فوجی قیادت کا عمران خان کو معافی دینے کا امکان کیوں نہیں ؟

ایک سال گزرنے کے بعد بھی سیاسی حلقوں میں شرپسند عمرانی ٹولے کے 9 مئی 2023 کو فوجی تنصیبات پر حملے اور اس کے بعد پاکستان کی سیاست میں آنے والی تبدیلیوں کا معاملہ زیرِ بحث ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ عمران خان کے غیر دانشمندانہ فیصلوں اور مقتدر حلقوں پر الزام تراشی پر مبنی بیانات نے پی ٹی آئی کو بند گلی میں دھکیل دیا ہے، اسٹیبلشمنٹ کے حالیہ بیانات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل قریب میں پی ٹی آئی کی قبولیت کا کوئی امکان نہیں۔ دوسری جانب بعض عمرانڈو تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس عرصے کے دوران فوج اور عوام کے درمیان دُوریاں مزید بڑھیں اس لئے دونوں اطراف کو ماضی کی تلخیاں بھلا کر ملک کی خاطر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔
مبصرین کے مطابق اپریل 2022 میں تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد جس طرح فوج قیادت کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ماضی میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔عمران خان اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد فوج اور فوجی افسران کے لیے نیوٹرلز، میر جعفر اور ڈرٹی ہیری جیسے الفاظ استعمال کرتے دکھائی دئیے۔ لیکن نو مئی 2023 کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد فوج پر تنقید میں شدت آئی اور عمرانڈوز نے سوشل میڈیا پر باقاعدہ پاک فوج پر ٹرینڈز چلائے۔
دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر ریٹائرڈ حارث نواز کہتے ہیں نو مئی کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال کی وجہ سے فوج اب تک شدید ناراض ہے اور سمجھتی ہے کہ عوام اور فوج کو تقسیم کرنے کا بیانیہ تحریک انصاف کی طرف سے پورا کیا گیا ہے۔ پاکستان فوج سمجھتی ہے کہ عمران خان اور ان کے ساتھیوں نے فوج اور عوام کو ایک دوسرے سے دور کیا۔ کبھی میر جعفر، کبھی جنرل فیض، کبھی کسی اور جنرل کا نام لے کر تنقید کی جاتی رہی اور پھر نو مئی آ گیا۔
دوسری جانب بریگیڈئیر ریٹائرڈ سید نذیر کے خیال میں پچھلے ایک سال میں جو کچھ ہوا اور اس کے بعد فوجی ترجمان کی حالیہ پریس کانفرنس پر آنے والے ردِ عمل سے فوج اور پی ٹی آئی کے درمیان پولارائزیشن کھل کر سامنے آئی ہے۔انہوں نے پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ پہلے تو صرف ملک میں موجود چند کارکن، یا بیرونِ ملک بیٹھے افراد یا پھر فیک اکاؤنٹس کے ذریعے فوج پر تنقید کی جاتی تھی لیکن اب ان کے لیڈرز کی طرف سے فوج کےلیے سخت زبان استعمال کی جا رہی ہے۔سید نذیر کے مطابق پی ٹی آئی کی طرف سے مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھ کر صورتِ حال کو معمول پر لانے اور اپنی غلطی کو تسلیم کرنے کے بجائے لگاتار حملے کیے جارہے ہیں۔ اس بات سے بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سیاسی جماعتوں سے نہیں فوج سے مذاکرات کرنا ہیں، معافی بھی نہیں مانگنی اور فوج مخالف بیانیہ بھی رکھنا ہے۔ اگر فوج کے خلاف ایسی مہم چلتی رہی تو دشمن کو ملک کے اندر آکر کارروائی کرنے کی ضرورت نہیں۔
دوسری طرف لیفٹننٹ جنرل (ر) نعیم خالد لودھی کے خیال میں فوج کو اس وقت دکھ اس بات کا ہے کہ اس کے امیج کو بہت نقصان پہنچایا گیا ہے۔ان کے بقول سیاچن میں بیٹھا سپاہی، یا سرحدوں کی حفاظت میں دن رات جنگلوں اور پہاڑوں پر رہنے والا فوجی جب اپنے گھر آتا ہے یا پھر سوشل میڈیا دیکھتا ہے تو اسے فوج سے متعلق پیش کیا جانے والا امیج دکھی کرتا ہے اور بحیثیت ادارہ مجموعی طور پر فوج اس پر بہت ناراض ہے۔جنرل لودھی کہتے ہیں فوج کا کہنا ہے کہ اس کے پاس سکہ بند ثبوت موجود ہیں کہ نو مئی واقعات میں پی ٹی آئی ملوث ہے جب کہ پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری عمر ایوب بھی کہہ چکے ہیں کہ نو مئی واقعات کی تحقیقات کروا لی جائیں اور اگر ثابت ہوا تو معافی مانگیں گے۔جنرل لودھی کہتے ہیں ان کے خیال میں یہ ایک موقع ہے کہ فوری طور پر نو مئی واقعات کی تحقیقات کروا کر صورتِ حال کو ختم کیا
