فوج کا سیاسی کردار ختم کیے بغیر پاکستان کو بچانا ممکن کیوں نہیں؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا یے کہ اگر ہم نے پاکستان کو بچانا ہے تو اسکا ایک ہی طریقہ ہے کہ فوج کا سیاسی کردار ختم کیا جائے اور اسے سیکیورٹی سٹیٹ سے فلاحی ریاست بنا دیا جائے۔ روزنامہ جنگ کےلیے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائج کہتے ہیں کہ اب تو عمر بیتی جا رہی ہے۔ ہر حکومت کے بدلنے پر ہم خواب دیکھتے ہیں کہ وہ صبح اب آئے گی جب ہماری ریاست سیکیورٹی کو ترجیح دینے کی بجائے عوامی فلاح پر توجہ دے گی۔ عوام ہر جمہوری حکومت سے توقع باندھتے ہیں کہ اب آئین کی سربلندی ہوگی، جمہوریت کی طرف توجہ ہوگی، میڈیا آزاد ہوگا، عدلیہ انصاف کے مطابق فیصلے کرے گی، اختلاف رائے کو برداشت کیا جائے گا، سیاسی مخالفوں کو جیلوں میں ڈالنے کی بجائے ان کی آواز پارلیمان میں گونجنے لگے گی، لیکن شومئی قسمت، ایسا یوتا نظر نہیں آ رہا۔ اس ملک کو معرض وجود میں آئے پون صدی ہو چکی مگر وہ صبح آ نہیں رہی بلکہ مزید دور ہوتی جا رہی ہے۔

سہیل وڑائج کہتے ہیں کہ مسئلہ بڑا سادہ ہے۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے پہلے دن سے ہی ملک میں پارلیمانی جمہوریت کا نظام رائج کیا ، انہوں نے سارے اختیارات وزیر اعظم کو دیئے، 1973 میں تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے مل کر جو متفقہ آئین بنایا، وہ بھی پارلیمانی اور جمہوری ہے، ملکی تاریخ میں اگر دو سب سے متفق ترین چیزیں ہیں تو ان میں ایک جناح کی ذات ہے اور دوسرا آئین پاکستان۔ لہازا اگر اس ملک نے ترقی کرنی ہے اور اپنی شام اور اندھیری رات کو صبح میں تبدیل کرنا ہے تو انہی دو متفقات کی روشنی میں آگے بڑھنا ہوگا۔

پاکستانی سیاست میں فوج کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے سہیل وڑائج کہتے ہیں کہ گزشتہ دنوں آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں جہاں 9 مئی پر مقتدرہ کا ردعمل سامنے آیا وہاں کچھ حیران کن جوابات بھی سننے کو ملے، پاکستان کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ ایک فوجی ترجمان نے ماضی میں فوج کے اپنائے گے سیاسی کردار پر اعتراضات اٹھائے ہیں، ماضی کے دھرنوں میں ماضی کی فوج کے کردار پر انگلی اٹھائی گئی ہے، اسی طرح چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جنرل فیض حمید کے فیض آباد دھرنے میں کردار کا کئی بار ذکر کیا ہے۔ سہیل وڑائچ کے بقول اگر تو واقعی ماضی کی غلطیوں کے اعتراف کا وقت آگیا ہے تو یہ بڑی خوش آئند بات ہے اور اس کا مطلب ہے کہ ہم پھر سے صبح کے خواب دیکھ سکتے ہیں۔

