فضلو ڈیزل اب یہودی ایجنٹ کی جڑیں کیسے کاٹنے والا ھے؟

کہا جاتا ھے کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ھوتا مگر پاکستانی سیاست کے سینے میں دل کے ساتھ ساتھ شاید دماغ بھی نہیں ھوتا۔ اس کی ایک تازہ مثال سالہا سال تک سخت حریف رھنے والی دو سیاسی جماعتوں پاکستان تحریک انصاف اور جمیعت علما اسلام ف کا اچانک باھم شیر و شکر ھونا ھے ۔ الیکشن کے انعقاد تک عمران خان اور ان کی جماعت کی جانب سے مولانا فضل الرحمان کو جن خطابات سے سب سے زیادہ نوازا گیا وہ فضلو اور ڈیزل ہیں ۔ دوسری طرف مولانا فضل الرحمان کی طرف سے عمران خان کو تواتر سے ایک ایسا یہودی ایجنٹ قرار دیا جاتا رھا جسے سوچی سمجھی بیرونی سازش کے تحت پاکستان کی سیاست میں پلانٹ کیا گیا ۔ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ یہی مخاصمت لے کر الیکشن میں اتریں انتخابات ھوئے اور خیبر پختونخوا کے کئی حلقوں میں تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے مولانا فضل الرحمان کی جمیعت علمائے اسلام کے امیدواروں کو بری طرح شکست سے دو چار کیا کئی کی تو ضمانتیں تک ضبط کروا دیں مگر ستم ظریفی دیکھئے کہ خیبر پختونخوا میں اپنی عبرت ناک شکست کی خفت مٹانے کے لئے مولانا فضل الرحمان خود کو شکست سے دو چار کرنے والے اپنے بدترین حریف کی گود میں ہی جا بیٹھے ہیں ۔ الیکشن کے انعقاد کو چند ھی روز گزرے ہیں کہ دھاندلی دھاندلی کا شور مچاتی دونوں حریف جماعتوں نے اچانک یو ٹرن لے کر ایک دوسرے سےہاتھ ملا لیا ھے ۔ لیکن سیاسی مبصرین کا کہنا ھے کہ عمران خان کی ھدایت پر سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا مولانا فضل الرحمان سے گلے ملنا دراصل تحریک انصاف کو فائدے کی بجائے نقصان دے گا ۔
اس صورت حال پر سینئر صحافی نصرت جاوید اپنے ایک کالم میں کہتے ہیں کہ اگر مولانا فضل الرحمن نہایت شدت سے چند ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ اپنے اس دعوے کو سچا ثابت کرنے میں کامیاب ہوگئے کہ 8 فروری کے انتخابات میں سنگین بدعنوانیاں ہوئیں تو اس کا سب سے زیا دہ نقصان تحریک انصاف کو ہوگا۔ کیونکہ عمران خان کے بدترین مخالف بھی یہ تسلیم کئے بیٹھے ہیں کہ تحریک انصاف کو خیبرپختونخواہ کے عوام نے ا یک بار پھر بھاری اکثریت سے نوازا ہے۔ مذکورہ صوبے میں تحریک انصاف کی اصل حریف مولانا فضل الرحمن کی جے یو آئی تھی۔ وہ اگر دھاندلی کے الزامات ثابت کرنے میں کامیاب ہوگئی تو درحقیقت تحریک انصا ف کو خیبرپختونخواہ میں ملا ’’مینڈیٹ‘‘ بھی متنازع ہوجائے گا۔
