قائد اعظم محمد علی جناح کی اصل قبر کہاں واقع ہے؟


بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ کراچی میں مزار قائد پر موجود وہ قبر جہاں سب فاتحہ خوانی کرتے ہیں وہ دراصل محمد علی جناح کی علامتی قبر ہے۔ تو پھر سوال اٹھتا ہے کہ بانی پاکستان قائد اعظم کی اصل قبر کہاں واقع ہے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ قائد کے مزار پر موجود قبر جہاں لوگ فاتحہ کیلئے حاضری دیتے ہیں اس قبر کے عین 25 فٹ نیچے ایک تہہ خانے میں قائد اعظم کی اصل قبر واقع ہے جہاں ہر کسی کو جانے کی اجازت نہیں ہے اور اہم ترین شخصیات کی بھی خصوصی اجازت نامے کے بعد ہی اس جگہ تک رسائی ممکن ہے۔ 1960 میں جب مزار قائد کی تعمیر شروع ہوئی تو یہ فیصلہ ہوا کہ اس مزار کو میلوں دور سے بھی نظر آنا چاہیے۔ لہذا یہ طے ہوا کہ قائد اعظم کی اصل قبر کے عین 25 فٹ اوپر ایک علامتی قبر بنائی جائے گی تاکہ بانی پاکستان کا مزار میلوں دور سے بھی نظر آئے۔
قائداعظم محمد علی جناح کی وفات کے بعد یہ بات تو طے تھی کہ ان کی تدفین کراچی میں ہوگی۔ البتہ ان کی قبر کے لئے جگہ کا انتخاب ایک اہم مسئلہ تھا۔ قائد کے مزار کی جگہ کے انتخاب کی ذمہ داری اس وقت کے ایڈمنسٹریٹر ہاشم رضا کو سونپی گئی۔ اس مقصد کے لئے چار پانچ مقامات کا جائزہ لیا گیا مگر ان میں کوئی نہ کوئی نقص پایا گیا۔بالآخر محترمہ فاطمہ جناح کے مشورہ سے موجودہ جگہ کا انتخاب کیا گیا۔ یہ جگہ اس لحاظ سے منفرد تھی کہ شہر کے عین وسط میں ایک بلند مقام پر واقع تھی اور کراچی کی مرکزی شاہراہ کے کنارے تھی۔ اب یہاں چھ بڑی سڑکیں آکر ملتی ہیں۔ تدفین کے بعد اس بات پر خصوصی توجہ دی گئی کہ بانیء پاکستان کی قبر پر جو بھی مزار بنایا جائے وہ نہ صرف قائد کے شایان شان ہو بلکہ ان کے عظیم شخصیت کی جیتی جاگتی تصویر بھی ہو۔
قائداعظم کو کراچی میں پرانی نمائش پر جس جگہ سپرد خاک کیا گیا وہ 144 ایکڑ رقبہ کا ایک ہموار قطعہ اراضی ہے جس پر 1948 میں قائد کی وفات کے وقت دو لاکھ مہاجرین نے جھونپڑیاں ڈال رکھی تھیں۔ قائد کے انتقال کے فوری بعد اس جگہ کو تدفین کے لیے چن لینے کے بعد وہاں آباد مہاجرین سے اپیل کی گئی کہ اس جگی کو خالی کر دیا جائے۔ چنانچہ ان جھگیوں کے مکینوں نے اپنے قائد کے لئے یہ جگہ خالی کردی۔ چنانچہ قائد کے جسد خاکی کو وہاں سپرد خاک کر گیا۔
