فوج مخالف مہم چلانے پر تحریک انصاف میں اختلافات

عمران خان کے ایما پر تحریک انصاف کی جانب سے چلائی گئی خوفناک سوشل میڈیا مہم کے باوجود فوجی قیادت نے جو خاموشی اپنا رکھی ہے وہ شاید اب برقرار نہ رہ پائے اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ ادارے کی ساکھ تباہ کرنے کی کوششوں میں مصروف عناصر کو اپنے کیے کا خمیازہ ادا کرنا پڑ جائے۔ اسی لئے تحریک انصاف کے اندر بھی فوج مخالف مہم چلانے کے حوالے سے اختلافات پیدا ہو چکے ہیں۔
یاد رہے کہ ایک جمہوری اور آئینی عمل کے ذریعے اقتدار سے نکالے جانے کے بعد سابق وزیر اعظم نے امریکہ اور فوج دونوں پر سازش کرنے کا الزام عائد کر دیا حالانکہ اسٹیبلشمنٹ اور واشنگٹن کے مابین تعلقات لمبے عرصے سے خراب ہیں جس کی بنیادی وجہ افغانستان ہے۔ عمران جلد انتخابات کرانے کے ایجنڈے پر چلتے ہوئے اپنے ہمدردوں اور سوشل میڈیا ٹرولز کے ذریعے فوجی قیادت کے خلاف مہم چلا رہے ہیں تاکہ وہ نئی حکومت کو جلد الیکشن پر آمادہ کر سکیں۔ تاہم عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ فوجی قیادت نے ادارے کو مکمل طور پر غیر سیاسی بنانے کا عزم کر رکھا ہے اور الیکشن اپنے وقت پر ہونا ہیں یا وقت سے پہلے، یہ فیصلہ حکومت نے کرنا ہے، اسکا فوج سے کوئی تعلق نہیں۔
یاد رہے کہ فوج مخالف مہم چلانے والے تحریک انصاف کے سوشل میڈیا ٹرولز کو عمران خان نے ’’اپنے جنگجو‘‘ قرار دے رکھا ہے لیکن باخبر ذرائع خبردار کر رہے ہیں کپتان کو یہ منفی تدبیریں الٹی بھی پڑ سکتی ہیں۔ انکام کہنا ہے کہ فوج اور اس کے سربراہ کے خلاف چلنے والی توہین آمیز مہم پر اسٹیبلشمنٹ کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو چکا ہے اور اس مہم کے پیچھے کرتا دھرتا افراد کو سخت خمیازہ بھی بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ عمران اور انکی پی ٹی آئی سے وابستہ لوگوں پر تنقید کی جا رہی ہے کہ یہ وہی لوگ ہیں جو پہلے فوج اور آرمی چیف کے بارے میں مثبت باتیں کرتے تھے اور اب ان کے خلاف ٹاپ ٹرینڈز چلا رہے ہیں۔ اس معاملے پر ڈیجیٹل میڈیا کے ماہر اسامہ خلجی نے ٹویٹ کیا کہ ’پاکستان میں کل 3.3 ملین ٹوئٹر صارفین ہیں، لیکن پی ٹی آئی کے ہیش ٹیگز 3 ملین سے زیادہ ٹویٹس دکھا رہے ہیں۔ اسکا مطلب ہے کہ یہ ہیش ٹیگز بڑے پیمانے پر ہیرا پھیری کا نتیجہ ہیں۔
دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کے پاس شواہد موجود ہیں کہ کس طرح فوج مخالف توہین آمیز سوشل میڈیا مہم چلائی جا رہی ہے، حالانکہ فوج کا موجودہ سیاسی صورت حال سے کوئی لینا دینا نہیں۔ ذرائع یاد دلاتے ہیں کہ سابقہ حکومت اور فوجی قیادت کے مابین اختلاف بھی تب ہی پیدا ہوا تھا جب فوج کو غیر سیاسی اور غیر جانبدار کار بنانے کا عزم ظاہر کیا گیا۔ چنانچہ سابق وزیر اعظم نے نیوٹرل کو جانور قرار دیتے ہوئے اپنے ردعمل کا اظہار کیا تھا۔ لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اب معاملہ حد سے بڑھ چکا ہے اور ادارہ مزید برداشت کا متحمل نہیں ہو سکتا، لہٰذا اب ایکشن ہو گا۔ دوسری جانب پی ٹی آئی ذرائع گونگلوؤں سے مٹی جھاڑتے ہوئے یہ دعوی ٰکر رہے ہیں کہ ان کی جماعت یا انکی قیادت کا فوج مخالف مہم سے کوئی تعلق نہیں، لیکن انہوں نے تسلیم کیا کہ پی ٹی آئی جلد الیکشن کرانے کی خاطر فوج پر دبائو ڈالنا چاہتی ہے۔ لیکن سینئر صحافی اور تجزیہ کار انصار عباسی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے دعوئوں کے برعکس، ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے پاس فوج مخالف مہم چلائے جانے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ لاہور کے جلسے میں خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ کا نام لیے بغیر واضح الفاظ میں کہا تھا کہ ’’جس نے بھی‘‘ انہیں عہدے سے ہٹانے کی غلطی کی ہے اس کا ازالہ جلد الیکشن کرا کے پورا کیا جائے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ عمران خان نے ایسا کہتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کو واضح پیغام دیا کہ انہیں عہدے سے ہٹانے کی اس ’’غلطی‘‘ کو سدھارنے کا واحد راستہ فوراًالیکشن کرانا ہے۔
دوسری جانب دفاعی ذرائع نے بتایا کہ حکومت کی تبدیلی ایک جمہوری اور آئینی عمل کا نتیجہ تھی جس کا فوج سے کوئی تعلق نہیں۔ ملٹری اسٹیبلشمنٹ اپنا غیر سیاسی موقف برقرار رکھے گی اور جلد الیکشن کرانے کیلئے کسی بھی طرح سے کسی کو بھی دباؤ میں نہیں لایا جائے گا، یہ معاملات سیاسی ہیں جنہیں سیاست دان خود آپس میں بیٹھ کر طے کریں۔
دوسری جانب پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی حکومت کو ہر صورت جلد الیکشن کروانا پڑیں گے کیونکہ عمران خان نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا منصوبہ بنا لیا ہے جس کے بعد 2014 کی طرز کا دھرنا بھی ہوگا تاکہ جلد انتخابات کے مطالبے پر دباؤ ڈالا جا سکے۔
لیکن سیاسی تجزیہ کار یاد دلاتے ہیں کہ 2014 کے لانگ مارچ اور دھرنے کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ اور تب کے آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام بھی موجود تھے لیکن اس کے باوجود نواز حکومت کو ہٹایا نہیں جا سکا تھا، بالآخر نواز شریف ایک عدالتی فیصلے کے نتیجے میں نااہل ہوئے تھے۔
دوسری جانب یہ بھی ایک اتفاق ہے کہ نواز شریف کی طرح اس وقت عمران خان اور انکی جماعت کو الیکشن کمیشن میں زیر سماعت جس فارن فنڈنگ کیس کا سامنا ہے اس میں نہ صرف تحریک انصاف پر پابندی لگ سکتی ہے بلکہ عمران نااہل بھی قرار دیئے جا سکتے ہیں۔ ویسے بھی عمران خان کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ پاکستان میں آج دن تک جو حکومت اقتدار سے رخصت ہوئی ہے اس کی اگلے الیکشن میں واپسی نہیں ہوئی،لہٰذا الیکشن کا مطالبہ بھی سراب کے پیچھے بھاگنے کے مترادف ہے۔ اسی لئے پی ٹی آئی کے کچھ رہنماؤں کے مطابق صورت حال اُن کے لیے بھی پریشان کن ہے اور پارٹی میں یہ احساس بھی پایا جاتا ہے کہ فوج اور اس کے سربراہ کو ہدف تنقید بنانے سے کوئی فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہو گا۔
پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ پارٹی کے کچھ رہنماؤں نے فوج کی حمایت اور پاکستان کے لیے فوج کی اہمیت کے حوالے سے بیانات دیئے ہیں۔ اِن ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان نے نہ صرف عوام میں کھل کر یہ کہا ہے کہ بلکہ نجی محافل میں بھی کہا ہے کہ فوج ملک کے لیے اُن سے بھی زیادہ اہم ہے، سیاسی مبصرین نے اس بات کی نشاندہی بھی کی ہے کہ عمران خان سمیت پارٹی کے کسی بھی رہنما نے فوج کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانے والےپارٹی کے حامیوں کی مذمت نہیں کی۔
