فواد چوہدری کے استعفے کا مطالبہ، عمران خان مشکل میں


وزارت عظمیٰ کے دونوں مبینہ امیدواروں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیرمنصوبہ بندی اسد عمر نے وزیراعظم عمران خان سے فواد چوہدری کے استعفے کا مطالبہ کرکے ان کو ایک امتحان میں ڈال دیا ہے خصوصاً ایسے وقت میں کہ جب ان کے اتحادی حکومت سے علیحدہ ہو رہے ہیں۔ دوسری طرف فواد چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ میں اس وقت تک وزیر رہوں گا جب تک وزیر اعظم کا اعتماد حاصل ہے اور کسی اور کی خواہش پر استعفی دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ سیاست کمزور دل حضرات کا کھیل نہیں اور اس کام کے لیے دل کڑا کرنا پڑتا ہے۔
اس سے پہلے وفاقی وزرا اسد عمر اور شاہ محمود قریشی نے عمران خان سے خصوصی ملاقات کی جس میں دونوں وزرا نے ان سےفواد چوہدری کےاستعفے کا مطالبہ کیا ہے ۔ باخبر ذرائع نے دعوٰی کیا ہے کہ دونوں اہم وزرا نے وزیر اعظم سے کہا کہ فواد چوہدری کے وائس آف امریکہ سے حالیہ انٹرویو سے لگتا ہے کہ حکومتی ناکامیوں کے ذمہ دار ہم دونوں ہی ہیں، اور یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ پارٹی اورحکومت ہماری وجہ سے ناکام ہورہی ہے۔ دونوں وزرا نے وزیراعظم کو یقین دلوایا کہ انہوں نے جہانگیر ترین کیخلاف کوئی سازش نہیں کی اور نہ ہی اس کا حصہ بنے۔ انہوں نے کہا کہ فواد چوہدری کا بیان غیرذمہ دارانہ ہے۔ اگر فواد چوہدری کیخلاف کارروائی نہ ہوئی تو نرمی کا تاثرجائےگا۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ وزیراعظم نے دونوں وزرا کی باتیں توجہ سےسنیں تاہم بولے کچھ نہیں۔
دوسری جانب فواد چوہدری کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسد عمر اور شاہ محمود قریشی وزارت عظمی کے امیدوار ہیں اور کپتان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں جس کا عندیہ وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا نے 24 اپریل کو کابینہ کے بھرے اجلاس میں دیا تھا۔ یاد رہے کہ کابینہ کے اجلاس میں فیصل واوڈا نے اسد عمر اور شاہ محمود قریشی کی طرف اشارہ کر کے وزیر اعظم سے کہا تھا کہ یہ دونوں وزارت عظمیٰ حاصل کرنے کے لئے آپ کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔
فواد کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ وزیراعظم کے وفادار ہیں اور آخری دم تک ان کا ساتھ دیں گے۔ ان کا موقف ہے کہ فواد چوہدری کے استعفے کا مطالبہ دراصل وزیر اعظم کے وفادار ساتھیوں کو کابینہ سے باہر کرنے کی سازش ہے۔ تاہم دیکھنا یہ ہے کہ اسد عمر اور شاہ محمود قریشی کی جانب سے فواد چوہدری کے استعفے کے مطالبے کے جواب میں وزیراعظم کیا حکمت عملی اختیار کرتے ہیں۔
دوسری طرف ندیم افضل چن کی جانب سے وزیر اعظم عمران کے معاون خصوصی کی حیثیت سے مستعفی ہونے کی خبریں سامنے آنے کے بعد فیصل آباد سے پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی راجہ ریاض نے بھی قومی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ دینے کا عندیہ دے دیا ہے۔ نجی ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے راجہ ریاض کا کہنا تھا کہ ہم کچھ کام نہیں کر پا رہے، لوگوں سے نوکریوں کے وعدے بھی پورے نہیں ہو سکے، جس طرح ہماری اس حکومت میں تذلیل ہو رہی ہے، میں استعفیٰ دینے پر بہت سنجیدگی سے غور کر رہا ہوں۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں اس معاملے پر اپنے دوستوں اور عزیزوں سے مشاورت کر رہا ہوں اور ان کے مشورے کے بعد ہی کوئی حتمی فیصلہ لوں گا۔
خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہر گزرتے دن کے ساتھ کمزور ہوتی جا رہی ہے، فواد چوہدری کے بیانات کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے کی صفوں میں تقسیم دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اس سے پہلے بھی راجہ ریاض پی ٹی آئی سے ناراضی اور کارکردگی کے حوالے سے بات کر چکے ہیں۔ اس سے پہلے ان کا کہنا تھا کہ اگلے الیکشن میں ہم سے بہت برا سلوک ہوگا، عوام پی ٹی آئی سے سخت ناراض ہے، عمران خان کے پاس اتنی بڑی سپورٹ تھی، پھر بھی یہ صورتحال ہے، ہم روز اپنے ڈیرے پر بیٹھتے ہیں ہمیں معلوم ہے لوگ کتنا ناراض ہیں۔ یہ گفتگو بھی انہوں نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بیٹھ کر کی تھی جس میں ان کا کہنا تھا کہ پٹرول نہ ملنے کے ذمہ دارغیرمنتخب افراد ہیں،جن سے کوئی پوچھ نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ سکھر تک موٹروے پر کوئی پٹرول پمپ نہیں۔ موٹروے سے اتر کرملتان یا لیہ سے پٹرول ڈلوانا پڑتا ہے۔ راجہ ریاض نے کہا کہ کسی سے تو پوچھا جائے کہ موٹروے پر 8 ماہ سے سہولتوں کا سسٹم کیوں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگلے الیکشن میں ہم سے بہت برا سلوک ہوگا کیونکہ لوگ ہم سے سخت ناراض ہیں۔ ان تمام ناراضگیوں کے بعد اب ایک نجی ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے راجہ ریاض نے قومی اسمبلی کی نشست سے بھی استعفیٰ دینے کا عندیہ دے دیا ہے۔ خیال رہے کہ اس سے پہلے وزیراعظم کے معاون خصوصی ندیم افضل چن کے بارے میں بھی یہ افواہیں آرہی ہیں کہ انہوں نے تحریک انصاف چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور شاید پیپلز پارٹی میں واپس جا رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button