مگر میرے خیال میں وہ صبح تب ہی آسکتی ہے جب پاکستانی درسی کتابوں میں گھسائی گئی جھوٹی کہانیاں بے نقاب کی جائیں۔ کمانڈر عبدالرب کی صدر سکندر مرزا کے بارے میں بنائی گئی جھوٹی کہانی بے نقاب ہو، اسی جھوٹی کہانی کی بنا پر صدر سکندر مرزا کا بوریابستر گول کرکے اقتدار جنرل ایوب خان کے سپرد ہوا۔ اس بارے جھوٹی کہانی یہ بنائی گئی کہ سکندر مرزا ایوب خان کوگرفتار کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، ایوب دور میں سکندر مرزا جلاوطن رہے اور ان کا موقف کبھی سامنے ہی نہیں آنے دیا گیا۔ اسی طرح وہ صبح تب ہی آئے گی جب یہ پتہ چلایا جائے گا کہ ایوب خان نے مستعفی ہوتے وقت اپنے ہی تشکیل کردہ آئین کے مطابق اقتدار سپیکر کے حوالے کرنے کے بجائے جنرل یحییٰ خان کے سپرد کیوں کیا تھا۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ہمیں جس صبح کا انتظار ہے وہ تب طلوع ہو گی جب ہماری عدالتیں 1977 میں مارشل لا لگانے والے جنرل ضیاء الحق کو آئین کے ارٹیکل 6 کے تحت سزا سناتیں۔ لیکن افسوس کہ ان عدالتوں نے الٹا پاکستان کو پہلا متفقہ آئین دینے والے ذوالفقار علی بھٹو کو سزائے موت سنا ڈالی۔ اتنے برس بعد اب جب کہ سپریم کورٹ نے بھی بھٹو کی پھانسی غیر قانونی اور ناجائز قرار دے دیا ہے، جنرل ضیاءالحق کو یہ ظلم عظیم کرنے پر ایک علامتی سزا تک نہیں دی جا سکی۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ آئین توڑنے اور ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی پر لٹکانے والے ضیاء الحق کا کوئی حق نہیں بنتا کہ وہ اسلام اباد کی فیصل مسجد میں مدفون رہے، اگر اسکی ڈیڈ باڈی کو علامتی پھانسی نہیں دی جا سکتی تو کم از کم اسے وہاں سے کہیں اور منتقل کیا جائے۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ ضیا کے اشاروں پر بھٹو کو موت دینے والے تو غلط اور معتوب ٹھہرائے جا چکے لیکن مرکزی ملزم کا کوئی نام بھی لینے کو تیار نہیں۔ ہم حقائق کو چھپائیں گے تو نئی صبح کی دعا بھی نہیں کر سکیں گے۔

سہیل وڑائج کہتے ہیں کہ اگر ماضی کی اسٹیبلشمینٹ کے کارناموں پر سوال اٹھانے کی اجازت ہو تو جنرل پرویز مشرف کے غیر آئینی مارشل لا کا ساتھ دینے والے ججوں، سیاست دانوں اور صحافیوں کے بارے میں بھی کوئی عدالتی حکم آنا چاہیے، اگر نئی صبح دیکھنی ہے تو مارشل لائوں کا ساتھ دینے والوں کےلیے کم از کم کوئی حکم نامہ تو جاری ہونا چاہیے تاکہ مستقبل میں کوئی غیر آئینی اقدامات کی حمایت کرتے ہوئے سو بار سوچے. اسی طرح جنرل باجوہ کے زمانے میں عدالتوں کے ذریعے نواز شریف اور ن لیگ کے خلاف جو فیصلے کرائے گئے ان کا حساب بھی لیا جانا چاہیے، جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی کے حاضر سروس افسروں کو جس طرح استعمال کیا گیا اس کی بھی باز پرس ہونی چاہیے، جنرل قمر جاوید باجوہ، جنرل فیض حمید اور ان کے حواریوں نے حکومت کے شتونگڑوں کی مدد سے جس طرح آزاد میڈیا کا گھیرائو کیا اس کا بھی حساب ہونا چاہیے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جنرل احمد شجاع پاشا، جنرل ظہیر الاسلام اور پھر جنرل فیض حمید کے زمانے میں جو غلط کاریاں کی گئیں انہوں نے سیاست، صحافت، عدالت اور معاشرے کو تباہ کرکے رکھ دیا، کاش آج کی فوجی قیادت اور عدالتیں ان معاملات کا مداوا کر دیں۔

Back to top button