قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد لینڈ مافیا کے نرغے میں

معروف پاکستانی سائنس دان اور ماہر تعلیم ڈاکٹر پرویز ہود بھائی نے دعوی ٰکیا ہے کہ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد لینڈ مافیا کے نرغے میں آ چکی ہے۔ کسی بھی تعمیراتی منصوبے کے آغاز سے قبل اس کے عوام پر پڑنے والے اثرات اور اس سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا جاتا ہے، سرکاری اداروں کو کسی بھی منصوبے کے آغاز سے قبل یہ بنیادی کام مکمل کرنا ہوتا ہے لیکن اسلام آباد مری روڈ کی تعمیر کیلئے اسلام آباد میں واقع قائداعظم یونیورسٹی کی زمین کو استعمال کرنے میں کوتاہی سے کام لیا گیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے منصوبے کی منظوری کے بعد سے بلڈوزر دن رات کھدائی کرتے ہوئے طلبا کے روشن مستقبل کو بھی کھود رہے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر پرویز ہود بھائی کا کہنا ہے کہ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں بغیر کسی روک ٹوک کے بلڈوزر چلائے گئے اور نہایت محبت سے لگائے اور پروان چڑھائے گئے سینکڑوں درختوں کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا گیا۔ یہ بلڈوزر یونیورسٹی سے گزرنے والی 76 میٹر چوڑی اسلام آباد مری ہائی وے کے لیے زمین تیار کر رہے تھے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم نے اگرچہ ان دیوہیکل مشینوں کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔ اس کے باوجود کیمپس کی سرحدی دیوار کے دونوں جانب تعمیراتی کام انتہائی تیز رفتاری سے جاری ہے۔
چند ہی سالوں میں یہ بستی جھونپڑیوں، ٹھیلوں، دکانوں اور پلازوں پر مبنی ایک ایسے غیر منظم ہجوم کی شکل اختیار کر لے گی جو پھیلتی ہی چلی جا رہی ہے، ڈاکٹر پرویز ہود بھائی کے مطابق بستی کے اوپر سے محفوظ طریقے سے گزرنے والا ایک ساڑھے تین سو کلومیٹر طویل پل تعمیر کرنے کا منصوبہ حکومت نے 2015 میں تجویز کیا تھا۔ کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی جانب سے اس سال کے شروع میں منظوری حاصل کرنے کے بعد اس پروجیکٹ کا آغاز کر دیاگیا لیکن پرویز ہود بھائی کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ کیا سی ڈی اے نے دیانت داری سے وزیراعظم کو اس کے نتائج اور اثرات سے آگاہ کیا؟ کیا انہیں سرکاری یونیورسٹی کی زمین کو تعلیم کے علاوہ دیگر مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے مضمرات کے بارے میں آگاہ کیا گیا؟ کیا انہیں بتایا گیا کہ جہلم میں ایسی ہی ایک کوشش کو سپریم کورٹ نے مئی 2009 میں غیر قانونی قرار دے دیا تھا؟ کیا انہیں اس منصوبے کی وجہ سے باقی تعلیمی اداروں پر پڑنے والے لینڈ مافیا کے دباؤ سے متعلق آگاہ کیا گیا تھا؟
پرویز ہود بھائی کے مطابق ان سوالوں کے جواب صرف اندر کے لوگ دے سکتے ہیں۔ سی ڈی اے کا منصوبہ قائد اعظم یونیورسٹی کے لیے تباہ کن ہے کیونکہ اس نے عیاری کے ساتھ یونیورسٹی کی زمین کو دو ایسے حصوں میں تقسیم کر دیا ہے جو باہمی طور پر غیر متصل ہیں اور ان کا کوئی رابطہ نہیں بنتا۔
زمینوں پر قبضہ کرنے والا مافیا بارہ کہو کے ساتھ والے حصے کو ہتھیانے کے لالچ میں ہے۔ یاد رہے کہ 1967 میں قائداعظم یونیورسٹی کو 1709 ایکڑ زمین عطیہ کی گئی تھی جس میں سے اس وقت 1250 ایکڑ سے بھی کم رقبہ یونیورسٹی کے تصرف میں ہے، یونیورسٹی کی 450 ایکڑ سے زیادہ اراضی اس وقت تجاوزات کرنے والوں کے قبضے میں ہے اور قبضہ کرنے والوں میں ایک پاکستان کا نمایاں سیاست دان ہے۔ ہود بھائی کے مطابق یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور اس کی سنڈیکیٹ کے ممبران نامعلوم وجوہات کی بنا پر قائد اعظم یونیورسٹی کے مستقبل کو خدشات سے دوچار کرنے کے بعد اس سارے منظرنامے سے غائب ہیں۔ وائس چانسلر اور سنڈیکیٹ کی مدت ملازمت رواں ہفتے ختم ہو چکی ہے۔ یہ سب لوگ واردات ڈالنے کے بعد سبز چراگاہوں میں منتقل ہو چکے ہیں۔ دراصل لکیر کی دوسری جانب دکانوں کے مالکان، مقامی بااثر افراد اور پراپرٹی ڈیلرز کا گٹھ جوڑ ہے۔ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اکیلے ہی یہ تینوں کردار نبھا رہے ہیں۔ چھوٹے اور بڑے تمام دکان دار فلائی اوور تعمیر کرنے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اس پروجیکٹ کے ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے کل 19 لوگوں سے انٹرویوز کیے گئے کیونکہ یہ ایک قانونی ضرورت ہے اور ان سب نے یونیورسٹی کی زمین کے استعمال کی مکمل حمایت کی تاہم ان میں سے کوئی بھی یونیورسٹی کا طالب علم، استاد یا سابق طالب علم نہیں تھا۔
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ قائداعظم یونیورسٹی احتجاج کے بعد بند کی جا چکی ہے۔ یونیورسٹی کا دفاع کرنے والے کہتے ہیں کہ اگر دوبارہ بلڈوزر چلائے گئے تو وہ ان کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے۔ ایسے میں پرویز ہود بھائی کے لئے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا قانون کی حکمرانی قائم ہو پائے گی؟ کیا عوامی املاک کا تحفظ کیا جا سکے گا؟ کیا لینڈ مافیا کو قابو میں رکھا جا سکے گا؟ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کے اندر اور باہر موجود زمینوں پر قبضہ کرنے والے لوگ جلد بازی میں منافع کمانے کے چکر میں عوامی بھلائی کی قیمت پر اپنی ذاتی دولت میں اضافہ کرتے جاتے ہیں، لہذا وزیر اعظم شہباز شریف کو اپنے فیصلے پر نظرثانی کی ضرورت ہے، اگر اس فیصلے پر عمل درآمد ہوا تو قوم کی مایوسی مزید بڑھ جائے گی۔
