فیض حمید کی چالاکیوں اور ہوشیاریوں نے انہیں کیسے ڈبویا؟

چکوال کے ایک معمولی کاشت کار گھرانے سے تعلق رکھنے والے فیض حمید اپنی ہوشیاریوں اور چالاکیوں کی وجہ سے لیفٹینٹ جنرل کے عہدے پر پہنچ کر آئی ایس آئی کے سربراہ تو بن گئے لیکن ان کی یہی شاطرانہ طبیعت بالاخر انہیں لے ڈوبی جس کا نتیجہ ان کے کورٹ مارشل کی صورت میں نکلا اور اب وہ اگلے 14 برس قید میں گزاریں گے۔
فیض حمید کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ وہ سب سے بڑے فوجی عہدے کی اہلیت نہ رکھنے کے باوجود آرمی چیف بننا چاہتے تھے۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے انہوں نے 2018 کے الیکشن میں عمران خان کو دھاندلی کے ذریعے وزیر اعظم بنوانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ بعد میں عمران خان کے ذریعے لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو ہٹوا کر انہوں نے خود کو آئی ایس آئی کا سربراہ مقرر کروایا۔ فیض کی خواہش یہی رہی کہ وہ ہر صورت آرمی چیف بنیں، اور اس مقصد کے لیے وہ غیر معمولی رسک لینے تک کو تیار رہتے تھے۔ اسی ایجنڈے کے تحت انہوں نے عمران خان کے دور حکومت میں تحریک انصاف کا سیاسی ایجنڈا آگے بڑھاتے ہوئے عمران کے سیاسی مخالفین کو انتقامی کاروائیوں کا نشانہ بنایا۔
ان کا منصوبہ یہ تھا کہ آرمی چیف بننے کے بعد وہ بشریٰ بی بی کے ذریعے عمران خان کو دوبارہ وزیر اعظم بنوائیں گے، پھر خود ایکسٹینشن لیں گے، آئین میں تبدیلی کے ذریعے ملک میں صدارتی نظام نافذ کریں گے، چھ سال آرمی چیف رہنے کے بعد حکومت برطرف کریں گے، عمران خان کو سیاسی منظر نامے سے الگ کریں گے اور بالآخر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی طرز پر تاحیات پاکستان کے صدر بن جائیں گے۔
اپنے عسکری کیریئر میں فیض حمید نے بطور بریگیڈیئر راولپنڈی کی 10 کور کے چیف آف سٹاف کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ بطور میجر جنرل وہ پنوں عاقل ڈویژن کے جنرل آفیسر کمانڈنگ رہے، جس کے بعد وہ ڈھائی سال تک آئی ایس آئی کے کاؤنٹر انٹیلیجنس ونگ کے سربراہ رہے، جسے ڈی جی سی کہا جاتا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی کے بعد انہوں نے دو ماہ تک ایڈجوٹنٹ جنرل کی ذمہ داریاں نبھائیں۔ 2019 میں انہیں آئی ایس آئی کا ڈائریکٹر جنرل تعینات کر دیا گیا جہاں وہ دو سال سے زیادہ عرصہ تعینات رہے۔
سنہ 2021 میں انہوں نے آٹھ ماہ تک کور کمانڈر پشاور کے طور پر کام کیا۔ یہاں سے ہٹائے جانے کے بعد وہ چند ہفتے کے لیے بہاولپور کے کور کمانڈر بھی رہے۔ بطور بریگیڈیئر انہوں نے 2015 میں تب کے کور کمانڈر راولپنڈی لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ کے ماتحت کام کیا اور اسی دوران ان دونوں کے درمیان گہرا ذاتی تعلق بھی قائم ہو گیا۔ جولائی 2016 میں ان کے بھائی سکندر حیات چکوال میں کھیتوں میں کام کرتے ہوئے اپنے ٹریکٹر تلے آ کر مارے گئے تو لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ اگلے ہی روز چکوال کے قصبے لطیفال ان کی تعزیت کے لیے پہنچے۔ اسی سال کے اختتام پر جب جنرل باجوہ آرمی چیف بنے تو انہوں نے میجر جنرل فیض حمید کو پنوں عاقل سے تبدیل کر کے آئی ایس آئی میں ڈی جی کاؤنٹر انٹیلیجنس تعینات کر دیا۔
