فری لانسنگ کرنیوالے طلبا مشکلات کا شکار کیوں ہیں؟

مہنگائی اور بھاری بھرکم فیسوں سے تنگ طلبا جہاں فری لانسنگ سے اخراجات کو قابو میں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہیں اس کے ساتھ تعلیمی ادروں کی جانب سے انہیں فری لانسنگ سے منع کرنے کی وارننگ نے مشکلات کو مزید بڑھا دیا ہے۔طلبہ نے فوراً اس تنبیہ کی شدید مخالفت کی، جیسے کرن خان نامی ایک صارف نے ایکس پر لکھا کہ یونیورسٹی میں ’فوٹو کاپی ہی اتنی مہنگی ہے۔ فیس کے علاوہ اتنی اسائنمنٹس اور نوٹس کے پیسے انھی کاموں سے پورے ہوتے ہیں۔ کوئی کسی بالغ کو روزمرہ کے خرچوں کے لیے پیسے کمانے سے نہیں روک سکتا۔ادارے کی وارننگ کے بعد کرن کی طرح کئی لوگوں نے ناراضی ظاہر کی۔ ایک شخص نے تو یہاں تک کہا کہ ’اگر ان کو طلبہ کی اتنی فکر ہے تو انھیں اپنی فیس کم کر دینی چاہئے، سوشل میڈیا پر شدید تنقید کے بعد ادارے نے اس ای میل کو جلد ہی واپس لے لیا اور اب سٹوڈنٹس کو بتایا گیا ہے کہ وہ ’ایک مخصوص وقت میں فری لانسنگ کر سکتے ہیں۔پشاور میں اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے طالبعلم داؤد قیوم کہتے ہیں کہ وہ اپنی تعلیم کے دوران ہونے والے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے محنت کرتے ہیں، دنیا بھر میں بیشتر طلبہ اپنے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے مختلف کام کرتے ہیں۔ پاکستان میں بھی یہ رجحان عام ہے۔کراچی کی مقامی یونیورسٹی میں کمپیوٹر سائنس کے سٹوڈنٹ انس الرحمان بطور ٹیچر ایک ادارے میں پڑھاتے بھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کبھی کبھی اُن کی اپنی پڑھائی متاثر ہوتی ہے۔کراچی کی محمد علی جناح یونیورسٹی میں گریجویشن کی ایک طالبہ بولیں کہ ’بیکنگ کا بہت زیادہ شوق ہے جو میں کر نہیں پاتی کیونکہ ٹائم مینیج نہیں ہو پاتا۔اسی طرح محمد علی جناح یونیورسٹی کراچی کے ایک طالبِ علم آفاق احمد نے بتایا کہ ’یونیورسٹی کی بہت بڑی سپورٹ ہوتی ہے جیسے جب ہماری رجسٹریشن ہوتی ہے تو ہم ایڈوائزر کو بتا دیتے ہیں کہ ہم ساتھ ساتھ جاب بھی کر رہے ہیں تو وہ ہمارے ساتھ کافی تعاون کرتے ہیں۔پشاور میں اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے ہاسٹل میں رہنے والی ایک طالبہ نے بتایا کہ لڑکیوں کو ایک مخصوص وقت کے بعد ہاسٹل سے باہر رہنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ ان کے بقول ’ہاسٹل میں رہتے ہوئے ہم فری لانس کام کرتی ہیں لیکن ہاسٹل سے باہر ہم جاب نہیں کرسکتیں۔کیریئر کونسلر سعد مسعود کہتے ہیں کہ یہ سب ترجیحات کا کھیل ہے۔ جب آپ جاب کریں گے تو کچھ وقت تو صرف ہوگا اُس پہ لیکن اگرآپ بندھے ہوئے اوقاتِ کار پر چلیں اور اپنے ٹارگٹس کو سامنے رکھیں تو ایسا ہوسکتا ہے کہ ہمیں اپنے کمفرٹ زون سے نکلنا پڑے تاکہ ہم اپنے گریڈز پہ کامپرومائز نہ کریں۔سٹوڈنٹ فری لانسنگ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہر دور میں لوگوں نے اخراجات اور دیگر وجوہات کے تحت پڑھائی کے ساتھ ساتھ کام کیا ہے، گرافک ڈیزائنر اور فوٹو گرافر محمد حسن مصطفی بتاتے ہیں کہ ’سٹوڈنٹس کو ہر وقت پیسوں کی ضرورت رہتی ہے۔ اس کام نے میرا بہت زیادہ ساتھ دیا۔ شروعات میں نے ویڈنگ فوٹوگرافی سے کی۔محمد حسن کی بیچلر ڈگری ایوی ایشن مینجمنٹ میں ہے۔ سٹوڈنٹس کو مشورہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’پاکستان میں اس کا خاطر خواہ سکوپ نہ ہونے کی وجہ سے اب یہی کام میں فُل ٹائم کر رہا ہوں، ماہرین کہتے ہیں کہ اگر متعلقہ فیلڈ میں ہی سٹوڈنٹ کو تجربہ مل جائے تو بعض اوقات مستقبل میں بہت مددگار ثابت ہوتا ہے۔سٹوڈنٹ فری لانسنگ طلبہ کو یہ سمجھنے میں بھی مدد کرتی ہے کہ مستقبل میں آپ کو کیا کام کرنا چاہئے، ایسے میں ضروری ہے کہ یونیورسٹیز بھی اپنے نظام میں لچک پیدا کریں کہ سٹوڈنٹس کے لیے پڑھائی کے ساتھ کام کرنے کی گنجائش اور آسانی پیدا ہوسکے۔
