فوجی فرٹیلائزر کو مزید پانچ سالوں تک گیس کی فراہمی کی منظوری

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے فوجی فرٹیلائزر بن قاسم کو گیس کی فراہمی کو مزید پانچ سال تک جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔
وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیرصدارت ای سی سی کے اجلاس میں 19 کروڑ روپے کی تکنیکی اضافی گرانٹ کی بھی منظوری دی گئی جس میں حکومت کے کورونا وائرس اور یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے اقدامات پر اشتہاری مہم کےلیے 15 کروڑ روپے شامل ہیں۔ سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) اور فوجی فرٹیلائزر بن قاسم کے درمیان گیس کی فراہمی کا معاہدہ گزشتہ سال 31 دسمبر کو ختم ہوگیا تھا اور حتمی طور پر 302 روپے فی ایم ایم بی ٹی ای (ملین برٹش تھرمل یونٹ) فیڈ اسٹاک کےلیے اور ایک ہزار 23 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو بجلی کی پیداوار، اسٹیم اور ہاؤسنگ کالونیز کےلیے، کے موجودہ رعایتی نرخوں پر فوجی فرٹیلائزر نے روزانہ تقریباً 8 کروڑ 30 لاکھ مکعب فٹ سپلائی جاری رکھنے کا مطالبہ کیا تھا۔ تفصیلی بحث کے بعد ای سی سی نے صرف ‘جب اور جیسے دستیاب ہوں کی بنیاد پر’ گیس سپلائی معاہدے کی تجدید کی منظوری دی اور یہ بھی کہا کہ ایس ایس جی سی ایل دسمبر 2021 تک یا پورے کھاد کے شعبے کے یکساں نرخ متعارف کرائے جانے تک فوجی فرٹیلائزر کو گیس کی فراہمی بحال رکھ سکتا ہے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب ہے کہ فرٹیلائزر کمپنی ماضی کی طرح گیس کی فراہمی کی ضمانت نہیں مل سکے گی کیوں کہ بجلی کا شعبہ گیس کی ترجیحی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے۔ ای سی سی نے ماڑی گیس کمپنی لمیٹڈ (ایم پی سی ایل) کے 18.4 فیصد حصص کی نجکاری کے تناظر میں پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے گیس پرائسنگ معاہدے کے تحت ماڑی گیس پر منافع کی تقسیم میں کیپ کے خاتمہ سے متعلق سمری کی بھی منظوری دی۔ موجودہ انتظامات کے تحت کمپنی اپنے حصص یافتگان کو 45 فیصد سے زائد منافع تقسیم نہیں کرسکتی ہے۔ اس طرح کی کمپنی ریسرچ اور ترقیاتی سرگرمیوں کےلیے اپنے منافع کا ایک بڑا حصہ رکھتی ہیں تاہم محدود سرگرمیوں کی وجہ سے بڑا کیپیٹل بنایا گیا ہے۔ اس فیصلے سے ایم پی سی ایل کی مالیت میں تقریباً ایک ارب 40 کروڑ روپے کی بہتری متوقع ہے۔ کمپنی کا موجودہ گیس کی قیمت کا معاہدہ 2024 میں ختم ہونا ہے جس کے دوران حکومت 18.4 فیصد حصص کو نجی شعبے میں منتقل کرنا چاہتی ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ منافع تقسیم کرنے میں اضافے سے حصص کی قیمت بہتر ہوجائے گی۔ سرکاری اعلامیے میں کہا گیا کہ ای سی سی نے فیصلہ کیا کہ ماڑی گیس کمپنی لیمیٹڈ کمپنیز ایکٹ 2017 اور کمپنیز ریگو لیشنز 2017 کے مطابق منافع کی تقسیم کویقینی بنائے گی۔ اجلاس میں پیٹرولئیم ڈویژن کی جانب سے سندھ کے ضلع گھوٹکی کے کے ثاقب ون اے ویل سے سوئی سدرن گیس کمپنی کو گیس کی دوبارہ تخصیص سے متعلق سمری کی منظوری دی گئی قبل ازیں 6 اکتوبر 2009 کو ای سی سی نے اس ویل سے سوئی نادرن کو گیس کی فراہمی کی منظوری دی تھی۔ اجلاس میں وزارت ہاؤسنگ کی سفارش پر ای سی سی نے کو گارڈن ویسٹ (پاکستان کوارٹرز) کراچی کی لیز کی تجدید کےلیے 37 کروڑ 72 لاکھ روپے کے فنڈز کے استعمال کی وزارت کو اجازت دے دی۔ اجلاس میں کووڈ 19 وبا کے دوران عوامی آگہی کے میڈیا مہم کے اخراجات کی مد میں وزارت اطلاعات ونشریات کےلیے 14 کروڑ 13 لاکھ روپے کے علاوہ یوم یکجہتی کشمیر 2021 کے ضمن میں میڈیا مہم کےلیے 90 لاکھ 25 ہزار روپے کی ضمنی گرانٹس کی منظوری دے دی۔ اجلاس میں پاکستان رینجرز ہیڈکوارٹرز پنجاب کے ہیلی کاپٹرکے لیے فاضل پرزہ جات کی خریداری کےلیے 50 لاکھ روپے، فرنٹئیر کورپس بلوچستان ہیڈکوارٹرز کے ہیلی کاپٹرکے فاضل پرزہ جات کی خریداری کےلیے 2 کروڑ 50 لاکھ روپے اورفرنٹئیر کورپس جنوبی ڈی آئی خان کے ہیلی کاپٹر کے فاضل پرزہ جات کی خریداری کےلیے ایک کروڑ روپے کے تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری بھی دی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button