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ مولانا کی جانب سے لگائے دھاندلی کے الزامات درحقیقت مسلم لیگ (نون) اور پیپلز پارٹی میں شامل ان کے دیرینہ دوستوں کی جانب سے حکومت سازی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کردیں گے۔ لیکن اس حقیقت کو نظرانداز کیا جارہا ہے کہ دھاندلی کے الزامات فقط تحریک انصاف کی جانب ہی سے نہیں لگائے جارہے۔ مولانا نے دل کی بات زبان پر لانے میں دو دن لگائے ہیں۔ بلوچستان میں تقریباََ ہر جماعت گزشتہ پانچ دنوں سے دھاندلی کے الزامات لگاتے ہوئے اس صوبے کی مرکزی شاہراہوں کو بند کئے ہوئے ہیں۔خیبرپختونخواہ میں اب فقط مولانا فضل ا لرحمن ہی نہیں بلکہ قوم پرست ایمل ولی خان اور محسن داوڑ کی جماعتیں بھی دھاندلی کے خلاف سڑکوں پر نکل آئی ہیں۔ایسے حالات میں یہ سوچنا ممکن نہیں کہ وفاق نہ سہی، تحریک انصاف کم از کم خیبرپختونخواہ میں صوبائی حکومت تشکیل دینے کے بعد ذرا مطمئن ہوجائے گی۔
نصرت جاوید کا کہنا ہے کہ دھاندلی کا واویلا مچانے کے باوجود تحریک انصاف اس امر کی نفی نہیں کرتی کہ خیبرپختونخواہ میں اس کی حمایت اتنی تگڑی اور گہری تھی کہ ریاستی قوت کو اس کے آگے سرنگوں ہونا پڑا۔ اس صوبے میں آئے نتائج کو آخری لمحات میں تبدیل کرنے کی کوشش نہیں ہوئی۔ اسی باعث تحریک انصاف خیبرپختونخواہ میں صوبائی حکومت تشکیل دینے کو آمادہ نظر آئی۔ علی امین گنڈاپور کو عمران خان نے وزارت اعلیٰ کے عہدے کیلئے نامزد بھی کردیا ہے۔ وفاق میں اس کے برعکس 90کے قریب امیدواروں کی فتح کے باوجود تحریک انصاف وزارت عظمیٰ کے حصول میں دلچسپی لیتی نظر نہیں آرہی۔ حکومت سازی کے برعکس فی ا لوقت اس کی ترجیح عدا لتوں کے ذریعے اپنی ’’چھینی ہوئی‘‘نشستوں کو واگزار کروانا ہے۔
نصرت جاوید سمجھتے ہیں کہ تحریک انصاف کے فیصلہ سازوں کا خیال ہے کہ شورشرابے کے ساتھ عدالتوں میں فریادوں کی بدولت وہ اپنے حمایت یافتہ امیدواروں کی تعداد میں کم از کم مزید 20افراد کا اضافہ کرسکتے ہیں۔سوال مگر یہ اٹھتا ہے کہ جب تک مطلوبہ ہدف حاصل نہیں ہوتا اس وقت تک تحریک انصاف کیا حکمت عملی اپنائے گی۔بظاہر وفاق میں حکومت سازی پر توجہ دینے کے بجائے تحریک انصاف دھاندلی کا بیانیہ پھیلانے پر توجہ مرکز رکھنا چاہتی ہے۔دریں اثناء اس خواہش کو عملی صورت دینے کی کوشش بھی ہوگی کہ مجلس وحدت المسلمین کے ساتھ کوئی ایسا بندوبست تشکیل پائے جس کے نتیجے میں تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدواروں کو ملے اجتماعی ووٹوں کی بنیاد پر قومی اسمبلی میں خواتین اور اقلیتوں کے لئے مختص زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کی جاسکیں۔ ایسا نہ ہوا تو قومی اسمبلی کا اجلاس جس روز طلب ہو اس دن تحریک انصاف کے منتخب اراکین ایوان میں جاکر حلف اٹھانے کے بجائے ریڈزون پہنچ کر دھاندلی کے خلاف دھرنا نما فضا بناسکتے ہیں۔یہ بھی ممکن ہے کہ تحریک انصاف کے منتخب اراکین ایک بڑے ہجوم کے ہمراہ ریڈ زون آئیں۔ان کے اراکین قومی اسمبلی کی عمارت میں حلف لینے داخل ہوجائیں۔ قومی اسمبلی کے گرد مگر ان کے حامی دھاندلی کے خلاف احتجاج برپا کریں اور یوں نئی قومی اسمبلی کی حلف برداری کے دن سے ایک بار پھر دھرنوں کا سلسلہ چل پڑے۔

Back to top button