فوج اور سیاست دانوں کو آمنے سامنے کیوں نہیں آنا چاہیے؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ اس وقت پاکستانی عوام مفلوک الحال ہیں اور ریاست زوال کا شکار ہے لیکن ہمارے سیاست دانوں کو آپسی جھگڑوں سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔ ایک سیاستدان غصے سے لال پیلا ہے اور انتقام لینا چاہتا ہے، دوسرا سیاستدان اپنی انا کا اسیر ہے اور مقبولیت کے گھوڑے پر سوار ہو کر سب کو روندنا چاہتا ہے۔ تیسرا فریق 9 مئی کے منصوبہ سازوں کو کسی بھی صورت معافی دینے پر تیار نہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ سب مل کر مایوسی کو جنم دے رہے ہیں اور آگے کا کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا۔ چونکہ سب ہی فریقین ضدی اور اڑیل ہیں لہازا سیاسی بحران حل ہوتا نظر نہیں آ رہا۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تازہ تجزیے میں سہیل وڑائج کہتے ہیں کہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے 1977ء سے لیکر 2007ء تک مسلسل 30 سال مزاحمت اور جدوجہد کی سیاست کی۔ انہیں بھٹو مخالفوں، مذہبی انتہا پسندوں، اور مغربی طاقتوں کی مخالفت کا سامنا رہا۔ کبھی قید، کبھی جلا وطنی اور کبھی محدود سا اقتدار۔ محترمہ نے اقتدار ملا تو انتقام نہ لیا حتیٰ کہ ان ججوں، جرنیلوں اور بیورو کریٹس کے ساتھ ایک ہی میز پر بیٹھنے کی مجبوری کوبھی نباہ گئیں۔ 30 سالہ جدوجہد اور مزاحمت کے بعد جب وہ آخری بار پاکستان واپس آنے لگیں تو انہوں نے ایک کتاب ’’مفاہمت‘‘ کے نام سے لکھی، ہمارے آج کے کرداروں کو وہ کتاب پڑھنی چاہیے، محترمہ نے دنیا بھر کے ملکوں کی مثال دی، تاریخ کے حوالے لائیں اور پھر دلائل سے ثابت کیا کہ ملک کے اندر لڑائیوں سے نہیں بلکہ مفاہمت سے مستقبل کا راستہ نکل سکتا ہے۔ افسوس کہ ان کے فاضلانہ خیالات پر پاکستان میں عملدرآمد نہ ہو سکا وگرنہ یہ ملک مفاہمت کے راستے سے گزر کر ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو جاتا۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ جب میں نے وزیر اعظم شہباز شریف کے پچھلے دور میں سیاسی مفاہمت کی بات شروع کی تو سب سے پہلے نونی انتہا پسندوں نے ناک بھوں چڑھائی اور کہا اب تو کپتان کی باری ہے وہ بھی اسی طرح موسیقی کا سامنا کرے جیسے نونیوں نے کیا ہے۔ میں نے جواب دیا کہ انتقام کی باریاں لگانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ منڈیلا اور بے نظیر نے انتقام نہیں لیا آج تاریخ میں وہ سرخرو ہیں اور انتقام لینے والوں کی قبر پر کوئی فاتحہ تک نہیں پڑھتا۔ لیکن انصافی تو ہیں ہی جذباتی وہ تو ہمیشہ گالیوں سے ہی نوازتے ہیں انہوں نے کہنا شروع کردیا کہ نون کی حیثیت ہی کیا ہے انصاف کے ساتھ سیلاب ہے جو سب کوبہا کر لے جائے گا چنانچہ انصافیوں نے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔ دوسری جانب اوپر والے ان دونوں سے کہیں طاقتور اور دانا ہیں انہیں علم تھا کہ یہ غلطیاں کریں گے اور ہمیں اس کا فائدہ ہوگا اور ویسے ہی ہوا۔ مگر لڑائی اور ضد کے اس کھیل میں ریاست اور اس کے شہریوں کا کتنا نقصان ہو رہا ہے اس کا ان تینوں فریقوں کو اندازہ تک نہیں۔ امید مر رہی ہے جو سب سےزیادہ نقصان دہ ہے۔
سہیل وڑائیچ کے بقول مولانا شاہ احمد نورانی مرحوم و مغفور ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ پاکستان کے مذہبی اور سیاسی عناصر کو فوج کے آمنے سامنے نہیں آنا چاہیے وہ مصر اور کئی دوسرے اسلامی ممالک کی مثال دیا کرتے تھے کہ جب اس طرح کا خلفشار ہو تو ریاست کمزور ہو جاتی ہے۔ مولانا نورانی نے نہ کسی مارشل لا حکومت کو مانا نہ کبھی اوپر والوں کی مداخلت کو تسلیم کیا۔ جنرل ضیاء الحق کی طرف سے ترغیب و تحریص کے باوجود انہوں نے ڈٹ کر اس کا مقابلہ کیا اور جب انکے اہم اور طاقت ور ساتھی جنرل ضیاء کے ساتھ مل گئے تو انہوں نے سب کو نکال باہر کیا، پارٹی کمزور ہوگئی مگر انہوں نے جمہوری اصولوں پر سمجھوتہ نہ کیا۔ایم ایم اے کے زمانے میں بھی جب قاضی حسین احمد اور مولانا فضل الرحمٰن، پرویز مشرف سے تعاون پر آمادہ ہوئے اور انہیں ووٹ دے دیئے مولانا نورانی کو دست غیب نے اس فیصلے سے پہلے ہی اپنے پاس بلا کر ان کی زندگی بھر کی جمہوری ساکھ برقرار رکھی۔ مولانا نورانی اپنی صاف شفاف جمہوری ساکھ کے باوجود فوج سے لڑائی کے سخت خلاف تھے۔
سہیل وڑائج کا کہنا ہے کہ کپتان خان نے بھی ابھی یہی بات کی ہے لیکن اس کی جماعت کا بیانیہ کچھ اور ہی کہہ رہا ہے۔ اوپر والوں اور کپتان کے عقیدت مندوں سے گزارش ہے کہ پاکستان سب کا ہے اگر ہم دشمن ملکوں سے مذاکرات کرسکتے ہیں، ان سے ماضی کی مخالفتیں بھول سکتے ہیں تو ملک کے اندر رہنے والوں سے مسلسل لڑائی کیوں؟
یہ سب لوگ اگر انا، ضد اور انتقام کا شکار ہو کر برسرپیکار رہے تو نہ تو معیشت ٹھیک ہوگی اور نہ ہی امید بحال ہوگی۔ ایسے میں کیا مجبور عوام اس وقت کا انتظار کریں جب جوش وجنون ٹھنڈا پڑے اور یہ سارے ہوش کے ناخن لیں۔ آخر ہم اپنی ماضی کی غلطیوں سے سبق کیوں نہیں سیکھتے، سیاستدان جس پیڑ پر بیٹھے ہیں اسی کو کیوں کاٹنا چاہتے ہیں سیاسی عدم استحکام رہے تو معیشت میں بھی دیرپا استحکام نہیں آئے گا۔ سہیل وڑائج کہتے ہیں کہ کم از کم تاریخ کاسبق، ماضی کے تجربات اور دنیا کی مثالیں ہی سامنے رکھ لیں۔ یہ سارے اگر گاندھی اور جناح کی طرح اپنے اپنے موقف میں لچک کیلئے تیار ہو جائیں، انا اور ضد کی بجائے قومی مفاد کو ذہن میں رکھیں تو کل ہی سے امید کی جوت جگائی جا سکتی ہے،
