فیض حمید کا عمران کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے کا امکان

معروف لکھاری اور تجزیہ کار رؤف کلاسرا نے اس امکان کا اظہار کیا ہے کہ 14 برس قیدِ بامشقت کی سزا پانے والے فیض حمید ممکنہ طور پر 9 مئی 2023 کو فوجی تنصیبات پر حملوں کے کیسز میں عمران خان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن سکتے ہیں۔
اپنے سیاسی تجزیے میں رؤف کلاسرا کہتے ہیں ک فیض حمید کے خلاف 9 مئی کے حملوں کا کیس زیرسماعت ہے اور سینیٹر فیصل واوڈا دعویٰ کر رہے ہیں کہ فیض بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد اور گواہیاں اگلے کورٹ مارشل میں پیش کریں گے، جو انتہائی خطرناک نوعیت کی ہوں گی۔ کلاسرا کے مطابق اگر واوڈا کے سابقہ بیانات کی درستگی کو سامنے رکھا جائے تو عمران خان اور پارٹی قیادت کے لیے 9 مئی کے مقدمات میں بچ نکلنے کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔
رؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ آرمی چیف بننے کے سفر میں جیل تک جا پہنچنے والے فیض حمید کی جانب سے عمران خان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے کی باتیں اس لیے ہو رہی ہیں کہ ان کے اور پراسیکیوٹرز کے درمیان کسی سطح پر انڈرسٹینڈنگ موجود ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ممکن ہے فیض حمید کو جس بڑے مقدمے میں 14 برس کی سزا دینا مقصود تھی، وہ دی جا چکی ہو اور اب اگر وہ تعاون کریں تو عمران خان کو بھی ٹھوک دیا جائے۔ کلاسرا کہتے ہیں کہ ابتدا میں فیض حمید کو اس سے کہیں سخت سزا دی جا رہی تھی، تاہم 14 برس کی سزا پر اکتفا کیا گیا، جسے ممکن ہے چند برس بعد ویسے ہی معاف کر دیا جائے جیسے ماضی میں کورٹ مارشل کا شکار ہونے والے لیفٹیننٹ جنرل (ر) جاوید اقبال کی سزا معاف کی گئی تھی۔ اس ضمن میں یہ دلیل بھی دی جا رہی ہے کہ فوج اپنا پیغام دے چکی ہے کہ اگر ادارے کا اپنا سابق سربراہ بھی غلطی کرے تو اسے بھی سزا مل سکتی ہے۔
رؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ اگر مستقبل میں جنرل فیض حمید کو معافی دی جاتی ہے تو اس سے موجودہ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر اخلاقی طور پر مضبوط پوزیشن میں آئیں گے، تاہم ایسی معافی کے لیے وقت درکار ہو گا۔ کلاسرا ماضی کی مثالیں دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ وقت کے ساتھ بڑے زخم بھی بھر جاتے ہیں۔ انہوں نے جنرل باجوہ کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کس طرح ڈی جی آئی ایس آئی جنرل رضوان اور دیگر سینیئر افسران کی آرمی چیف بننے کی خواہش، اندرونی کشمکش اور بعد ازاں معافیاں اور سزائیں سامنے آئیں۔ ان کے مطابق جنرل باجوہ نے بعض فوجی فسران کو معاف کیا، مگر ساتھ ہی انہیں عہدوں سے ہٹا بھی دیا، جبکہ کچھ افسران کو سخت سزائیں بھی دی گئیں۔
رؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ جنرل باجوہ کے دور میں لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال کو 14 برس قید کی سزا دی گئی، جن کا تعلق بھی چکوال سے تھا، اور جن کی سزا بعد ازاں مرحلہ وار کم کی گئی۔ ان کے مطابق جنرل عاصم منیر نے آرمی چیف بنتے ہی جنرل جاوید اقبال کی باقی سزا معاف کر کے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا۔ انکے بقول وقت کے ساتھ فیصلے بدلتے رہتے ہیں اور اسی تناظر میں کوئی بعید نہیں کہ کچھ عرصے بعد جنرل فیض حمید کے معاملے میں بھی نرمی اختیار کر لی جائے۔ تاہم یہ بھی ممکن ہے کہ معاملہ جنرل ضیاء الحق اور ذوالفقار علی بھٹو کی مثال کی صورت اختیار کر لے، جہاں واپسی کا راستہ بند ہو جاتا ہے۔ کلاسرا کے مطابق آنے والا وقت ہی طے کرے گا کہ جنرل فیض حمید کو معافی ملتی ہے یا نہیں، اور آیا وہ جنرل جاوید اقبال کی طرح خوش قسمت ثابت ہوتے ہیں یا تاریخ ان کے لیے کوئی اور راستہ چنتی ہے۔
