فیول ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے جولائی کے بجلی کے بلوں میں کمی کا امکان

سابقہ واپڈا کی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کے لیے ماہانہ فیول کوسٹ ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کی مد میں 29 پیسے فی یونٹ کمی کو منظور کرتے ہوئے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کہا ہے کہ مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے ایک ٹرمینل کی بندش پر اسے اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
ڈسکوز کی جانب سے سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کی ٹیرف پٹیشن پر عوامی سماعت کی صدارت کرتے ہوئے نیپرا کے چیئرمین توصیف ایچ فاروقی نے کہا کہ اینگرو فلوٹنگ اسٹوریج ری گیسفائیڈ یونٹ (ایف ایس آر یو) کے ڈرائی ڈاکنگ کے دوران ایل این جی ٹرمینل کی بندش اور بجلی کی پیداوار کے لیے متبادل مہنگے فیول کے استعمال سے متعلق ریگولیٹر کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
سی پی پی اے نے ریگولیٹر سے درخواست کی تھی کہ مئی 2021 میں ایف سی اے میکانزم کے تحت صارفین کو زیادہ سے زیادہ 12 پیسے فی یونٹ کی واپسی کی اجازت دی جائے۔
تاہم نیپرا حکام نے نشاندہی کی کہ فی یونٹ فیول چارج 5.6734 روپے فی یونٹ کے مقابلے میں ریفرنس فیول چارج 5.9322 روپے فی یونٹ تھا جو 26 پیسے کا فرق ہے۔
اسی طرح اقتصادی میرٹ آرڈر سے ایک اور انحراف کی نشاندہی کی گئی جس کی وجہ سے 35 کروڑ 42 لاکھ 90 ہزار روپے یا فی یونٹ تقریباً 3 پیسا، اضافی بوجھ پڑا۔
اس طرح نیپرا نے تقریبا 29 پیسے فی یونٹ کمی کی جس سے مجموعی طور پر 3 ارب 60 کروڑ روپے کا مالی اثر پڑتا ہے۔
تاہم صارفین کو عملی طور پر صرف ایک ارب 80 کروڑ روپے کی واپسی کی جائے گی کیونکہ اس کمی کو 300 یونٹ سے کم استعمال کرنے والے اور زرعی صارفین کو اس بنیاد پر اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ پہلے ہی سبسڈی سے فائدہ اٹھارہے ہیں۔
جولائی کے بلنگ مہینے میں صارفین کے بلوں میں فیول کی کم لاگت کو ایڈجسٹ کیا جائے گا۔
ان نرخوں کا اطلاق کے الیکٹرک صارفین پر نہیں ہوگا۔
سماعت کے دوران نیپرا حکام نے بتایا کہ بجلی کمپنیوں نے مئی میں غیر موثر پاور پلانٹس چلائے تھے اور بجلی کی پیداوار کے لیے 800 ایم ایم سی ایف ڈی کی بجائے صرف 600 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی فراہمی رپورٹ کی تھی اور اسی وجہ سے بجلی کے غیر موثر پلانٹس اور نظام کی کمزوریوں کی وجہ سے زیادہ لاگت کو صارفین تک منتقل نہیں کیا جانا چاہیے۔
نیپرا کے سربراہ نے ٹرانسمیشن سسٹم میں بار بار ہونے والی خرابیوں پر برہمی کا اظہار کیا اور حیرت کا اظہار کیا کہ جب حکومت بجلی گھر لگارہی تھی تو نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کے اعلیٰ عہدیدار سو رہے تھے؟۔
انہوں نے سوال کیا کہ ‘جب وہ نئے پاور پلانٹس لگا رہے تھے تو این ٹی ڈی سی نے ٹرانسمیشن سسٹم کو اپ گریڈ کرنے کے بارے میں حکومت کے نوٹس میں کیوں نہیں لایا؟’۔
عوامی سماعت کو بتایا گیا کہ مئی میں تمام ذرائع سے توانائی کی مجموعی پیداوار 13 ہزار 9 گیگا واٹ فی گھنٹہ (جی ڈبلیو) ریکارڈ کی گئی جس کی کل قیمت 74 ارب روپے فی یونٹ 5.7 روپے ہے اور اس میں سے تقریبا 12 ہزار 678 گیگا واٹ، فی یونٹ 5.8 روپے ڈسکوز کو پہنچایا گیا۔
