فیصل واوڈا بچ جائے گا یا گھر جائے گا؟

اپنی دہری شہریت چھپانے کے کیس میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے بلائے جانے کے باوجود پیش نہ ہونے کے بعد وفاقی برائے آبی وسائل وزیر فیصل واوڈا کے سر پر نا اہلی کی تلوار لٹکانے لگی ہے۔
20 جولائی کو پیش نہ ہونے کے بعد الیکشن کمیشن نے انکے خلاف یکطرفہ کارروائی کا عندیہ دیا ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ فیصل واوڈا آئندہ پیشی پر حاضر نہ ہوئے تو درخواست گزار کو سن کر یکطرفہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
واضح رہے کہ تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی فیصل واوڈا کے حوالے سے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق وہ 2018ء کے عام انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کرواتے وقت امریکی شہری تھے اور ان کی جانب سے الیکشن کمیشن میں جمع کرایا جانے والا یہ حلف نامہ جعلی تھا کہ ان کے پاس غیر ملکی شہریت نہیں ہے۔ 11 جون 2018ء کو کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت وہ امریکی شہری تھے۔ کاغذات کی اسکروٹنی کے وقت بھی ان کی امریکی شہریت برقرار تھی۔ فیصل واوڈا نے اپنے کاغذات نامزدگی میں حلفاً کہا تھا کہ وہ صرف پاکستانی شہری ہیں تاہم دستاویزات سے ثابت ہوا جب انہوں نے کاغذات جمع کرائے وہ امریکی شہری تھے۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ثابت ہوجائے کہ کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت وہ امریکی شہری تھے تو واوڈا نااہل ہوجائیں گے۔
20 جولائی کو دہری شہریت چھپانے کے الزام میں نااہلی کی درخواستوں پر سماعت کے لیے 5 رکنی الیکشن کمیشن کے سامنے پیش نہ ہونے پر چیف الیکشن کمشنر برہم نظر آئے۔ تاہم انہوں نے فیصل واوڈا کو 20 روز کی مہلت دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگلی تاریخ پر انہیں ہر صورت پیش ہونا پڑے گا۔ الیکشن کمیشن نے واوڈا کے خلاف دائر درخواست کے قابل سماعت ہونے کے متعلق جواب طلب کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت پر آپ جواب جمع کرا کر دلائل بھی دیں۔ الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کی جانب سے آئندہ سماعت پر کوئی پیش نہ ہوا تو یکطرفہ کارروائی کریں گے۔ درخواست کی سماعت کے دوران چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ فیصل واوڈا کی جانب سے 2 جون کو کیس خارج کرنے کی درخواست دائر کی گئی تھی۔ اس حوالے سے درخواست گزاروں نے کوئی جواب جمع نہیں کرایا ہے. تاہم درخواست گزار نے اس موقع پر کہا کہ گزشتہ سماعت پر فیصل انہیں واوڈا کی درخواست کی کاپی نہیں دی گئی تھی،جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آپ کو وقت دیتے ہیں، آئندہ سماعت پر آپ بھی اپ ا جواب جمع کرائیں۔ الیکشن کمیشن نے درخواستگزاروں کو جواب جمع کرانے کے لیے 15 روز کی مہلت دے دی۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے فیصل واوڈا کیخلاف نا اہلی سے متعلق درخواستوں کی سماعت میں وفاقی وزیر اور ان کے وکیل کی غیر حاضری پر یکطرفہ فیصلہ دینے کا عندیہ دیتے ہوئے مزید کارروائی 10 اگست تک ملتوی کردی۔
واضح رہے کہ 2018 میں سپریم کورٹ نے ن لیگ کے سینیٹرز سعدیہ عباسی اور ہارون اختر کو کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت دہری شہریت پر نااہل قرار دیا تھا، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ واضح کر دیا تھا کہ کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت امیدواروں کے پاس غیر ملکی شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ ہونا چاہئے۔ اسی بات پر سپریم کورٹ نے کئی ارکان پارلیمنٹ کو نا اہل قرار دیا تھا جس میں نون لیگ کے دو سینیٹر بھی شامل ہیں۔ دونوں نے کافی عرصہ قبل ہی شہریت کی تنسیخ کیلئے درخواست دے رکھی تھی لیکن طویل طریقہ کار کی وجہ سے کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت ان کے پاس یہ سرٹیفکیٹ نہیں تھا۔
واوڈا کے معاملے میں کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ 8 جون 2018 تھی جسے مزید تین دن کیلئے بڑھایا گیا تھا۔ واوڈا نے اپنے کاغذات 11؍ تاریخ کو جمع کرائے اور ایک حلف نامہ بھی جمع کرایا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس غیر ملکی شہریت نہیں ہے۔ این اے 249؍ سے ریٹرننگ افسر نے ان کے کاغذات کی 18؍ جون 2018ء کو منظوری دی جس کے بعد 22؍ جون 2018ء کو واوڈا نے امریکی شہریت کی تنسیخ کیلئے شہر میں امریکی قونصل خانے میں درخواست جمع کرائی جس کا مطلب یہ ہوا کہ کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت وہ امریکی شہری تھے۔
اگرچہ شہریت کی تنسیخ کا عمل مختلف محکموں سے کلیئرنس کے بعد کچھ ہفتوں میں مکمل ہوتا ہے لیکن واوڈا دستیاب دستاویزات کے مطابق قونصل خانے کی طرف سے انہیں شہریت کی تنسیخ کا سرٹیفکیٹ 25؍ جون 2018ء کو جاری کیا گیا۔ واوڈا کی اپنی پارٹی سے تعلق رکھنے والے ماہرین قانون متفق ہیں کہ کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت جس امیدوار کے پاس غیر ملکی دوہری شہریت ہوگی وہ نہ صرف فوری طور پر نا اہل قرار دیا جا سکتا ہے بلکہ اسے جھوٹ بولنے پر سزا بھی ہو سکتی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق واوڈا کے معاملے میں آرٹیکل 63؍ ون سی کے تحت کارروائی بھی ہو سکتی ہے اور انہیں نا اہل قرار دیا جا سکتا ہے، یا پھر ان کا انتخاب کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے، یا پھر انہیں جھوٹ بولنے پر سزا سنائی جا سکتی ہے۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ 10 اگست کو فیصل واڈا الیکشن کمیشن میں پیش ہوتے ہیں یا ان کیخلاف نااہلی کیس میں یکطرفہ کارروائی آگے بڑھائی جاتی ہے۔
