فواد نے شوگر سکینڈل زدہ جہانگیر ترین کی حمایت کردی

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ چینی کے سکینڈل میں جہانگیر ترین، خسرو بختیار یا تحریک انصاف کے کسی اور رکن کا کوئی قصور نہیں تھا۔ دراصل سبسڈی دینا حکومت کا پالیسی فیصلہ تھا لیکن جس طرح ایف آئی اے کی ابتدائی رپورٹ کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا وہ بالکل نا مناسب تھا۔ فواد نے کہا کہ وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کا عہدہ ہمیشہ سے متنازع رہا ہے اور آج بھی متنازعہ یے لہذا میری تجویز ہے کہ پرنسپل سیکرٹری کے اختیارات بانٹ دیے جائیں اور تین سیکرٹری مقرر کر دئیے جائیں۔
ایک خصوصی انٹرویو میں وفاقی وزیر نے کہا کہ شوگر ہر 80 فیصد سبسڈی مسلم لیگ ن کے دور میں دی گئی لیکن ایف آئی اے کی رپورٹ کو جس انداز میں پیش کیا گیا اس سے یہ لگا کہ جیسے سارے تحریک انصاف کے ہی لوگ ملوث ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین کا کوئی قصور نہیں تھا، نہ خسرو بختیار کا کوئی قصور تھا اور نہ ہی ہمایوں اختر خان کا کوئی بڑا لین دین تھا۔ سبسڈی دینا پالیسی فیصلہ تھا اور یہ فیصلہ تین فورمز سے لیا گیا، اس طرح تو پھر سب ہی ذمہ دار ہیں۔’ایف آئی اے کی ابتدائی رپورٹ کی روشنی میں کیے گئے حکومتی فیصلوں پر فواد چوہدری نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے فرانزک رپورٹ کا انتظار کرنا چاہیے تھا، ابتدائی رپورٹ کو جس انداز میں پیش کیا گیا اس سے حکومت کو نقصان ہوا ہے۔’
خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے چینی سکینڈل پر وفاقی تحقیقاتی ادارے کی ابتدائی رپورٹ کی روشنی میں جہانگیر ترین کو زراعت کی ورکنگ کمیٹی سے برطرف کر دیا تھا جبکہ وفاقی کابینہ میں بھی بڑی تبدیلیاں کی تھیں۔ فواد چوہدری نے کہا کہ ‘جہانگیر ترین کی پارٹی کے لیے گراں قدر خدمات ہیں اور ان کا شمار پارٹی کے ان لوگوں میں ہوتا ہے جن کی وجہ سے تحریک انصاف اقتدار میں آئی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ چند لوگ جن کی وجہ سے آج تحریک انصاف اقتدار میں ہے ان میں جہانگیر ترین شامل ہیں اور انہوں نے 2013 سے پارٹی کے لیے بہت کام کیا ہے، میرے خیال میں وہ وزیراعظم کے قریب ترین لوگوں میں سے ہیں۔’
فواد چوہدری نے وزیراعظم عمران خان اور جہانگیر ترین کے تعلقات کے بارے کہا کہ ‘عمران خان کو سب سے زیادہ جہانگیر ترین ہی جانتے ہیں، اس لیے جہانگیر ترین بھی اس معاملے کی وجہ سے اپنے تعلقات عمران خان سے خراب نہیں کریں گے۔ فواد نے کہا کہ عمران خان میں یہ خرابی کہہ لیں یا کچھ بھی، اگر کوئی کرپشن میں ملوث ہوا تو وزیراعظم اس کا ساتھ نہیں دیں گے اور یہ بات جہانگیر ترین بھی جانتے ہیں اس لیے مجھے نہیں لگتا کہ وہ اپنے تعلقات عمران خان سے خراب کریں گے، ان کے تعلقات ٹھیک رہیں گے۔’
وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کے اختیارات پر بات کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ ‘جتنے بھی وزرائے اعظم گزرے ہیں ان کے پرنسپل سیکرٹریز ہمیشہ متنازع رہے ہیں۔’ ‘یہ ایک ایسا عہدہ ہے کہ جو بھی اس پر فائز رہا ہے وہ متنازع ہی ہوا ہے اور یہاں کے بعد اس کو مسائل کا ہی سامنا کرنا پڑا ہے چاہے وہ یوسف رضا گیلانی کے سیکرٹری ہوں، نواز شریف یا بے نظیر بھٹو کے پرنسپل سیکرٹری ہوں، کیونکہ یہ ایک ایسا عہدہ بن گیا ہے جو دراصل طاقت کا مرکز بن چکا ہے۔’
وفاقی وزیر فواد چوہدری نے وزیراعظم آفس میں اصلاحات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ’میری نظر میں وزیراعظم کے تین سیکرٹری ہونے چاہییں اور اصلاحات کر کے وزیراعظم آفس کی تشکیل نو کی جانی چاہیے، یہ عہدہ ایسا ہے کہ جو بھی اس پر آتا ہے وہ متنازع ہو جاتا ہے۔’
حکومتی کارکردگی اور عوامی توقعات پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ ‘احتساب کے وعدے پر تحریک انصاف کے کارکن اور وزیراعظم عمران خان مطمئن نہیں ہیں کیونکہ وہ احتساب کا وعدہ کر کے آئے تھے۔”ہم سمجھتے ہیں کہ جو ٹھوس کیسز ہیں ان کا فیصلہ ہو جانا چاہیے، پیسے واپس آنے چاہییں اور ان کو سزائیں ملنی چاہییں، لیکن ایسا نہیں ہوا اور اب لوگوں کی دلچسپی ختم ہو گئی ہے اور عوام کو اگر کوئی امید ہے تو وہ صرف عمران خان سے ہی ہے۔’
سابق وزیراعظم نواز شریف کی وطن واپسی کو تحریک انصاف کی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ ‘اس وقت حکومت کی تمام تر توجہ کورونا وائرس پر ہے اور نواز شریف کے کیس پر حکومت کی کوئی توجہ نظر نہیں آرہی۔’ انہوں نے کہا کہ میں تو خود نواز شریف کو ملک سے باہر بھیجنے کے خلاف تھا لیکن اب ان کو واپس لانا بھی ایک چیلنج ہوگا۔
