فوج کا ملک میں کسی بھی سیاسی عمل سے کوئی تعلق نہیں: عسکری قیادت

عسکری قیادت نے فوج کو تمام سیاسی معاملات سے دور رکھنے پر اصرار کیا ہے۔عسکری قیادت کا کہنا ہے کہ فوج کا کسی بھی سیاسی عمل سے براہ راست یا بالواسطہ تعلق نہیں۔
تفصیلات کے مطابق آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کی پارلیمانی رہنماؤں سے گفتگو ہوئی ہے۔عسکری قیادت نے نیشنل ایکشن پلان پر تیز اور موثر عمل درآمد پر زور دیا ہے۔ ملاقات میں گلگت بلتستان کے انتظامی امور اور قومی سلامتی سے متعلق بات چیت کی گئی ہے۔عسکری قیادت نے فوج کو تمام سیاسی معاملات سے دور رکھنے پر اصرار کیا۔عسکری قیادت نے کہا کہ فوج کا کسی بھی سیاسی عمل سے براہ راست یا بالواسطہ تعلق نہیں۔ضرورت پڑنے پر فوج ہمیشہ سول انتظامیہ کی مدد کرتی رہے گی۔عسکری قیادت نے فوج کو سیاسی معاملات سے دور رکھنے پر زور دیا ہے۔ قومی سلامتی کے اداروں نے سیاسی رہنماؤں پر واضح کردیا کہ فوج کو انتخابی عمل سے الگ رکھا جائے۔ قومی سلامتی سے وابستہ حکام نے اس عزم کو دہرایا کہ پاک فوج ملک میں امن و امان کے قیام کے لیے اپنے فرائض ماضی کی طرح ادا کرتی رہے گی۔
آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کی پارلیمانی رہنماؤں سے ملاقات میں پارلیمانی رہنماؤں نے نیب کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا۔ جس پر عسکری قیادت نے کہا کہ نیب کو خود بنایا اس میں ہمارا کوئی کردار نہیں۔ آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی اور پارلیمانی رہنماؤں کے مابین گزشتہ ہفتے ملاقات ہوئی جس میں گلگت بلتستان کے انتظامی امور پر بات چیت کی گئی۔ ملاقات میں گلگت بلتستان کو نیا صوبہ بنانے کی تجویز پر اتفاق کیا گیا۔ شرکا نے تجویز دی کہ گلگت بلتستان میں انتخابات کا یہ کام نئی اسمبلی پر چھوڑ دیا جائے اور نئی اسمبلی خود قرارداد پاس کرے گی۔ملاقات میں شریک ہونے والے مسلم لیگ ن کے وفد میں شہباز شریف خواجہ آصف اور احسن اقبال شامل تھے۔ بلاول بھٹو زرادری اور شیری رحمن بھی وفد کے ہمراہ ملاقات میں موجود تھے۔
دوسری طرف وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کا دعوی ہےکہ عسکری قیادت سے ملاقات میں اپوزیشن رہنماؤں نے قومی احتساب بیورو یعنی نیب کے کیسز کے سوا کسی معاملے پر تحفظات کا اظہار نہیں کیا۔
عسکری قیادت کی پارلیمانی رہنماؤں سے ملاقات کے حوالے سے وزیرریلوے شیخ رشید کامزید کہنا ہے کہ عسکری قیادت سے ملاقات میں شہباز شریف، بلاول بھٹو، سراج الحق سمیت عوامی نیشنل پارٹی(اے این پی) اور جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے رہنما بھی شریک تھے۔
شیخ رشید کے مطابق اپوزیشن کی جانب سے قومی احتساب بیورو (نیب) کیسز کی بات کرنے پر آرمی چیف نے واضح کردیا کہ چیئرمین نیب اور الیکشن کمشنر آپ لگاتے ہیں، آپ کا فرض ہے دیکھیں ٹھیک بندہ لگایاہے یا غلط۔ اب آپ جانو اور چیئرمین نیب جانیں۔ہمارا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔ شیخ رشید کامزید کہنا تھا کہ آرمی چیف نے اپوزیشن رہنماؤں سے کھل کر کہا کہ فوج کو مداخلت کا کوئی شوق نہیں،کل آپ کی حکومت منتخب ہوئی تو اُس کے بھی ساتھ ہوں گے، آپ اپنے انتظامات ٹھیک کریں، پولنگ اسٹیشن کے باہر فوجی اس لیے کھڑے ہوتے ہیں کہ آپ بُلاتے ہیں، آپ لڑتے جھگڑتے ہیں۔ شیخ رشید نے بات کو جاری رکھتے ہوئے مزید دعوی کیا کہ میٹنگ کے دوران جنرل قمر جاوید باجوہ نے مولانا فضل الرحمن کے بیٹے اسعد الرحمن کو کہا کہ ایک طرف آپ اسمبلیوں کے خلاف، دوسری طرف آپ کے والد اسی اسمبلی سے صدارتی امیدوار تھے۔شیخ رشید کے مطابق گلگت بلتستان کے حوالے سے آرمی چیف کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان چین پاکستان اقتصادی راہداری(سی پیک) کے لیے بہت اہم ہے، سب نے اتفاق کیا کہ گلگت بلتستان کو صوبہ بنایا جائےگا،گلگت بلتستان میں الیکشن صاف شفاف ہوں گے۔
خیال رہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے مسلسل اس مؤقف کا اعادہ کیا جا رہا ہے کہ الیکشن میں دھاندلی کر کےتحریک انصاف کو برسراقتدار لایا گیا اور اسٹیبلشمنٹ کی ایماء پر ہی مسلسل ناقص کارکردگی اور کرپشن سکینڈلز سامنے آنے کے باوجود نیب سمیت دیگر تحقیقاتی ادارے حکومتی رہنماؤں کیخلاف کوئی بھی اقدام اٹھانے سے گریزاں ہیں.
