فلمی دنیا کا نڈر ہیرو حقیقی زندگی میں بے موت مارا گیا

پنجابی فلموں کے لیجنڈری اداکار سلطان راہی نے 1955 میں ایک ایکسٹرا کے طور پر اپنے فلمی کیرئرکا آغاز کیا تھا لیکن پھر ایک وقت آیا جب وہ اپنا گنڈاسہ گھماتے اور گولیاں برساتے پنجابی فلموں کے واحد سپر سٹار بن گئے۔
سلطان محمد عرف سلطان راہی نے 1980 سے 1996 تک 15 برس فلمی دنیا پر راج کیا اور سات سو سے زائد فلموں میں اداکاری کرکے عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ ان میں سے بھی پانچ سو فلموں میں انہوں نے بطور ہیرو کردار ادا کیا۔ سلطان راہی 1938 میں بھارت کے شہر سہارن پور میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ راولپنڈی منتقل ہو گئے۔ سلطان راہی نے اپنے فنی سفر کا آغاز فلم ’باغی‘ سے کیا۔ فلم انڈسٹری میں آنے سے پہلے اور آنے کے بعد سلطان راہی نے بہت کشت اٹھائے۔ راولپنڈی سے والد کی ناراضی مول لے کر لاہور قسمت آزمانے آئے جہاں خاصے غیر موافق حالات میں زندگی گزارنا پڑی۔ وہ والدین سے ملنے پنڈی جاتے تو والد ان سے اپنا شوق جسے وہ شوقِ فضول گردانتے، ترک کر کے کسی جگہ نوکری کرنے کو کہتے، پر وہ راضی نہ ہوتے۔ انہیں اپنے دن پھرنے کا یقین تھا۔
بالآخر 1955میں سلطان نے لاہور میں ایک سٹیج ڈرامے سے کیریئر کا آغاز کیا۔ پھر وہ فلم سٹوڈیوز کے چکر لگانا شروع ہو گے جس سے چھوٹے موٹے کردار ملنے کی راہ ہموار ہوئی۔ ساٹھ کی دھائی کے دوران سلطان راہی فلموں میں کام کرتے رہے لیکن انہیں انڈسٹری میں کوئی خاص مقام نہ مل سکا۔ اس سفر میں ان کی حوصلہ شکنی بھی ہوئی۔ ایک معروف پروڈیوسر نے تو ان کو یہ تک کہہ دیا کہ ’تم اداکار نہیں بن سکتے‘ یہ سن کر سلطان راہی کا دل ٹوٹ گیا۔ اس کے باوجود راہی نے ہمت نہ ہاری، اور رفتہ رفتہ ان کے لیے بہار کے امکانات روشن ہونے لگے۔
70 کی دھائی میں سلطان راہی نے کامیابی کے جس سفر کا آغاز کیا وہ 80 کی دھائی میں بھی جاری رہا۔ 1971 میں آنے والی فلم ’بابل‘ میں انکو اہم کردار ملا۔ 1972 میں ریلیز ہونے والی فلم ’بشیرا‘ کو بہت پذیرائی حاصل ہوئی۔ 1975 میں ’وحشی جٹ‘ کی بھرپور کامیابی سے سلطان راہی کو بہت شہرت حاصل ہوگئی جسے 1979 میں فلم ’مولاجٹ‘ کی بے نظیر کامیابی نے پَر لگا دیے۔ اس فلم نے مقبولیت کے سارے ریکارڈ توڑ دیے۔ مولاجٹ میں سلطان راہی کا یہ ڈائیلاگ زبان زد عام ہوا ’مولے نوں مولا نہ مارے تو مولا نئیں مرسکدا۔
سابق صدر آصف علی زرداری سے ایک دفعہ ان کی سکیورٹی کے حوالے سے خطرات بارے پوچھا گیا تو انہوں نے جواب میں مذکورہ ڈائیلاگ سنا دیا۔ مولا جٹ میں مصطفیٰ قریشی نے ’نوری نت‘ کا یادگار کردار کیا، ان کا یہ ڈائیلاگ بہت مشہور ہوا ’نواں آیا اے سوہنیا؟‘ اس فلم کو ریلیز ہوئے 40 برس ہوچکے لیکن اس کا ذکر اب بھی سننے اور پڑھنے کو ملتا ہے۔
