فیس کی عدم ادائی پر اسکولوں کو طلبہ کیخلاف کارروائی سے روک دیا گیا

سندھ ہائی کورٹ نے نجی اسکولوں کو مکمل ٹیوشن فیس کی عدم ادائی پر طالبعلموں کے خلاف کوئی سخت کارروائی کرنے سے روک دیا۔ ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت کا مئی اور اپریل کی ٹیوشن فیسوں میں 20 فیصد کمی کا دوسرا نوٹی فکیشن بھی معطل کردیا تھا، اس حکم میں تبدیلی کے لیے صوبائی قانونی افسر نے عدالت سے رجوع کیا تھا جس پر جسٹس ندیم اختر کی سربراہی میں عدالت عالیہ کے 2 رکنی بینچ نے 14 مئی تک کا حکم امتناع جاری کردیا۔
ایڈووکیٹ جنرل سندھ سلمان طالب الدین نے ایجوکیشن حکام کی جانب سے درخواست دائر کر کے 5 مئی کے حکم نامے میں اس تبدیلی کی استدعا کی تھی کہ طلبہ کی جانب سے مکمل ٹیوشن فیس کی ادائیگی نہ ہونے پر ان کے خلاف سخت کارروائی نہ کی جائے۔ساتھ ہی انہوں نے اسی بینچ کی جانب سے 22 اپریم کو جاری کردہ اسی طرح کا ایک اور حکم نامہ بھی جمع کروایا تھا۔جس پر بینچ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ’ان کی جانب سے کی گئی درخواست معقول معلوم ہوتی ہے اور فریقین کو نوٹسز جاری کردیے گئے، آئندہ سماعت تک کسی طالبعلم کی جانب سے مکمل فیس کی ادائی نہ ہونے کی صورت میں کوئی سخت اقدام نہیں اٹھایا جائے گا۔
بینچ نے دونوں فریقین کو 14 مئی کو ہونے والی آئندہ سماعت میں پیش ہونے کا حکم بھی دیا۔
قبل ازیں 5 مئی کو عدالت عالیہ نے صوبائی تعلیمی حکام کی جانب سے ٹیوشن فیس میں 20 فیصد رعایت کا نوٹیفکیشن 14 مئی تک کے لیے معطل کردیا تھا۔
یاد رہے کہ 7 اپریل کو حکومت سندھ ن کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے سبب والدین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے صوبے کے تمام نجی اسکولوں کو ماہ اپریل اور مئی کی فیسوں میں 20 فیصد کمی کی ہدایت کی تھی۔
جس پر دی ٹائمز ایجوکیشن پرائیویٹ لمیٹڈ اور دیگر نے ڈائریکٹوریٹ آف انسپیکشن/رجسٹریشن آف پرائیویٹ انسٹیٹیوشن، سندھ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈپارٹمنٹ کی جانب سے کو جاری نوٹی فکیشن کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ فریقین کے پاس اس قسم کے نوٹیفکیشن جاری کرنے کا کوئی اختیار نہیں اور نہ ہی نوٹیفکیشن میں یہ بات ظاہر کی گئی کہ یہ فیصلہ متعلقہ حکام یا کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا۔بعدازاں 16 اپریل کو سندھ ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت کی جانب سے 22 اپریل تک اسکولوں میں فیسوں میں 20 فیصد کمی کا نوٹی فکیشن معطل کردیا تھا۔ جس پر صوبائی حکومت نے اسکولوں کی فیس میں 20 فیصد رعایت کا پرانا نوٹی فکیشن واپس لے لیا تھا اور قواعد میں ترمیم کے بعد نیا نوٹی فکیشن جاری کیا تھا۔
جس کے خلاف درخواست گزاروں نے ڈائریکٹوریٹ آف انسپیکشن/رجسٹریشن آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشن کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے 28 اپریل کو جاری کیے گئے حکم کو چیلنج کیا تھا۔
درخواست گزاروں نے مؤقف اپنایا تھا کہ یہ قوانین سندھ پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹیٹیوشنل (ریگولیشن اینڈ کنٹرول) کے سیکشن 15 کے تحت بنائے گئے اور اس آرڈیننس میں سندھ پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹیٹیوشنز (ریگولیشن اینڈ امینڈمنٹ) ایکٹ، 2003 کے ذریعے ترمیم کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ترمیمی عمل امتیازی ہے کیونکہ ایک طرف نجی اسکولوں کو عملے کو 2 ماہ کی پوری تنخواہ دینے کی ہدایت کی گئی اور دوسری جانب اسکول فیس میں 20 فیصد کٹوتی کے احکامات جاری کیے گئے۔
چنانچہ 5 مئی کو سندھ ہائی کورٹ نے صوبائی محکمہ تعلیم کی جانب سے والدین کو 14 مئی تک 2 ماہ کی اسکول فیس میں 20 فیصد کمی سے متعلق جاری کیا گیا نیا نوٹی فکیشن بھی معطل کردیا تھاْ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button