قدیر خان حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے کیوں ناراض تھے؟


بابائے ایٹم کہلانے والے ڈاکٹر عبدالقدیر اپنی زندگی کے آخری دنوں میں عمران خان کی حکومت اور اسے اقتدار میں لانے والی اسٹیبلشمنٹ دونوں سے سخت نالاں تھے جس کا اندازہ ان کے لکھے گے ایک آخری خط سے بخوبی ہوتا ہے جو انہوں نے وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کے نام لکھا تھا۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنی وفات سے چند روز پہلے 4 اکتوبر 2021 کو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو لکھے گئے خط میں کہا تھا کہ سندھ کے وزیراعلی کے علاوہ وفاق اور تینوں صوبے کے کسی منتخب نمائندے یا وزئر اعلی نے انہیں بیماری کے دوران نہیں پوچھا۔‏ انہون نے لکھا، شکریہ میرے صوبے کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ، کہ آپ نے اس مشکل گھڑی میں مجھے یاد رکھا۔ اس کے بعد انھوں نے لکھا کہ ‏لگتا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان سمیت پنجاب، خیبر پختونخوا اوربلوچستان کے وزرائے اعلی تو شاید میرے مرنے کی خوشخبری سننے کا انتظار کر رہے ہیں۔خیال رہے کہ وزیراعلی سندھ نے ڈاکٹر عبدالقدیر کی مزاج پرسی کے لئے انہیں ایک خط لکھا تھا جس کے جواب میں انہوں نے اپنے ہاتھ سے لکھے گے جوابی خط میں مراد علی شاہ کی نیک خواہشات کا خیر قدم کیا اور حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے غم و غصے کا اظہار بھی کھل کیا۔ یہ خط سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اس خط سے بخوبی معلوم ہو جاتا ہے کہ نامناسب ریاستی سلوک نے محسن پاکستان کو اندر سے کس طرح توڑ کر رکھ دیا تھا۔‏ خیال رہے کہ 10 اکتوبر کو ڈاکٹر قدیر خان کی نمازجنازہ اعلیٰ عسکری قیادت کے علاوہ صرف وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے شرکت کی۔ وزیر اعظم عمران خان سمیت بلوچستان، خیبر پختونخوا اور پنجاب کے وزرائے اعلی قومی ہیرو کے جنازے میں شریک نہیں ہوئے۔ مراد علی شاہ ان کے جنازے میں شرکت کے لئے خصوصی طور پر کراچی سے اسلام آباد پہنچے لیکن اسلام آباد میں موجود وزیراعظم عمران خان نے محسن پاکستان کے جنازے میں شرکت کی زحمت بھی گوارا نہیں کی۔ ڈاکٹر قدیر کے جنازے کے موقعے پر ان کے ایک رشتہ دار نے بی بی سی کہ خاتون نمائندہ کو بتایا کہ ڈاکٹر صاحب کے آخری ایام بہت مشکل اور تنہائی میں گزرے۔ وہ زندگی سے بھرپور انسان تھے مگر ان کے شکوے تو میڈیا پر بھی نظر آئے۔ وہ سالہا سال سے قید تنہائی میں تھے۔ وہ اپنے رشتہ داروں سے ملنا چاہتے تھے، وہ فیملی مین تھے مگر اپنے پیاروں سے ملنا ان کے لیے لیے ممکن نہیں تھا۔ انہوں نے اپنوں سے ملاقات کرنے کے لئے لاہور ہائی کورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ آف پاکستان سے بھی رجوع کیا لیکن انہیں اجازت نہ ملی۔ اذیت ناک تنہائی آخری لمحات تک ان کی زندگی کا حصہ رہی۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے قریبی فیملی ممبر نے ان کے جنازے پر بتایا کہ ان سے ملنا ناممکن تھا۔ ہم ان کے براہ راست خاندان کا حصہ ہیں۔ مگر ان سے ملاقات اجازت کے بغیر ممکن ہی نہیں تھی۔ ہم پہلے ان سے رابطہ قائم کرتے، پھر وہ سکیورٹی کو ہمارے بارے میں بتاتے، ملاقات کا مقصد بتایا جاتا اور پھر ان سے چند منٹ کے لیے ملنے کی اجازت ملتی۔ان کے ساتھی اور اہلخانہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ایک ایسا ہیرو سمجھتے ہیں جو پاکستانی عوام کی نظر میں تو ہیرو تھا مگر ریاست اور حکمرانوں کی جانب سے انھیں بے جا سختی اور تنہائی کا سامنا کرنا پڑا۔ان کے ساتھی نے ان کی نظربندی سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمارے ہیرو تھے، اور انھوں نے ایٹم بم بنانے کی قیمت خود پر لگے جھوٹے الزامات اور قید تنہائی کی صورت میں ادا کی۔

Back to top button