات کی وزیر تھی اور انہیں تب بھی کرپشن کے الزامات پر ہٹایا گیا تھا خصوصا جب انہوں نے تب کے پریس انفارمیشن آفیسر اور موجودہ پیمرا چئیرمین محمد سلیم سے رشوت کا مطالبہ کیا۔
ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے خلاف چارج شیٹ کے مطابق فردوس عاشق نے سرکاری ٹی وی کے کوٹے پر ضرورت سے زائد ملازم بھرتی کیے۔ انہوں نے بغیر منظوری کے 2 سیکیورٹی گارڈز سمیت اپنے ساتھ 9 ملازم رکھے ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ فردوس عاشق نے 3 سرکاری گاڑیاں لے رکھی تھیں جس کی ان کو اجازت نہیں تھی۔ کہا جاتا ہے کہ جب وزیراعظم کو فردوس عاشق کی مبینہ کرپشن کے حوالے سے رپورٹ پیش کی گئی تو کپتان نے انہیں فوراً عہدے سے ہٹاتے ہوئے ان کے خلاف باقاعدہ انکوائری کا حکم جاری کردیا۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ فردوس عاشق اعوان اپنی انہی حرکتوں کی وجہ سے گزشتہ کئی مہینوں سے وزارت اطلاعات کے معاملات پر اپنا کنٹرول کھو چکی تھیں اور صرف حکومتی ترجمانی تک محدود ہو کر رہ گئی تھیں۔ اخبارات کے سرکاری اشتہارات کے معاملے میں اے پی این ایس وغیرہ کے حکومت کے ساتھ مذاکرات میں بھی اب ڈاکٹر فردوس عاشق کی جگہ حکومت کی نمائندگی ڈاکٹر شفقت محمود کرتے تھے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے وزارت کے معاملات پر اختیارات کتنے کم ہو چکے تھے۔ اس کے علاوہ وزارت اطلاعات کے متعلقہ کئی شعبہ جات یعنی اے پی پی ،پی ٹی وی، پیمرا وغیرہ کے معاملات درست کرنے کی بجائے فردوس عاشق اعوان کا زیادہ زور اپنی مراعات وغیرہ پر ہوتا تھا اور وزارت کے معاملات کی طرف ان کی زیادہ توجہ نہیں تھی۔
حکومت سے تعلق رکھنے والے وزرا اور اراکین اسمبلی بھی اکثر یہ گلہ کرتے نظر آتے تھے کہ فردوس عاشق اعوان کا عہدہ وفاقی وزیر کے مساوی ہونے کے باوجود وہ اپنی نااہلی کی وجہ سے تحریک انصاف حکومت کا امیج بہتر بنانے کی بجائے پارٹی کے لئے مشکلات پیدا کیں۔ فردوس عاشق نے کئی مواقع پر عوامی سطح پر لا یعنی اور بونگی گفتگو اور نازیبا کلمات ادا کرکے حکومت کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا۔ حالیہ دنوں فردوس عاشق اعوان کا ایک کلپ بہت وائرل ہوا جس میں وہ احساس پروگرام سے مستفید ہونے والے غریب خاتون کا ٹھٹھا لگاتے ہوئے یہ پوچھتی نظر آئیں کہ تمہارے اتنے زیادہ بچے کیوں ہیں کیا تمہارا شوہر اس کے علاوہ اور کوئی کام نہیں کرتا؟
اس کے بعد ان کا سوشل میڈیا پر ایک اور کلپ وائرل ہوا جس میں وہ اپنی ٹانگوں کی طرف اشارہ کر کے بتا رہی تھیں کہ لوگ فیس ماسک سے اپنا چہرہ تو کور کر لیتے ہیں لیکن کرونا وائرس نیچے سے بھی اوپر کو چڑھ جاتا ہے۔
فردوس عاشق اعوان کی انہی باتوں کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں انہیں بونگی آنٹی کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ فردوس عاشق پر تحریک انصاف والوں کو ایک بڑا اعتراض یہ تھا کہ وہ غیر منتخب ہیں اور پارٹی میں آنے سے پہلے مسلم لیگ قاف اور پیپلزپارٹی کے ساتھ بھی بیوفائی کر چکی ہیں۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ فواد چوہدری کو فارغ کر کے فردوس کو معاون خصوصی برائے اطلاعات لگوانے میں کپتان کی اہلیہ پنکی پیرنی کا اہم کردار تھا۔ یہی وجہ ہے کہ فردوس عاشق نے تقریباً ایک برس کے دوران اس عہدے پر خوب من مانیاں کیں اور تحریک انصاف کو وہ نقصان پہنچایا جو شاید اپوزیشن بھی نہ پہنچا سکی۔ تاہم جب کپتان کو اپنی معاون خصوصی کے خلاف کرپشن کی رپورٹ موصول ہوئی تو انہوں نے فردوس عاشق سے جان چھڑانے میں ہی عافیت جانی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button