ستمبر 1948ء سے فروری 1960 تک بابائے قوم کی قبر شامیانے تلے رہی۔ مزار کے لیے کل چار نقشے تیار کیے گئے تھے۔ایک نقشہ ترک آرکیٹیکٹ اے واصفی ایگلی، دوسرا آرکیٹیکٹ نواب زین یار جنگ اور تیسرا برطانوی آرکیٹیکٹ راگلن اسکوائر نے تیار کیا تھا۔ یہ تینوں نقشے رد کر دئیے گئے ۔بالآخر دسمبر 1959میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی خواہش پر نقشے کی تیاری کا کام ایک بھارتی آرکیٹیکٹ یحیےٰ مرچنٹ کو دیا گیا۔ مزار کے ڈیزائن کا بنیادی کام 28 جنوری 1960کو مکمل ہوگیا تھا۔ تعمیراتی کام کا باقاعدہ آغاز 8 فروری 1960کو ہوا۔ 31 جولائی 1960کو اس وقت کے فوجی صدر فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان نے مزار کا سنگ بنیاد رکھا۔ 31مئی 1966 کو مزار کا بنیادی ڈھانچہ مکمل ہوا اور 12جون 1970کو مزار کی عمارت کو سنگ مرمر سے آراستہ کرنے کا کام پایہ تکمیل تک پہنچا۔
23 دسمبر 1970 کو چین کے مسلمانوں کی جانب سے بطور تحفہ بھیجا گیا 81فٹ لمبا فانوس مزار کے گنبد میں نصب کر دیاگیا۔۔مزار قائد کی تعمیر پر ایک کروڑ 48 لاکھ روپے کی لاگت آئی جو اس زمانے میں ایک خطیر رقم تھی۔ مزار کا کل رقبہ 116ایکڑ مرکزی رقبہ 61ایکڑ اطراف کے 55ایکڑ پر مشتمل ہے۔ تاہم بہت کم لوگوں کو یہ حقیقت معلوم ہے کہ قائد کی اصل قبر انکی علامتی قبر سے 25 فٹ نیچے تہہ خانے میں واقع ہے۔
مزار قائد کے5 دروازے ہیں۔ ایم اے جناح روڈ پر واقع دروازے کا نام باب جناح، شاہراہ قائدین پر واقع گیٹ کا نام باب قائدین مشرقی جانب واقع دروازے کو باب تنظیم اور شمالی جانب واقع گیٹ کو باب امام ، پرانی نمائش پر واقع گیٹ کو باب اتحاد کا نام دیاگیا ہے۔ مزار کے مشرقی حصے میں ایک کمرے کے اندر پانچ قبریں ہیں۔ مزار قائد پر فاتحہ خوانی پر جانے والوں کی اکثریت اس کمرے تک نہیں پہنچ پاتی اس کی وجہ یہ نہیں کہ اس کمرے میں جانے پر اور وہاں موجود قبروں پر فاتحہ خوانی کرنے کی پابندی ہے بلکہ اس کی بڑی وجہ لوگوں کی ان قبروں کی وہاں موجودگی کے بارے میں لا علمی ہے۔  یہ قبریں معمولی افراد کی نہیں ہیں۔ بلکہ ان کے سیاسی سفر میں شریک رفقائے کار کی ہیں۔ ان میں سب سے پرانی قبر لیاقت علی خان کی ہے،دوسری قبر سردار عبدالرب نشتر کی ہے ،تیسری قبر محترمہ فاطمہ جناح کی ہے، چوتھی قبر محمد نورالامین کی ہے اور پانچویں قبر بیگم رعنا لیاقت علی خان کی ہے۔ رعنا لیاقت علی خان کی قبر کے علاوہ باقی چار قبروں پر کتبے بنگالی زبان میں بھی درج ہیں۔
مزار قائد کا اپنی منفرد عمارت اور اچھوتے طرز تعمیر کی وجہ سے پاکستان کی بہترین عمارتوں میں شمار ہوتا ہے۔ ایک اور خاص بات یہ ہے کہ مزار کی تعمیر میں استعمال ہونے والا تمام سامان ملکی ذرائع سے حاصل کیا گیا ہے اور یہ ہمارے ملکی معماروں اور ہنرمندوں کی شبانہ روز محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مزار کی تعمیر میں قائد کی شخصیت،کردار، مرتبے اور اسلامی فن تعمیر کو خصوصی طور پر مدنظر رکھا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button