فواد چودھری کو دوبارہ وزیر اطلاعات مقرر کرنے کا فیصلہ

وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کو وفاقی وزارت اطلاعات کا قلمدان دینےکا فیصلہ کرلیا۔
ذرائع کے مطابق فواد چوہدری کو وزیر اطلاعات مقرر کرنے کے فیصلے کا اعلان جلد متوقع ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے فواد چوہدری کو وزارتِ اطلاعات کا چارج لینے کی ہدایت کردی ہے، فواد چوہدری کا قلم دان تبدیل کیے جانے کا نوٹی فکیشن جلد جاری کردیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اس وقت فواد چوہدری کے پاس وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا قلم دان ہے جب کہ شبلی فراز اس وقت سینیٹر ہیں اور وہ جلد وزیر اطلاعات بننے والے تھے تاہم اب یہ فیصلہ سامنے آیا ہے۔خیال رہے کہ فواد چوہدری وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی ہیں جبکہ اس سے قبل بھی وہ وزیر اطلاعات رہ چکے ہیں۔واضح رہے کہ شبلی فراز کے سینیٹ سے ریٹائر ہوجانے کے بعد سے کوئی بھی وزیر اطلاعات نہیں ہے۔
قبل ازیں وفاقی وزیر فواد چودھری نے کہا ہے کہ اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایک کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ مسلم لیگ (ن) احتجاجی سیاست سے باہر آ کر پیپلز پارٹی جیسی سیاست کرے۔نجی چینل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کا پی ڈی ایم کے ساتھ چلنا مشکل ہے۔ اپوزیشن کا کوئی سیاسی مستقبل نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ اپنے اپنےراستے پر چلیں گی۔فواد چودھری کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو متعدد بار اصلاحات کی دعوت دے چکے ہیں۔ استعفوں کی سیاست کا دور گزر چکا ہے۔ وزیراعظم نے سپیکر قومی اسمبلی کو الیکٹرول ریفارمز کے لیے خط لکھا ہے۔ ہم تو اپوزیشن کی تجاویز کا انتظار کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اصلاحات کی تحریک سے عوام کو فائدہ ہوگا۔ آئیے استعفوں کے بجائے اصلاحات کرتے ہیں۔ ہم تو بار بار اپوزیشن کو اصلاحات کی دعوت دے رہے ہیں۔
اس سے قبل اپنی ایک ٹویٹ میں فواد چودھری نے کہا تھا کہ پاکستان میں جمہوریت کی امید عمران خان ہیں، ان کے مقابلے میں کوئی سیاسی قد کاٹھ کا لیڈر نہیں ہے۔ بلاول اور مریم کو پاکستان کا لیڈر تسلیم کرنا جمہوریت کے منہ پر تھپڑ رسید کرنا ہو گا۔ پی ٹی آئی کو اپنی صفیں درست کرنا ہوں گی، اس ملک کا مستقبل پی ٹی آئی اور عمران خان کی کی کامیابی سے وابستہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا کوئی نظریہ نہیں ہے نہ ہی ن لیگ کوئی نظریاتی جماعت ہے۔ ایک طویل عرصہ اقتدار میں رہنے کی وجہ سے مفاداتی ٹولہ بن جاتا ہے، ان حواریوں کو نظریاتی نہیں کہا جا سکتا۔ ڈسکہ میں ن لیگ نہیں جیتی بلکہ پی ٹٰ آئی ہاری ہے اور اس کی وجوہات ہیں جن کی طرف میں پارٹی کے اندر توجہ دلاتا ہی رہا ہوں۔
