فوجی ترجمان کی بریفنگ پر PTI قیادت کو مرچیں کیوں لگ گئی؟

اقتدار سے محرومی کے بعد گزشتہ تین برس سے تحریک انصاف کی قیادت خصوصا عمران خان نے فوج اور اسکی قیادت کے خلاف جو زہر آلود اور اشتعال انگیز بیانیہ اپنایا ہوا ہے، وہ اب کھل کر قومی سلامتی کے بیانیے سے ٹکراتا دکھائی دیتا ہے۔ تاہم جب فوجی ترجمان نے اسی طرزِ سیاست کا آئینہ ایک ڈھائی گھنٹے طویل اور مدلل پریس کانفرنس میں قوم کے سامنے رکھا تو تحریک انصاف کی قیادت بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی۔ اسلام آباد میں پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے کی پریس گئی کانفرنس اسی ردِعمل کی کڑی تھی، جس میں برسوں کی الزام تراشی کا دفاع کرتے ہوئے دہشت گردی جیسے سنگین معاملے پر اپنے متنازع مؤقف کو حب الوطنی کے خوشنما جملوں میں چھپانے اور کوے کو سفید ثابت کرنے کی ناکا۔ کوشش کی گئی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کے بعد تحریک انصاف کی قیادت نے اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے دہشت گردوں کے سہولت کار ہونے کے الزامات کو مسترد کر دیا۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان، سلمان اکرم راجا اور اسد قیصر بھی موجود تھے۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی کا ہمیشہ سے مؤقف رہا ہے کہ دہشت گردی ایک ناسور ہے اور اس پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب یا قومیت نہیں ہوتی اور ہر حملہ پورے ملک پر حملہ ہوتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت نے پولیس کی استعداد بڑھانے کے لیے اربوں روپے خرچ کیے۔
سلمان اکرم راجا نے الزامات کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان اور پی ٹی آئی دہشت گردوں کے ہمدرد نہیں ہو سکتے اور دہشت گردی کے خلاف کسی بھی پالیسی پر اتفاق رائے ضروری ہے۔

سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی سے متعلق پالیسیاں صوبائی اسمبلی کی مشاورت سے بننی چاہئیں اور خیبر پختونخوا کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ تاہم مبصرین کے مطابق تحریک انصاف کی جانب سے کی گئی یہ پریس کانفرنس دفاعی نوعیت کی تھی اور اس کا بنیادی مقصد فوجی ترجمان کے سخت مؤقف کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی دباؤ کو کم کرنا تھا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کو عسکری حلقے ایک اہم اور فیصلہ کن موڑ قرار دے رہے ہیں، جس میں دہشت گردی کے خلاف ریاست پاکستان کا غیر مبہم اور دوٹوک مؤقف کھل کر سامنے آیا۔ فوجی ترجمان نے واضح کیا کہ تحریک طالبان ایک دہشت گرد تنظیم ہے جو پاکستان میں خونریزی، بدامنی اور عدم استحکام کی براہِ راست ذمہ دار ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ابہام، کنفیوژن اور سیاسی مصلحتوں نے ماضی میں پاکستان کو شدید نقصان پہنچایا۔ انہوں نے اچھے اور برے طالبان کے تصور کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی بیانیہ دہشت گردوں کے خلاف ریاستی کارروائی کو کمزور کرتا ہے یا فوجی آپریشنز پر سوال اٹھاتا ہے، وہ دراصل دہشت گردوں کے مؤقف کو تقویت دیتا ہے۔

فوجی ترجمان نے ماضی کے مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے حامیوں کو یاد دلانا ضروری ہے کہ تحریک طالبان کے ساتھ ماضی میں چھ امن معاہدے کیے گئے اور ہر بار معاہدوں کی خلاف ورزی ٹی ٹی پی نے کی۔ انکا کہنا تھا کہ ہر بار مذاکرات کا نتیجہ امن کی بجائے مزید دہشت گردوی کی صورت میں نکلا جس کی قیمت عام شہریوں اور سیکیورٹی فورسز نے اپنی قیمتی جانوں کی صورت میں ادا کی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ریاست کی بقا کی جنگ ہے، نہ کہ کسی سیاسی جماعت کا مسئلہ، اور اس میں واضح لائن کھینچنا ناگزیر ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پی ٹی آئی اور فوجی ترجمان کے مؤقف میں بنیادی فرق یہی ہے کہ ایک طرف ریاست دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی اور واضح بیانیے کی بات کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب پی ٹی آئی اب بھی مذاکرات، مشاورت اور ’سیاسی حل‘ پر زور دے کر وہی پرانی ابہام والی پالیسی دہراتی دکھائی دیتی ہے جو ماضی میں ناکام ہو چکی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ عمران خان اور ان کی جماعت فوجی اسٹیبلشمنٹ سے سیاسی محاذ آرائی میں اس حد تک آگے جا چکی ہے کہ اس کا اثر قومی سلامتی جیسے حساس مسئلے پر بھی نظر آنے لگا ہے۔ ان کے بقول دہشت گردی کے خلاف جنگ میں آدھے سچ، مبہم مؤقف اور سیاسی بیانات ریاست کے لیے نقصان دہ ہیں، اور یہی پیغام ڈی جی آئی ایس پی آر نے پوری وضاحت کے ساتھ دیا ہے۔

Back to top button