فیشن ایبل داڑھی رکھنے والوں کو سزا دینے کی مجوزہ قرار داد

سابق حکمران جماعت مسلم لیگ ن کی رکن پنجاب اسمبلی رخسانہ کوثر نے ‘فیشن ایبل داڑھی’ رکھنے والے مردوں اور حجام کے خلاف سخت کارروائی کےلیے قانون سازی پر زور دیا ہے۔
انہوں نے اس حوالے سے قانون سازی کےلیے اسمبلی میں ایک قرار داد جمع کرائی ہے، جس کے مطابق داڑھی خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سنت ہے لہٰذا قانون سازی کر کے ‘داڑھی مبارکہ کی ڈیزائننگ کروانے والوں اور متعلقہ حجام کے خلاف سخت کاروائی کو یقینی بنایا جائے۔’
قرارداد کے متن کے مطابق: ‘داڑھی مبارک پر کسی قسم کی ڈیزائننگ وغیرہ سخت گناہ ہے اور یہ داڑھی کے ساتھ ساتھ سنت رسول ﷺ کی بھی توہین ہے۔ جو لوگ داڑھی پر ڈیزائننگ کرواتے ہیں، وہ گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں لہٰذا انہیں سخت سزا ملنی چاہیے۔’
Capture 38لیگی ایم پی اے رخسانہ کوثر نے کہا کہ وہ مذہبی تعلیمات پر سختی سے پابندی کی حامی ہیں اور جب سوشل میڈیا یا بازاروں میں ایسے مردوں کو دیکھتی ہیں جنہوں نے داڑھی کے بالوں سے چہرے پر طرح طرح کے ڈیزائن بنوا رکھے ہیں تو ان کا دل دُکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘داڑھی رکھنا اسلام میں سنت ہے، اس لیے پہلے تو سب مسلمان مردوں کو ایک بالشت تک داڑھی رکھنی چاہیے، مگر مذہب میں زبردستی نہیں ہے، اس لیے جو کٹوانا چاہے وہ مکمل شیو کرائے نہ کہ چہرے پر غیر مذہبوں کی طرح ڈیزائن بنوائے۔’ رخسانہ کوثر کے مطابق انہوں نے اپنے دائرہ اختیار کے مطابق مذہبی ناپسندیدہ فعل کی نشاندہی کر دی اور ایوان میں قراردادجمع کرادی۔ اب پاس ہو یا نہ ہو انہوں نے اپنا فرض ادا کردیا۔ ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ‘میرے خیال میں داڑھی پر ڈیزائن بنانے سے متعلق پابندی صرف پنجاب میں نہیں بلکہ پورے ملک میں ہونی چاہیے۔’ بقول رخسانہ کوثر: ‘ایسے فعل کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔ اگر کوئی زبان سے بات نہ مانے تو ایسا کرنے والوں اور ڈیزائن بنانے والے حجام کے خلاف سخت سزا کا تعین کیا جائے۔’ انہوں نے کہا کہ اگر وہ اپنے ارد گرد ایسا نوجوان دیکھتی ہیں جو سنت کا مذاق اڑاتا ہو تو وہ اسے روک کر پیار سے سمجھاتی ہیں، لیکن اس طرح عمل نہیں ہو رہا لہٰذا انہیں خیال آیا کہ اسے سخت سزا کے خوف سے روکا جاسکتا ہے۔
داڑھی کی شرعی حیثیت کے حوالے سے معروف عالم دین قاری حنیف جالندھری نے بتایا کہ شریعت میں کم از کم ایک بالشت تک داڑھی رکھنا سنت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘احادیث میں نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے حکم دیا کہ داڑھی کو بڑھاؤ، اس لیے مسلمانوں کو اپنے نبی کی سنت پر عمل کرنا ضروری ہے۔’
ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ‘جہاں تک داڑھی کے بالوں سے چہرے پر ڈیزائن بنوانے یا کٹوانے سے متعلق قانون سازی کی ضرورت کا تعلق ہے تو اس معاملے پر غور کرنے اور تجاویز کےلیے اسلامی نظریاتی کونسل کی مدد لی جانی چاہیے تاکہ شریعت کے مطابق اس بارے میں جامع حکمت عملی بنائی جاسکے۔’
چہرے پر داڑھی کے بالوں سے ڈیزائن بنوانے کے شوقین عادل خلیل نامی نوجوان کہتے ہیں کہ ‘اسلام میں تراش خراش کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ وہ چہرے پر داڑھی کے بالوں سے اسٹائل صرف نمایاں نظر آنے کے لیے بنواتے ہیں، ان کی یہ نیت نہیں ہوتی کہ وہ سنت کا مذاق اڑا رہے ہیں کیوں کہ بحیثیت مسلمان وہ اپنے نبی کی سنت پر عمل نہ کرنے پر نادم تو ہوسکتے ہیں لیکن مذاق کا تصور بھی نہیں کیاجاسکتا۔’ انہوں نے مزید کہا کہ وہ مسلسل ڈیزائن نہیں بنواتے صرف تقریبات کے موقع پر نمایاں نظر آنے کا شوق ہے، اسلام نرمی کا دین ہے اور اس میں معافی کی وسیع گنجائش ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button