فروغ نسیم اور بابر اعوان صدارتی ریفرنس پر آمنے سامنے


وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد دائر ہونے کے بعد سے وزیر قانون فروغ نسیم اور وزیر اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان کے مابین سرد جنگ میں تیزی آگئی ہے اور اسی وجہ سےسپریم کورٹ سے آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے صدارتی ریفرنس دائر کرتے وقت بھی وزارت قانون کو نظرانداز کردیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ بابر اعوان پچھلے کئی برسوں سے اس کوشش میں ہیں کہ وہ کسی طرح فروغ نسیم کی جگہ لے لیں لیکن اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ قربت کی وجہ سے فروغ کو ہٹانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ فروغ نسیم اور بابر اعوان کے مابین تازہ چپقلش کا آغاز تب ہوا جب مشیر برائے پارلیمانی امور نے وزیراعظم کو مشورہ دیا کہ آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے تاکہ باغی اراکین اسمبلی کو ووٹ دینے سے روکا جا سکے۔ لیکن وزیر قانون فروغ نسیم کا موقف تھا کہ یہ ایک غیر ضروری عمل ہو گا کیونکہ آرٹیکل 63 اے کے تحت کسی بھی رکن اسمبلی کو ووٹ کے حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم بابر اعوان کا مؤقف تھا کہ ایسا کرنا ضروری ہے اور اس معاملے پر عدلیہ سے بات بھی کی جاسکتی ہے۔ چنانچہ جب وزیراعظم نے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دے دی تو وزارت قانون کو اس معاملے سے آؤٹ کر دیا گیا۔ بابر اعوان کا۔موقف یے کہ الیکشن ایکٹ سے منسلک آرٹیکل 63 اے کے صدارتی ریفرنس کا تعلق وزارت پارلیمانی امور سے ہے جس نے تمام تر رسمی ضابطے پورے کیے ہیں اس لیے وزارت قانون کو شامل نہیں کیا گیا۔
تاہم قانونی ماہرین کا اصرار ہے کہ سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کرنا وزارت قانون کا دائرہ کار ہے۔ وزارت قانون کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 63 اے خود آرٹیکل 63 کی وضاحت ہے جو وزارت قانون کا دائرہ کار ہے لیکن اس مسئلے پر وزارت قانون کو اندھیرے میں رکھا گیا۔ وجہ یہ ہے کہ فروغ نسیم نے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد پر ووٹ دینے کا ارادہ رکھنے والے پی ٹی آئی کے باغی اراکین کو نااہل قرار دینے کے لیے آرڈیننس جاری کرنے کی تجویز پر اعتراض کیا تھا۔ وزارت قانون کا خیال ہے کہ آرٹیکل 63 (1) پی قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین کی نااہلی سے متعلق ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ ’اس پیراگراف کے مقاصد کے لیے ‘قانون’ میں آرٹیکل 89 یا آرٹیکل 128 کے تحت جاری کردہ آرڈیننس شامل نہیں ہوگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب ہے کہ کسی بھی قانون ساز کو صدارتی آرڈیننس کے ذریعے نا اہل قرار نہیں دیا جاسکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزارت قانون سے اعتراض پر نظرثانی کرنے اور اختلاف کرنے والوں کو روکنے کے لیے ایک ‘مبہم’ آرڈیننس کا مسودہ تیار کرنے کے لیے کہا گیا تھا لیکن ’وزارت نے تعاون نہیں کیا‘۔ بعد ازاں نہ صرف وزارت قانون اور وزیر قانون کو صدارتی آرڈیننس فائل کرنے میں مشاورت سے دور رکھا گیا بلکہ اپوزیشن کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد سے متعلق اجلاس بلانے کے مطالبے پر بھی ان کی رائے نہیں لی گئی۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ صدارتی ریفرنس کا مسودہ اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے تیار کیا۔بعد ازاں وزیر اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے 1973 کے رول آف بزنس کے سیکشن 16 کے ذیلی سیکشن ’ای‘ کے تحت اسے کابینہ ڈویژن میں جمع کروایا۔ اس سیکشن میں وفاقی کابینہ کے سامنے لائے جانے والے معاملات کی وضاحت دی گئی ہے اور اس کے ذیلی سیکشن آرٹیکل 186 کی شق (1) قانونی سوالات پر سپریم کورٹ سے مشورے لینے کا حوالہ دیتی ہے۔ رول آف بزنس کے شیڈول وی بی کے سیکشن 54 کے مطابق متعلقہ ڈویژن کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی قانونی سوال پر سپریم میں ریفرنس پیش کرے۔ لیکن وزیر اعظم کے سابق معاون خصوصی برائے بیوروکریسی خواجہ ظہیر احمد کا کہنا ہے کہ آئین کے سیکشن 14 بی سے واضح ہوتا ہے کہ ہر ڈویژن کو کسی بھی قانون کی تشریح کے سلسلے میں قانون اور انصاف کے ڈویژن سے مشورہ لینا ہوتا ہے۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس دائر کرنے کے معاملے پر بابر اعوان کا موقف درست ثابت ہوتا ہے یا فروغ نسیم کا؟