70 کی دہائی میں ’بشیرا‘ اور ’مولا جٹ‘ جیسی فلموں کی کامیابی نے سلطان راہی کو بام عروج پر پہنچا دیا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب سلطان راہی پاکستان فلم انڈسٹری کے واحد ہیرو تھے اور یہ دور کئی سال تک جاری رہا۔ ہدایت کار یونس ملک کی فلم ’مولا جٹ‘ میں ان کے کردار ’مولے‘ کو برصغیر میں زبردست شہرت ملی۔ پنجابی فلم ” بشیرا “ کی کامیابی نے انہیں سپر سٹار بنا دیا سلطان راہی اور مصطفےٰ قریشی کی جوڑی فلم کی کامیابی کی ضمانت بن گئی ان کی فلم ” مولا جٹ “ نے باکس آفس پر کامیابی کے ریکارڈ قائم کیے ان کی دیگر کامیاب فلموں میں ’ سالا صاحب، چن وریام،اتھرا پتر،ملے گا ظلم دا بدلہ، ’ وحشی جٹ ‘ ، ’ شیر خان ‘ ، ’ شعلے ‘ ، ’ آخری جنگ ‘ ،جرنیل سنگھ، دو بیگھے زمین،شیراں دے پتر اور دیگر قابل ذکر ہیں سلطان راہی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ 12اگست 1981ءکو ان کی پانچ فلمیں’ شیر خان،ظلم دا بدلہ،اتھرا پتر،چن وریام اور سالا صاحب ایک ہی روز ریلیز ہوئی تھیں ان فلموں نے کامیابی کے ریکارڈ قائم کیے تھے۔سلطان راہی نے سات سو سے زائد فلموں میں کام کیا جو کہ ورلڈ ریکارڈ ہے سلطان راہی کا نام گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں موجود ہے انہیں 150سے زائد فلمی ایوارڈز سے نوازا جا چکا ہے ۔
سلطان راہی نے مجموعی طور پر 804 فلموں میں کام کیا جن میں500سے زیادہ فلمیں پنجابی زبان میں اور 160 فلمیں اردو زبان میں بنائی گئی تھیں جبکہ 50 سے زیادہ فلمیں ڈبل ورژن تھیں ان میں سے 430 فلمیں ایسی تھیں جن کے ٹائٹل رول سلطان راہی نے ادا کئے تھے۔ سلطان راہی کی مقبول ترین فلمی ہیروئنز میں آسیہ،انجمن، صائمہ، گوری، نیلی اوربابرہ شریف قابل ذکر ہیں۔
موت سے کس کو رستگاری ہے لیکن سلطان راہی کی زندگی کا خاتمہ بڑے دردناک اور دلخراش انداز میں ہوا۔ فلم بینوں کے دلوں پر راج کرنے والے سپر اسٹار فن کے سلطان سلطان راہی کو 9جنوری 1996ءکو گجرانوالہ کے قریب نامعلوم ڈاکوﺅں نے فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ قصہ یوں یے کہ اسلام آباد سے واپسی کے دوران سلطان راہی کی گاڑی کا ٹائر پنکچر ہو گیا۔ رات کا وقت تھا۔ انکا ڈرائیور گاڑی کا ٹائر بدلنے میں مصروف تھا جب 2 ڈاکو آ گئے اور سلطان راہی سے ان کا بٹوہ چھیننے کی کوشش کی۔ اسی مد بھیڑ میں ڈاکوؤں نے ان پر فائرنگ کردی اور وہ موقع پر جاں بحق ہو گے۔ فن کے سلطان کو لاہور میں شاہ شمس قادری کے مزار میں سپرد خاک کیا گیا۔ تاہم پولیس سلطان راہی کے قاتلوں کو پکڑنے میں ناکام رہی۔ سلطان راہی کی المناک موت کے بعد پاکستان کی فلم انڈسٹری بحران کا شکار ہو گئی یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ موت کے وقت بھی سلطان راہی کی 54 فلمیں زیر تکمیل تھیں اوریہ بھی ایک ورلڈ ریکارڈ ہے۔
