فضلو اور مولانا ڈیزل اچانک مولانا فضل الرحمٰن کیسے بنے؟

عام انتخابات میں تمام جماعتوں کو منقسم مینڈیٹ ملنے کے بعد سیاسی میدان میں ایسے ایسے فیصلے ہو رہے ہیں جن کا ماضی میں تصور کرنا بھی محال تھا۔ ایسی ہی پیشرفت15 فروری کے روز اس وقت بھی دیکھنے میں آئی جب عمران خان کی ہدایت پر پی ٹی آئی کا وفد اسد قیصر کی قیادت میں مولانا کے در پر پہنچ گیا۔ اس پیشرفت نے جہاں سیاسی حلقوں کو حیرت میں مبتلا کر رکھا ہے وہیں سوشل میڈیا پر بھی میمز کی بھرمار ہو چکی ہے کیونکہ ماضی میں پی ٹی آئی ورکرز اور حامی مولانا فضل الرحمٰن کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں دوسری جانب مولانا کا بھی بانی پی ٹی آئی کے لیے موقف انتہائی سخت رہا ہے، مولانا عمران خان کو یہودی ایجنٹ کہتے تو بانی پی ٹی آئی جلسے جلوسوں میں مولانا کو ڈیزل، ڈیزل کہہ کر پکارتے لیکن حالیہ منظر نامے میں جبکہ بانی پی ٹی آئی نے اپی پارٹی کو مولانا سے مذاکرات کرنے کا ٹاسک دیا ہے تو اس عمل پر سوشل میڈیا صارفین کے درمیان ایک دلچسپ بحث کا آغاز ہو چکا ہے۔
مولانا سے ملاقات کے بعد پی ٹی آئی وفد میں پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر گوہر نے ایک نجی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ ہم نے مولانا کی طرف سے زبردست گاجر کا حلوہ کھایا۔ بہت خوشگوار ماحول میں ملاقات ہوئی۔ میں نے انہیں کبھی ’ڈیزل‘ کہہ کر مخاطب نہیں کیا اور ایسی باتیں کرنی بھی نہیں چاہیے‘۔
اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے صحافی خرم انصاری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’ گاجر کے حلوہ اور کھوئے والی برفی سے تحریک انصاف کے وفد کی تواضع، مولانا نے سالوں کی تلخی میں مٹھاس بھر دی، واہ کیا کہنے‘۔
مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’ پی ٹی آئی نے مولانا کی بہت تضحیک کی بہتان لگائے، گالیاں دیں آج پی ٹی آئی قیادت کو ان کے در دولت پہ حاضر ہونا ہی پڑا۔ ہر کہی بات منہ پر ہی آتی ہے، سو اسی قدر کہا جائے جتنا برداشت کر سکیں‘۔
ایک اور ایکس صارف پرویز سندھیلا نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’ مولانا فضل الرحمان سے ملنے پی ٹی آئی والے پہنچے ہیں کیا ان کا نام بگاڑنے پر اپنی لیڈر کی طرف سے معذرت کریں گے؟‘
شمع جونیجو نے پی ٹی آئی کی ایک حامی خاتون کا کلپ شیئر کر دیا جس میں خاتون کہہ رہی ہے کہ ’ اگر ڈیزل ہمارا صدر بنے گا تو ہمیں شرم آئے گی‘۔
وقاص امجد نامی ایکس صارف نے اسد قیصر اور مولانا کی ملاقات کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’ آگ ایسی لگائی کہ مزہ آگیا‘۔
صحافی سحرش قریشی نے اس ملاقات پر شاعرانہ تبصرہ کر دیا۔
پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ فلک جاوید خان نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’ آج سے فضل الرحمن کو ڈیزل کی بجائے مولانا لکھا اور پکارا جائے‘
راجہ کبیر نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ’ تصویر کا دوسرا رُخ یہ ہے کہ عمران خان جس مولانا کو مولانا تسلیم نہیں کرتا تھا اپنی ہر تقریر میں ڈیزل ڈیزل کہتا تھا آج وہی عمران خان مولانا کے در پر سجدہ ریز ہو گیا ہے اور اس کی بنیادی وجہ صرف اور صرف جیل سے رہائی اور اقتدار تک رسائی ہے۔ پس ثابت ہوا کہ حصول اقتدار ہی اصل بیانیہ ہے‘۔
صحافی سرل المیڈا نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’ مولانا فضل الرحمٰن اچانک سے پی ٹی آئی کے لیے ہیرو بن گئے‘۔
شفاعت علی نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’آج سے پی ٹی آئی ورکرز دل ہے مولانا کا ترانہ سنیں گے‘
