فورسز نے ‘صرف اپنے دفاع’ میں افغان فورسز پر فائرنگ کی، پاکستان

دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروق نے چمن میں فرینڈشپ گیٹ بارڈر کراسنگ پر مشتعل مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ کے حوالے سے کہا کہ افغان فورسز نے بین الاقوامی سرحد کے اطراف پاکستان کی طرف جمع ہونے والے بے گناہ شہریوں پر بلا اشتعال فائرنگ کی اور پاکستانی فورسز نے ‘صرف اپنے دفاع’ میں افغان فورسز کی فائرنگ کا جواب دیا۔انہوں نے کہا کہ چوکیوں پر تعینات پاکستانی فوجیوں نے افغان سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ پر ردعمل کا اظہار کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستانی فوجیوں نے مقامی آبادی کے تحفظ کے لیے جوابی کارروائی کی اور صرف اپنے دفاع میں کام کیا۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی فورس نے پہلے فائرنگ نہیں کی اور صرف اپنے دفاع میں جواب دیا۔انہوں نے کہا کہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان نے دونوں فوجی اور سفارتی چینلز کو متحرک کیا اور انتھک کوششوں کے بعد افغان سیکیورٹی فورسز نے فائرنگ روک دی۔انہوں نے کہا کہ افغان حکام کی درخواست پر سرحدیں پیدل چلنے والوں اور تجارتی نقل و حمل کے لیے کھول دی گئیں تھیں۔
عائشہ فاروقی نے کہا کہ پاکستان دونوں ممالک کے مابین تجارتی نقل و حمل کو بین الاقوامی قواعد میں لانے کی کوشش کررہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عید الاضحیٰ کی وجہ سے پیدل چلنے والوں کو اجازت دی گئی۔انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے جمع ہونے والے لوگوں کو افغان فورسز نے جان بوجھ کر نشانہ بنایا۔
دفتر خارجہ کی جانب سے واقعے میں متعدد ہلاکتوں اور ریاستی انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچنے پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ بدقسمتی سے افغان سرحد میں نقصان ہوا۔عائشہ فاروقی نے کہا کہ اگر افغان سیکیورٹی فورسز کی طرف سے آغاز نہ کیا جاتا تو ان سب سے بچا جاسکتا تھا۔انہوں نے زور دیا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے مفاد میں افغانستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے اپنی مخلصانہ کرتا ہے۔دفتر خارجہ نے امید ظاہر کی کہ ہماری تعمیری کاوشوں کا مثبت بدلہ دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ 31 جولائی چمن میں فرینڈشپ گیٹ بارڈر کراسنگ پر مشتعل مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ میں ایک خاتون سمیت کم از کم 3 افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوگئے تھے جبکہ پاکستان اور افغان سیکیورٹی فورسز کے درمیان زبردست فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا تھا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ جمعرات کو بڑی تعداد میں لوگوں نے اکٹھے ہوکر سرحد عبور کرنے کے ارادے سے فرینڈشپ گیٹ پر دھرنا دیا۔فرنٹیئر کورپس (ایف سی) کے اہلکاروں نے انہیں گیٹ سے ہٹ جانے کو کہا تاہم انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کردیا تھا۔ایف سی حکام نے انہیں بتایا تھا کہ مظاہرین کی منتقلی تک گیٹ نہیں کھولا جائے گا۔
دریں اثنا خواتین اور بچوں سمیت افغان شہریوں کی ایک بڑی تعداد بھی افغانستان میں داخل ہونے کے لیے وہاں جمع ہوگئی تاہم جب سرحدی عہدیداروں نے گیٹ نہیں کھولا تو مظاہرین مشتعل ہوگئے اور فرینڈشپ گیٹ پر واقع ایف سی اور دیگر سرکاری اداروں کے دفاتر پر حملہ کیا اور ایف سی اور نادرا کے دفاتر کو آگ لگا دی۔بعد ازاں مظاہرین چمن شہر کی جانب گئے جہاں انہوں نے زبردستی تمام بازار اور شاپنگ مال بند کرادیے اور سڑکیں بند کردیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button