فیصل ایدھی کو کرونا کے بعد کپتان بھی مشکوک

ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی کا کرونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد اب وزیراعظم عمران خان کو بھی لازمی اپنا کرونا ٹیسٹ کروانا پڑے گا چونکہ 15اپریل کو فیصل ایدھی نے وزیراعظم آفس میں عمران خان سے ملاقات کی تھی اور انہیں کرونا فنڈ کے لیے ایک کروڑ روپے کا امدادی چیک دیا تھا۔
پچھلے ایک ہفتے سے اسلام آباد میں مقیم فیصل ایدھی کے بیٹے سعد ایدھی نے یہ انکشاف کیا ہے کہ جب طبیعت خراب ہونے پر ان کے والد کا کرونا ٹیسٹ کرایا گیا تو وہ مثبت آیا۔ دوسری طرف فیصل ایدھی نے بھی کرونا وائرس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اسلام آباد میں موجودگی کے دوران 16اپریل کو سردرد، بخار محسوس ہوا، دو روز تک یہی علامات رہیں تو دوستوں نے ٹیسٹ کا مشورہ دیا، بظاہر کوئی علامت نہیں لیکن ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔فیصل ایدھی نے بتایا کہ ڈاکٹر نے ایک ہفتے تک انہیں آئسیولیشن میں رہنے کی ہدایت کی ہے۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ فیصل ایدھی کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد اب ایسے لوگوں کی فہرست تیار کی جارہی ہے جن سے پچھلے ایک ہفتے کے دوران فیصل ایدھی نے ملاقات کی ہے۔ ایسے لوگوں میں سرفہرست نام وزیراعظم عمران خان کا ہے جن کو اب اپنا کرونا ٹیسٹ کروانا ہوگا تاکہ پتہ چل سکے کہ وہ فیصل ایدھی سے یہ انفیکشن تو حاصل نہیں کر چکے۔
یاد رہے کہ وزیراعظم سے ملاقات کے بعد فیصل ایدھی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں بتایا تھا کہ وہ وزیراعظم کے پاس آدھا گھنٹہ بیٹھے رہے لیکن ان کو نہیں معلوم تھا کہ میں کون ہوں۔ تاہم وہاں موجود ایک بزنس مین نے وزیراعظم سے میرا تعارف کروایا جس کے بعد میں نے ان سے ہاتھ ملایا اور انہیں امدادی چیک پیش کیا۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جس وقت فیصل ایدھی نے وزیراعظم سے ہاتھ ملایا اور چیک پیش کیا تب تک وہ کرونا کا شکار ہو چکے تھے چونکہ یہ مرض اپنی علامات دکھانے میں پندرہ دن لیتا ہے۔ یاد رہے کہ فیصل ایدھی اب بھی اسلام آباد میں موجود ہیں اور انہیں وزیراعظم کے کرونا فنڈ میں ایک کروڑ روپیہ جمع کروانے پر شدید عوامی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
خیال رہے کہ پاکستان کی سب سے بڑی خیراتی اور فلاحی تنظیم ایدھی فاؤنڈیشن نے کرونا وائرس کی مہلک وبا پھیلنے کے بعد صرف کراچی شہر میں اپنی پانچ ایمبولینسز کرونا سے مرنے والوں کی تجہیز و تکفین کے لئے مختص کر رکھی ہیں۔ اس حوالے سے ایدھی رضاکاروں کو خصوصی تربیت دی گئی ہے اور انہیں کرونا سے مرنےوالوں کی میتوں کو غسل دینے کے لیے خاص قسم کے حفاظتی لباس بھی فراہم کیے گئے ہیں۔ ایدھی رضاکار اپنی مخصوص ایمبولینسز پر کرونا کے باعث مرنے والوں کی میت کو ہسپتال سے اپنے مردہ خانوں میں منتقل کرتے ہیں جہاں انھیں حفاظتی انتظامات کے ساتھ غسل دے کر کفن پہنایا جاتا ہے بعد ازاں میت کو ایدھی کی ایمبولینسز میں ہی مرنے والے کے ورثاء کی ہدایات کے مطابق مخصوص قبرستان میں تدفین کے لیے پہنچایا جاتا ہے۔ کرونا کا شکار ہو کر موت کے منہ میں جانے والوں کی تدفین کا سارا عمل ایدھی کے تربیت یافتہ رضاکار ہی سرانجام دیتے ہیں اور اس دوران میت کے ورثاء دور سے ایک گاڑی میں بیٹھے تدفین کے عمل میں شرکت کرتے ہیں۔
ایدھی رضاکاروں کی جانب سے احتیاطی تدابیر کے ساتھ کرونا وائرس سے مرنے والوں کی میتوں کو غسل دینے اور تدفین کا عمل معمول کے مطابق جاری تھا کہ حالیہ دنوں یہ دلخراش انکشاف ہوا کہ ایدھی فاؤنڈیشن سے تعلق رکھنے والے رضاکاروں نے ایک ایسی میت کو غسل دے کر اس کی تدفین کی جس کے بارے میں ورثاء نے یہ بات چھپائی کے اسے کرونا کا مرض لاحق تھا۔ حقیقت سامنے آنے کے بعد تجہیز و تکفین میں حصہ لینے والے ایدھی رضاکاروں کے کورونا ٹیسٹ کروائے گئے تو ان میں سے پانچ افراد کا نتیجہ پازٹیو آیا۔
اب غالب امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انہی کرونا وائرس ذدہ رضاکاروں کی وجہ سے ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی بھی کورونا وائرس کا شکار ہوئے جس کے بعد وہ اسلام آباد گئے اور وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں چیک دینے کے علاوہ وہاں دیگر کئی شخصیات سے ملاقات کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button