قاسم سوری پر حملہ مسجد نبوی کے واقعے کا ردعمل نکلا


اسلام آباد کے ایک ریسٹورنٹ میں سحری کی غرض سے آنے والے آئین شکن قاسم سوری کو تب کھانا چھوڑ کر فرار ہونا پڑ گیا جب مشتعل نوجوانوں کے ایک گروہ نے غدار غدار کے نعرے لگاتے ہوئے ان پر حملہ کر دیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ واقعہ مسجد نبوی میں ہونے والے واقعے کا رد عمل ہے جسکی ویڈیوز اب سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہیں۔
ایسی ہی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ قاسم سوری اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھے سحری کھا رہے ہیں۔ اس دوران کچھ افراد کو ایک ٹیبل کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے جہاں قاسم سوری بیٹھے تھے۔ یہ نوجوان پی ٹی آئی مردہ باد اور غدار غدار کے نعرے لگانا شروع کر دیتے ہیں اور ٹیبل کے اوپر پہنچ جاتے ہیں۔ اس موقع پر قاسم سوری کے ساتھ بیٹھا ہوا ایک شخص اپنی ٹیبل پر پڑی سٹیل کی چھری لے کر ان پر حملہ آور ہو جاتا ہے۔ چنانچہ نوجوان پاس پڑی کرسیاں اٹھا کر ان پر پھینکنا شروع کر دیتے ہیں۔
اسلام آباد میں مقیم صحافی احسان اللہ ٹیپو محسود کے مطابق یہ حملہ جمہوری وطن پارٹی کے رہنما شاہ زین بگٹی کے حامیوں کی طرف سے کیا گیا تھا جنہیں کہ پی ٹی آئی والوں کی جانب سے مسجد نبوی میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان کے بال کھینچے گے۔ اس واقعے کی روداد بیان کرتے ہوئے موقع پر موجود سینئر صحافی شاہد میتلا بتاتے ہیں کہ میں اپنے دوستوں کیساتھ ٹیبل ٹاک ریسٹورنٹ میں بیٹھا تھا جب دو سفید ویگو گاڑیوں اور ایک لینڈ کروزرسے 15 سے 20 لوگ اترے اور انھوں نے کیفےسٹریٹ ون کے باہر کارنر ٹیبل کی طرف بڑھنا شروع کر دیا۔ یہ ویگو گاڑیاں کافی دیر سے کوہسار کی پارکنگ میں کھڑی کسی کا انتظار کر رہی تھیں۔ کچھ دیر کے بعدجب ایک لینڈ کروزر آئی تو وہاں سے اشارہ ملنےکے بعد حملہ آور حرکت میں آئے۔ اس ٹیبل پر قاسم سوری اپنے دوست خالد بھٹی اور عدیل مرزا کیساتھ بیٹھےتھے۔ خالد بھٹی اسلام آباد کے سب سے خوبصورت سیکٹر سی بارہ کے مالک اور قاسم سوری کے دوست ہیں۔ حملہ آوروں نے قاسم سوری کی ٹیبل پر پہنچتے ہی پی ٹی آئی مردہ باد کے نعرے لگانے شروع کر دیئے۔ میں پہلے سمجھا ن لیگ کے لوگ ہیں، پھر لگا ٹی ایل پی ہے، یہ بھی لگا کہ اصل ویگو والے نہ ہوں اور پی ٹی آئی کو سبق سکھانا چاہتے ہوں۔
خیر نعروں کے چند ہی سیکنڈ کےبعد ان افراد نے ٹیبل پر پڑی چیزیں خالد بھٹی اور قاسم سوری کو مارنا شروع کر دیں۔ پھر ایک آدمی خالد بھٹی کی طرف لپکا اور دوسرے نے قاسم سوری پر حملہ کر دیا اوران کی گردن پر تھپڑ جڑ دیا۔ اسی اثناء میں دوسری ٹیبل پر بیٹھے ڈاکٹر عارف بھی لڑائی میں کود پڑے۔ ڈاکٹر عارف پی ٹی آئی کے پرانے ورکر اور بنی گالہ کے رہائشی ہیں۔ ڈاکٹر عارف اور شعیب نامی لڑکے نے جلدی سے قاسم سوری کو بچا کر ریسٹورنٹ کی بالائی منزل پر پہنچا دیا لیکن لڑائی جاری تھی ۔قاسم سوری چند ہی سیکنڈ میں اوپر پہنچ گئےتھے۔ ویٹرز نے قاسم سوری اور ان کے ساتھیوں کو بچانے میں بہت اہم کردار ادا کیا ورنہ حملہ آور تعداد میں زیادہ ہونے کے باعث زیادہ نقصان کرتے۔ اب ہاتھا پائی کے علاوہ ایک دوسرے پر کرسیوں سے بھی حملے ہورہے تھے۔ بیچ بچاؤ کروانےوالوں اور ویٹرزکے رش کی وجہ سے حملہ آور پیچھے ہٹنا شروع ہوگئے۔ وہ ویسے بھی اپنا کام کر چکےتھے۔ جب حملہ آور پارکنگ میں اپنی گاڑیوں کے پاس پہنچے تو انھوں نے شاہ زین بگٹی زندہ باد اور پی ٹی آئی مردہ باد کے نعرے لگانا شروع کردئیے۔
شاہد میتلا بتاتے ہیں کہ لڑائی ختم ہونے کے بعد میں سوری کے پاس اوپر ریسٹورنٹ میں گیا جہاں وہ چھپے بیٹھے تھے۔ احوال پوچھا تو انھوں نےکہا کہ خیریت سے ہوں، مجھے کچھ نہیں ہوا۔ پھر کہنے لگے کہ یہ سعودی عرب میں ہونے والے واقعے کا ردعمل ہے۔ انھوں نے سعودی عرب کے واقعہ کو سراہنا چاہا تو میں نے فوراً کہا کہ جو وہاں ہوا وہ بھی غلط ہے اور جو یہاں ہوا وہ بھی غلط ہے۔ قاسم سوری سمیت سب کو پتہ تھا کہ حملہ کرنے والے شاہ زین بگٹی کے آدمی تھے۔
اس دوران ڈاکٹر عارف اور خالد بھٹ بھی بالائی فلور پر آگئے۔ ڈاکٹر عارف کی دائیں آنکھ زخمی تھی اور بھٹی صاحب کی ناک۔ دونوں نے مار کھائی تھی لیکن قاسم سوری نے لڑائی میں حصہ ڈالنے کی بجائے وہاں سے فرار ہونا مناسب سمجھا۔ اس کے بعد پولیس بھی پہنچ گئی۔ پولیس کو بیان ریکارڈ کروانے کےبعد قاسم سوری اور ان کے ساتھی چلے گئے۔

Back to top button