فضائی آلودگی سے ذیابیطس کا خطرہ بڑھ گیا

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ فضائی آلودگی سے ذیابیطس جیسی سنگین بیماری بھی ہوسکتی ہے اور بعض افراد محض کچھ ہی دن میں فضائی آلودگی کے باعث بیماری کا شکار بن سکتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق امریکی یونیورسٹی کے ماہرین نے ہر عمر کے افراد پر فضائی آلودگی کے پڑنے والے اثرات کی متعدد تحقیقات اور ڈیٹا کا جائزہ لیا۔

ماہرین نے بتایا کہ فضائی آلودگی میں پائے جانا والا خطرناک کیمیکل انسان کے جسم میں داخل ہونےکے بعد طبی پیچیدگیاں بڑھاتاہے اور اس سے انسولین کی مزاحمت بھی پیدا ہوتی ہے۔

ماہرین  نے کہا کہ مذکورہ مرکب فضائی آلودگی میں پایا جاتا ہے اور اسے ’ایئربورن کیمیکل‘کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، اس کے جسم میں داخل ہونے سے بلڈ شوگر کی سطح نارمل حد سے بڑھ جاتی ہے اور جسم میں انسولین کی مزاحمت کم ہوجاتی ہے۔ چوہوں کے اندر محض 7 دن کے اندر ہی انسولین کی مزاحمت کم ہوگئی اور ان میں بلڈ شوگر کی سطح زیادہ ہوگئی، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ فضائی آلودگی ذیابیطس کا مرض بھی لاحق ہو سکتا ہے۔

 فضائی آلودگی سے متعلق کی جانے والی متعدد تحقیقات میں اسے قبل از وقت موت سمیت کئی سنگین بیماریوں کا سبب قرار دیا جا چکا ہے۔

فضائی آلودگی سے جہاں کینسر، امراض قلب، پھیپھڑوں اور سانس لینے میں مشکلات جیسی بیماریاں ہو سکتی ہیں، وہیں اس سے مرد اور خواتین بانجھ پن کا شکار بھی بن سکتے ہیں۔

Back to top button