فوجی قیادت نے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ کیوں لٹکائے رکھا؟

معروف صحافی انصار عباسی نے انکشاف کیا ہے کہ عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کے خلاف برسہا برس فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ جنرل باجوہ کی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ نے لٹکائے رکھا۔ عمران کی سیاسی حمایت کے دوران سابق فوجی اسٹیبلشمنٹ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے تحریک انصاف کے فارن فنڈنگ کیس میں تاخیر کا بندوبست کیا تھا۔ انصار عباسی کا کہنا ہے کہ عمران کے اس الزام میں کوئی صداقت نہیں کہ الیکشن کمیشن پر فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنانے کے لیے دباؤ ڈالا گیا، اگر ایسا ہوتا تو فیصلہ آنے میں سات برس نہ لگتے۔ سینئر صحافی کا کہنا ہے کہ جیسے ہی ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے غیر سیاسی ہونے کا فیصلہ کیا تو الیکشن کمیشن کے ہاتھ کھل گئے اور اور اس نے میرٹ پر فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنا دیا۔

یاد رہے کہ پی ٹی آئی کے خلاف فنڈنگ کیس نومبر 2014ء سے زیر التواء تھا، جب پارٹی کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے پاکستان اور بیرون ملک سے پارٹی کی فنڈنگ کے حوالے سے سنگین مالی بے ضابطگیوں کا الزام عائد کیا تھا۔ کیس کا فیصلہ سنانے میں غیر معمولی تاخیر ہوئی جو کہ جنرل باجوہ کی سابق اسٹیبلشمنٹ کے اثر رسوخ استعمال کرنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب عمران اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین برسوں کا رشتہ اپنے عروج پر تھا۔ اکبر ایس بابر نے فارن فنڈنگ میں ہونے والی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کیلئے 14؍ نومبر 2014ء کو الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کی تھی۔

14؍ جنوری 2015ء کو الیکشن کمیشن نے اکبر ایس بابر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں ذاتی حیثیت میں پیش ہوکر ثبوت لانے کا کہا تھا۔ یکم دسمبر 2016 کو الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی سے غیر ملکی فنڈنگ کے حوالے سے دستاویزات پیش کرنے اور بصورت دیگر نتائج کا سامنا کرنے کو کہا۔ تب کے چیف الیکشن کمشنر نے پی ٹی آئی کو کارروائی میں تاخیر کا سبب بننے کا ذمہ دار قرار دیا۔22؍ مارچ 2017ء کو الیکشن کمیشن نے پارٹی کے وکیل کو ایک بار پھر کارروائی ملتوی کرنے کی درخواست پر ڈانٹتے ہوئے کارروائی ملتوی کی۔ 3؍ اپریل 2017ء کو پی ٹی آئی کے وکیل بالآخر الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے لیکن صرف کمیشن کے اس کیس کی سماعت کے اختیار کو چیلنج کرنے کیلئے۔ 8؍ مئی کو الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کیس باقاعدہ سماعت کیلئے 17؍ مئی 2018 کیلئے مقرر کیا۔ 11؍ ستمبر 2017ء کو الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو ایک اور موقع دیا کہ وہ فنڈز کے حوالے سے مکمل دستاویزات پیش کرے۔ 17؍ ستمبر 2017ء کو یعنی کئی ماہ کی تاخیر کے بعد پی ٹی آئی نے بالآخر پارٹی کے اکاؤنٹس اور غیر ملکی فنڈنگ کے حوالے سے دستاویزات پیش کر دیں جو گزشتہ سات سال کی تھیں۔

27؍ مارچ 2018 کو الیکشن کمیشن نے تین رکنی سکروٹنی کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس کی تحقیقات کرانے کا حکم دیا جو ایک ماہ میں مکمل ہونا تھی۔ 9؍ مئی 2018ء کو پی ٹی آئی نے اپنے وکیل انور منصور خان کو تبدیل کرتے ہوئے بابر اعوان کو مقرر کیا۔ 16؍ مئی 2018ء کو پی ٹی آئی نے درخواست دی کہ فارن فنڈنگ کی اسکروٹنی میں رازداری کا خیال رکھا جائے۔