نومبر 2017 میں اسلام آباد کے فیض آباد دھرنے کے دوران فیض حمید کا نام تب نمایاں ہوا جب وہ حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان ہونے والے ہونے والے تحریری معاہدے میں ضامن بنے۔ اسی معاہدے نے انہیں عوامی سطح پر معروف کیا اور بعد ازاں یہ سلسلہ رک نہ سکا۔ سپریم کورٹ نے اس دھرنے سے متعلق اپنے فیصلے میں وزارت دفاع کے ذریعے آرمی چیف اور فوجی سربراہ کو ہدایت کی تھی کہ وہ ان اہلکاروں کے خلاف کارروائی کریں جنہوں نے سیاست میں مداخلت کی۔ یہ فیصلہ چیف جسٹس جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تحریر کیا تھا۔
سنہ 2017 سے 2019 تک بطور ڈی جی سی فیض پر مسلم لیگ ن کی جانب سے سیاسی انتقام، گرفتاریوں اور وفاداریاں تبدیل کروانے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے۔ تحریک انصاف کی سیاسی پشت پناہی میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی ظہیر الاسلام کے بعد فیض حمید کلیدی کردار ادا کیا اور انہی کے دور میں عمران کو وزیر اعظم بنوایا گیا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق فوج کی سیاسی معاملات میں مداخلت ماضی میں بھی ہوتی رہی ہے مگر فیض حمید کے دور میں یہ عمل خاصا نمایاں اور کھلم کھلا دیکھا گیا۔ اس دور میں عوامی حلقوں میں بھی آئی ایس آئی کا کردار بحث کا موضوع بن گیا، اس سے پہلے یہ سرگرمیاں زیادہ تر پس پردہ کی جاتی تھیں۔ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا اور طالبان سے مذاکرات میں بطور ڈی جی آئی ایس آئی فیض کا کردار نمایاں رہا۔ کابل کے ایک ہوٹل میں غیر ملکی صحافیوں سے ان کی گفتگو اور تصاویر کے منظر عام پر آنے کے بعد یہ تنقید بھی ہوئی کہ خفیہ ایجنسی کے سربراہ کو اس طرح سامنے نہیں آنا چاہیے۔
اسی دوران نئے آئی ایس آئی چیف کی تقرری کا معاملہ سامنے آیا تو عمران نے خواہش ظاہر کی کہ فیض حمید مزید کچھ عرصہ اسی عہدے پر کام کرتے رہیں۔ تاہم آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی جانب سے اسکی مخالفت کے بعد لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کو آئی ایس آئی کا سربراہ بنا دیا گیا۔ وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے اس تعیناتی کی سمری پر دستخط میں تاخیر دے فوج اور حکومت کے باہمی معاملات کافی کشیدہ ہو گئے تھے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فیض سے متعلق پیدا ہونے والے تنازعات میں عمران خان کی حکومت کا بھی کردار رہا، کیونکہ انہوں نے بطور وزیراعظم فیض کو حد سے زیادہ نمایاں کیا جس کے باعث ان کا نام براہ راست سیاست کے ساتھ منسلک ہو کر رہ گیا۔
فیض حمید نے آرمی چیف بننے کی خاطر جنرل عاصم منیر کے راستے میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔نومبر 2022 میں جب جنرل عاصم منیر نے آرمی چیف کا عہدہ سنبھالا تو اگلے ہی روز فیض نے فوج سے استعفیٰ دے دیا۔ چھ ماہ بعد ان کے خلاف کارروائی کا آغاز ہوا اور بالآخر وہ آئی ایس آئی کے پہلے سربراہ بنے جنہیں افیشل سیکرٹ ایکٹ کے خلاف ورزی اور سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات پر 14 برس قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔
