فیض حمید کے بھائی کے خلاف اور کون سے کیسز بننے والے ہیں؟

 

 

 

ایف آئی اے نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کے پٹواری بھائی نجف حمید کے خلاف مالی خوردبرد اور زمینوں پر قبضوں سے متعلق شکایات کو محض اینٹی کرپشن قوانین تک محدود رکھنے کے بجائے اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت آگے بڑھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد اپنے بھائی جنرل فیض حمید کی طرح مالی بدعنوانی، کرپشن اور زمینوں پر غیر قانونی قبضوں کے معاملے میں بدنام نجف حمید کے لیے طویل قید کی راہ ہموار ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ مبصرین کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے کے اس فیصلے کے نتیجے میں نجف حمید کو اپنے بھائی فیض حمید کی طرح سخت اور دور رس قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ایف آئی اے ذرائع کے مطابق سابق پٹواری نجف حمید پر چکوال، راولپنڈی اور گرد و نواح کے علاقوں میں تعیناتی کے دوران کرپشن، جعلسازی اور لینڈ ریکارڈ میں رد و بدل کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ ان الزامات کے تحت جہاں متعدد شکایات پنجاب اینٹی کرپشن سٹیبلشمنٹ کے پاس زیرِ تفتیش ہیں وہیں اب وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے اس معاملے کو اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت دیکھنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس سے کیس کی سنگینی میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔

 

سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل (ر) فیض حمید کے بھائی نجف حمید کے خلاف ایف آئی اے اسلام آباد میں جعلسازی کے ذریعے اراضی اپنے نام کرانے کے الزام میں مقدمہ درج ہونے کے بعد تحقیقات نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق نجف حمید کے خلاف درج مقدمے میں اس پہلو کی بھی چھان بین کی جا رہی ہے کہ آیا غیر قانونی زمین الاٹمنٹ سے حاصل ہونے والی رقوم کو دیگر جائیدادوں، بینک اکاؤنٹس یا بے نامی اثاثوں میں منتقل تو نہیں کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اس مقصد کے لیے ملزمان اور ان کے قریبی رشتہ داروں کے مالی لین دین، بینک اسٹیٹمنٹس اور اثاثہ جات کا تفصیلی ریکارڈ حاصل کیا جا رہا ہے۔

 

تحقیقات سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ نجف حمید کے خلاف الزامات صرف اسلام آباد تک محدود نہیں۔ بطور پٹواری ان کی تعیناتی کے دوران چکوال، راولپنڈی اور ملحقہ علاقوں میں کرپشن، لینڈ ریکارڈ میں جعلسازی اور اثر و رسوخ کے استعمال سے متعلق متعدد شکایات پنجاب اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے پاس زیرِ غور رہیں۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان شکایات کی بنیاد پر مزید مقدمات بھی درج کیے جا سکتے ہیں۔

 

ایف آئی اے حکام کے مطابق نجف حمید کے خلاف درج شکایت کی ابتدائی تحقیقات میں جعلسازی، دھوکہ دہی، بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے واضح شواہد سامنے آئے ہیں، جس کے بعد باقاعدہ مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ زمین کے اصل ریکارڈ، رجسٹریاں، انتقالات، اسٹامپ پیپرز تحویل میں لیے جا رہے ہیں جبکہ سب رجسٹرار دفاتر اور ریونیو اداروں سے تصدیق بھی حاصل کی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ نجف حمید کے خلاف جاری تحقیقات میں کسی دباؤ یا رعایت کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا۔ آئندہ دنوں میں ملزمان اور متعلقہ ریونیو اسٹاف کو طلب کر کے پوچھ گچھ کی جائے گی، بیانات قلمبند ہوں گے اور اگر شواہد نے تقاضا کیا تو گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جا سکتی ہیں۔

 

مبصرین کے مطابق نجف حمید کے خلاف یہ مقدمہ محض ایک زمین کے تنازعے تک محدود نہیں بلکہ یہ اس پورے نظام پر سوالیہ نشان ہے جو برسوں سے بااثر عناصر کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنا رہا۔ اب یہ کیس احتساب، شفافیت اور قانون کی بالادستی کے دعوؤں کے لیے ایک سنجیدہ امتحان بن چکا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ آیا یہ تحقیقات منطقی انجام تک پہنچتی ہیں یا ایک بار پھر طاقتورحلقوں کے دباؤ کی وجہ سے نجف حمید بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

Back to top button