فوج میں کرونا سے پہلی موت، میجر اصغر جان کی بازی ہار گئے

کرونا وائرس سے پاکستانی فوج میں پہلی موت سامنے آئی ہے. کرونا وائرس کے خلاف محاذ پر تندہی سے اپنے فرائض انجام دینے والے میجر محمد اصغر وائرس کا شکار ہو کر خالق حقیقی سے جا ملے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق میجر محمد اصغر طور خم بارڈر ٹرمینل پر اپنے فرائض سر انجام دے رہے تھے اور جب افغانستان میں پھنسے لوگوں کی واپسی شروع ہوئی تو انھیں بارڈر ٹرمینل پر اسکریننگ کی ذمہ داری سونپی گئی۔ 10مئی کو میجر اصغر کو اچانک سینے میں تکلیف محسوس ہوئی جس کے بعد انہیں علاج کے لیے سی ایم ایچ پشاور منتقل کیا گیا۔میجر اصغر کی حالت بگڑنے پر انہیں وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا لیکن ان کی حالت نہ سنبھل سکی اور وہ خالق حقیقی سے جا ملے۔37 سالہ میجر اصغر نے لواحقین میں بیوی، ایک بیٹا اور دو بیٹیاں چھوڑی ہیں۔ ان کا تعلق پنجاب 34 رجمنٹ سے تھا۔ وہ آج کل ایف سی کے 143 سی ایس ونگ میں تعینات تھے اور طورخم بارڈر پر ڈیوٹی انجام دے رہے تھے۔بنیادی طور پر ان کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے تھا لیکن ان دنوں وہ کراچی میں رہائش پذیر تھے۔
میجر اصغربارڈر پر ہر دلعزیز افسر تھے. انھیں افغان اہلکار پیار سے اپنا افسر کہتے تھے’ترجمان آئی ایس پی آر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے اتوار کو ایک ٹویٹ میں طورخم بارڈر پر تعینات میجر اصغر کی کرونا وائرس کے نتیجے میں موت کی تصدیق کی تھی۔
میں نے میجر محمد اصغر کے ساتھ کافی عرصہ طورخم بارڈر پر کام کیا اور اس دوران ہمیشہ ان کو ہنس مکھ اور خندہ پیشانی سے ملنے والا انسان پایا۔ بارڈر پر موجود افغان سکیورٹی فورسز کے اہلکار انہیں پیار سے کہتے تھے کہ میجرصاحب پاکستان کے نہیں ہمارے افسر ہیں۔’ کرونا وائرس کے باعث انتقال کر جانے والے پاکستانی فوج کے میجر اصغر کے بارے میں یہ الفاظ ان کے ساتھ کام کرنے والے ایف سی کے ایک جوان نے ادا کیے، جنہوں نے طورخم بارڈر پر ان کے ساتھ ڈیوٹی انجام دی تھی۔
میجر اصغر کے ساتھ کام کرنے والے ایف سی کے ایک جوان کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ہفتے کی شام ان کو سانس اور کھانسی کی تکلیف شروع ہوئی، جس پر انہیں ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل کے آرمی ہسپتال پہنچایا گیا، تاہم وہاں ان کی حالت بگڑی تو انہیں پشاور کے سی ایم ایچ ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button