30؍ مئی 2018ء کو الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کی درخواست مسترد کی۔ 2؍ اکتوبر 2018ء کو بابر اعوان نے کیس سے دستبردار ہونے کی درخواست دی۔ یکم اکتوبر 2019ء کو الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کی سکروٹنی کے حوالے سے رازداری پر چار درخواستوں پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا۔ 10 اکتوبر 2019ء کو الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کی رازداری کی درخواستیں مسترد کر دیں اور سکروٹنی کمیٹی سے کہا کہ تحقیقات کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔ 20؍ نومبر 2019ء کو الیکشن کمیشن نے روزانہ سماعت کا حکم دیا۔ 21؍ ستمبر 2020ء کو الیکشن کمیشن نے سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ پر اعتراض اٹھاتے ہوئے اپنے فیصلے میں ہدایت کی کہ رپورٹ مفصل تھی اور نہ ہی مکمل۔ 14؍ جنوری 2021ء کو اپوزیشن اتحاد نے اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے دفتر تک مارچ کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ احتجاج کرکے کیس کا جلد فیصلہ لیا جا سکے۔

20؍ جنوری 2021ء کو جس وقت اپوزیشن مظاہرے کرکے فیصلے میں تاخیر پر الیکشن کمیشن پر تنقید کر رہی تھی، تب بطور وزیراعظم عمران خان نے اس کیس کے اوپن ٹرائل کا مطالبہ کیا اور اپوزیشن کی قیادت کو چیلنج کیا کہ وہ بھی کارروائی کا سامنا کریں۔30؍ نومبر 2021 کو سکروٹنی کمیٹی نے گزشتہ ڈیڈلائن کے بعد 6؍ ماہ کی تاخیر کے بعد ایک اور رپورٹ جمع کرائی۔ 4؍ جنوری 2022 کو سکروٹنی کمیٹی کی جانب سے تیار کردہ دھماکا خیز رپورٹ میں تصدیق ہوئی کہ پی ٹی آئی نے غیر ملکی شہریوں اور کمپنیوں سے فنڈز وصول کیے اور ان کو افشاء نہیں کیا گیا۔ اسکے علاوہ بینک اکاؤنٹس بھی چھپائے گے۔ 19 جنوری 2022 کو الیکشن کمیشن نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے فارن فنڈنگ کیس سے جڑی تمام اہم دستاویزات کو جاری کرنے کی ہدایت کی۔ 19 اپریل 2022 کو الیکشن کمیشن نے کیس کی سماعت دوبارہ شروع کی۔

 23؍ اپریل 2022 کو پی ٹی آئی نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرکے 17؍ بڑی سیاسی جماعتوں کے فنڈز کی سکروٹنی کا مطالبہ کیا جن میں نون لیگ اور پیپلز پارٹی شامل تھیں۔ 18 مئی 2022ء کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن سے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنانے میں 8؍ سال تاخیر کا سوال پوچھا۔ 15؍ جون 2022ء کو پی ٹی آئی کے وکیل کی کیس کو غیر ملکی فنڈنگ کی بجائے ممنوعہ فنڈنگ قرار دیے جانے کی طویل درخواست کو قبول کیا۔ اسی دن پی ٹی آئی نے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن تمام فنڈنگ کیسز کا فیصلہ فوراً کیا جائے۔ 21؍ جون 2022ء کو الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کیخلاف فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ محفوظ کیا۔ 29؍ جولائی 2022ء کو فنانشل ٹائمز میں خبر شائع ہوئی کہ کاروباری شخصیت عارف نقوی نے خیراتی کرکٹ میچ کا اہتمام کیا گھا جس سے ہونے والی کمائی کو پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس میں جمع کرایا گیا۔ 30؍ جولائی 2022ء کو عمران خان نے اصرار کیا کہ عارف نقوی سے آنے والے تمام فنڈز بینکاری چینل سے آئے تھے لہٰذا انہیں افشاء کیا گیا ہے۔

یکم اگست 2022ء کو الیکشن کمیشن نے اعلان کیا کہ وہ اگلے دن کیس کا فیصلہ سنانے جا رہا ہے جس کے بعد 2 اگست کو چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے فیصلہ سنایا اور قرار دیا کہ پی ٹی آئی نے ممنوعہ فنڈنگ وصول کی اور اس ضمن میں پی ٹی آئی کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرنے کا اعلان کرتے ہوئے پوچھا کہ بتایا جائے کہ کیوں نہ پارٹی کے ممنورہ فنڈز ضبط نہ کر لیے جائیں۔

Back to top button