عمران خان مقبول اور نواز شریف غیر مقبول کیوں ہو گئے؟

 

 

 

پاکستانی سیاست کا المیہ یہ ہے کہ جو بھی سیاستدان فوجی اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ اپناتا ہے، وہ عوام میں مقبول ہو جاتا ہے اور جو اسٹیبلشمنٹ کا مہرہ بنتا ہے، اس کی سیاست لمحوں میں زمین بوس ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فوج کے کندھے پر سوار ہو کر وزیر اعظم بننے والے عمران خان نے تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں فارغ ہونے پر خود کو ”شہیدِ جمہوریت“ کے طور پر پیش کیا، وہ مقبول ترین سیاست دان بن گئے اور ان کی مخالف مسلم لیگ ن پرو اسٹیبلشمنٹ ہو جانے کی وجہ سے غیر مقبول ہو گئی۔

 

معروف تجزیہ کار اور لکھاری حفیظ اللہ نیازی روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ 2007 سے 2022 تک نواز شریف کی مقبولیت کا راز ان کا اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ تھا جسے چھوڑتے ہی اُن کی سیاست کا جنازہ نکل گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج وہ پاکستانی سیاست میں غیر متعلق ہو چکے ہیں۔ حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ نواز شریف نے لمبے عرصے کے بعد سیاسی انگڑائی لیتے ہوئے یہ بیان دہرایا ہے کہ عمران خان کے ساتھ جو بھی لوگ شریکِ جرم رہے، ان کا احتساب ضروری ہے۔ یہ وہی موقف ہے جسے ماضی میں نظرانداز کیا جاتا رہا ہے۔ پچھلے ستر برس میں کسی جرنیل نے اپنے وضع کردہ اصولوں پر آنچ نہیں آنے دی۔ جنرل ایوب، جنرل یحییٰ، جنرل ضیاء اور جنرل پرویز مشرف، یہ سب کے سب آئین جنازہ نکالنے کے باوجود قومی اعزازات کے ساتھ دفنائے گئے۔

 

نیازی لکھتے ہیں کہ 2013 میں جب نواز شریف نے سپریم کورٹ کے حکم پر جنرل مشرف کے خلاف آئین شکنی کا مقدمہ چلانے کی کوشش کی تو پل بھر میں انہیں اور دیگر ذمہ داران کو ان کی ”اوقات“ یاد کرا دی گئی۔ لیکن نواز شریف کو یہ کریڈٹ ضرور جاتا ہے کہ دیگر سیاست دانوں کے برعکس فوجی اسٹیبلشمنٹ سے مفاہمت کے باوجود وہ قومی مجرموں کی نشاندہی میں کنجوسی کے مرتکب نہیں ہوئے۔

 

حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ اکتوبر 2020 کی پی ڈی ایم حکومت مخالف تحریک بظاہر اپوزیشن کا فیصلہ تھی، لیکن دراصل وہ ایک شاہکار ”باجوہ پلان“ تھا۔ اس دوران اپوزیشن جماعتیں محض مہرے ثابت ہوئیں، لیکن گوجرانوالہ کے جلسے میں نواز شریف کی جنرل قمر باجوہ اور جنرل فیض میر کے خلاف تقریر نے پورا منصوبہ الٹا کر رکھ دیا۔ یاد رہے کہ گجرانوالہ کے جلسے میں انہوں نے اعلان کیا تھا کہ "میرا جھگڑا عمران خان سے نہیں، میرے اصل مجرم جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید ہیں”۔نیازی کے مطابق پاکستان کی سیاست میں ایک اصول ہے: جو اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ اپناتا ہے، وہ مقبول ہوتا ہے؛ اور جو اسٹیبلشمنٹ کا مہرہ بنتا ہے، اس کی سیاست لمحوں میں زمین بوس ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جیسے ہی عمران خان ”شہیدِ جمہوریت“ کے طور پر پیش کیے گئے اور مسلم لیگ ن نے پرو اسٹیبلشمنٹ بیانیہ اختیار کیا، سیاست کی ہوائیں مکمل طور پر الٹ گئیں۔

 

حفیظ اللہ نیازی لکھتے ہیں کہ 11 اپریل 2022 کو شہباز شریف کی حلف برداری کے نتیجے میں وزارتِ عظمیٰ تو مسلم لیگ ن کو مل گئی لیکن ان کی مقبول سیاست مر گئی، جبکہ عمران خان کی سیاست زندہ ہو گئی۔ یہ مسلم لیگ کی سیاست کے لیے ایک بڑا سانحہ تھا۔ نیازی کے مطابق اگر آج نواز شریف کی سیاست بے جان ہے تو اس کی ذمہ داری خود نواز شریف پر ہے۔ ستم یہ کہ عمران، جنہوں نے تمام عمر مفاہمتی سیاست کی، آج مخاصمتی سیاست کے سہارے پوری سیاست پر قابض ہو چکے ہیں۔ عوام کی بڑی تعداد عمران کے بیانیے میں جذب ہو چکی ہے، اور یہ سب اُس ”مسٹر جینئس“ کی کارستانی ہے جس نے نواز شریف کو سیاسی طور پر ناکارہ بنا کر عمران خان کا سیاسی قد بڑھایا۔

عمران خان کی موت کی افواہ نے اچانک زور کیوں پکڑ لیا؟

حفیظ نیازی کے مطابق جب کوئی سیاسی جماعت اور اس کی حکومت خود اعتراف کر رہی ہو کہ ہم نے اپنا سیاسی سرمایہ کھو دیا ہے اور عوام کی اکثریت عمران خان کے ہیجان میں مبتلا ہے، تو پیچھے کیا رہ جاتا ہے۔ شہباز حکومت کے پاس خزانے کی چابیاں اور لشکر کی کمان تو ہے، مگر دلوں کا اقتدار نہیں ہے۔ نیازی کے مطابق اب حکومت کے پاس دو ہی آپشنز باقی بچی ہیں: یا تو حکومت اپنی ناکامی تسلیم کرتے ہوئے ”خزانے کی چابیاں اور لشکر کی کمان“ عمران خان کے حوالے کر دے، اور یا پھر عمران خان خود پیچھے ہٹنے پر آمادہ ہو جائیں۔

نیازی خبردار کرتے ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی ایک راستہ نہ اپنایا گیا تو حالات وطنِ عزیز کو مذید زخمی اور بے سمت کر دیں گے۔ باقی رہے نام اللہ کا۔

Back to top button