فیض حمید عمران خان کے خلاف سرکاری گواہ نہیں بن رہے، وکیل فیض حمید

سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے وکیل نے واضح کیا ہے کہ ان کے موکل پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف کسی بھی مقدمے میں سرکاری گواہ نہیں بن رہے۔
فیض حمید کے وکیل بیرسٹر میاں علی اشفاق نے ان رپورٹس کو سختی سے مسترد کر دیا جن میں یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ ان کے موکل عمران خان کے خلاف سرکاری گواہی دینے پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی خبریں محض قیاس آرائیوں پر مبنی اور بے بنیاد ہیں۔
بیرسٹر میاں علی اشفاق نے کہا کہ میڈیا اور سیاسی حلقوں میں گردش کرنے والی ان اطلاعات میں کوئی حقیقت نہیں جن میں کہا جا رہا ہے کہ فیض حمید عمران خان کے خلاف مقدمات میں سرکاری گواہ بننے پر غور کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ تمام دعوے سراسر بے بنیاد اور مفروضوں پر مبنی ہیں۔
یہ وضاحت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بعض وفاقی وزرا اور اسٹیبلشمنٹ سے قربت کے حوالے سے معروف سینیٹر فیصل واوڈا متعدد بار یہ بیان دے چکے ہیں کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی عمران خان کے خلاف گواہی دیں گے۔ اسی تناظر میں عمران خان اور فیض حمید کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ، خصوصاً 9 مئی 2023 کے پُرتشدد واقعات کے حوالے سے بھی مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔
جب بیرسٹر میاں علی اشفاق سے سوال کیا گیا کہ آیا انہوں نے اس معاملے پر براہ راست اپنے موکل سے بات کی ہے، تو انہوں نے براہ راست ہاں یا ناں میں جواب دینے کے بجائے کہا کہ انہیں یہ بات بطور حقیقت معلوم ہے، جس سے انہوں نے اس تاثر کو مزید تقویت دی کہ فیض حمید کے سرکاری گواہ بننے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
فیض حمید اور عمران خان کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ سے متعلق قیاس آرائیوں کو سرکاری سرپرستی میں تشکیل دیا گیا بیانیہ قرار دیا جا رہا ہے، جو 9 مئی کے واقعات کے بعد مسلسل دہرایا جا رہا ہے۔ ان واقعات کے دوران عمران خان کی گرفتاری کے بعد بعض فوجی تنصیبات پر حملے کیے گئے تھے۔
یہ قیاس آرائیاں اس وقت مزید شدت اختیار کر گئیں جب حال ہی میں فوجی عدالت نے فیض حمید کو 14 سال قید کی سزا سنائی۔
وفاقی کابینہ کے سینئر ارکان، وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ متعدد مواقع پر یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ 9 مئی کے پُرتشدد واقعات عمران خان اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی کے درمیان مبینہ مربوط منصوبہ بندی کا نتیجہ تھے۔ تاہم، ان دعوؤں کے باوجود فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر نے تاحال اپنی کسی بریفنگ میں عمران خان اور فیض حمید کے درمیان کسی گٹھ جوڑ کی تصدیق نہیں کی۔