قرار داد مقاصد اور مولانا شبیر احمد عثمانی

تحریر:وجاہت مسعود۔۔۔۔۔۔بشکریہ:روزنامہ جنگ
(گزشتہ سے پیوستہ)
محترم مولانا شبیر احمد عثمانی صاحب 1944ءمیں حیدر آباد دکن کی مکی جامع مسجد میں پیش امام تھے۔ دہلی پہنچ کر قائد اعظم کی سیاسی قیادت قبول کرنے پر سردار شوکت حیات کی گواہی عرض ہو چکی۔ اس ضمن میں ایک مزید شہادت آپ کی نذر ہے۔ عبیدالرحمن کراچی کے ایک معروف وکیل تھے۔ آبائی خطہ سیتا پور تھا، تعلیم لکھنؤ میں پائی۔ نوجوانی میں تحریک پاکستان میں سرگرم رہے۔ قیام پاکستان کے بعد خواجہ ناظم الدین اور محترمہ فاطمہ جناح سے ربط رہا۔ کچھ عرصہ تحریک استقلال میں بھی شامل رہے۔ فوجی آمر جنرل ضیاالحق کی خود ساختہ مجلس شوریٰ کے رکن رہے۔ عبیدالرحمن صاحب کی خود نوشت 2003ءمیں ’یاد ہے سب ذرا ذرا ‘ کے عنوان سے کراچی میں شائع ہوئی۔ اس کا نسخہ جھنڈیر لائبریری میں محفوظ ہے۔ 329 صفحات پر مشتمل اس تصنیف کے صفحہ 49پر عبیدالرحمن لکھتے ہیں :’’قائد اعظم لکھنؤ تشریف لے گئے تو کسی نے اعتراض کیا کہ علما ایک مغرب زدہ آزاد خیال شخص کے پیچھے کیوں چل رہے ہیں؟ مولانا شبیر احمد عثمانی نے حکمت سے جواب دیا ’ چند سال پہلے میں حج کے لئے بمبئی سے روانہ ہوا۔ جہازایک ہندو کمپنی کا تھا، جہاز کا کپتان انگریز تھا اور جہاز کا دیگر عملہ ہندو، یہودی اور عیسائی افراد پر مشتمل تھا۔ میں نے سوچا کہ اس مقدس سفر کے یہ وسائل ہیں….. جب عرب کا ساحل قریب آیا ایک چھوٹی سی کشتی میں سوار ایک عرب جہاز کی طرف آیا….. اس (عرب) نے جہاز کا کنٹرول سنبھال لیا۔ اس کو اپنی رہنمائی میں سمندری پہاڑیوں، اتھلی آبی گزرگاہوں سے بچاتے ہوئے ساحل پر لنگر انداز کر دیا۔ بالکل ہم یہی کر رہے ہیں۔ ابھی تحریک جاری ہے، جدوجہد کا دور ہے، اس وقت جس قیادت کی ضرورت ہے وہ قائد اعظم میں موجود ہے۔ منزل تک پہنچانے کیلئے ان سے بہتر کوئی متبادل قیادت نہیں۔ منزل کے قریب ہم اپنا فرض ادا کریں گے‘‘۔
اگر عبیدالرحمٰن کا بیان ثقہ تسلیم کیا جائے تو یہ افسوس ناک انکشاف ہوتا ہے کہ شبیر احمد عثمانی محض تزویراتی حیلے کے طور پر قائد اعظم کو سیڑھی بنا کر آگے بڑھ رہے تھے اور حتمی تجزیے میں اپنی ذات مبارکہ کو قائداعظم کی نسبت مسلمانوں کی رہنمائی کا بہتر اہل گردانتے تھے۔ شاید اسی حکمت عملی کے تحت 26 اگست 1947ءکو سندھ کے وزیر تعلیم پیر الٰہی بخش نے کراچی کی ایک جامع مسجد میں تجویز پیش کی کہ پاکستان میں جمعے کی نمازکے خطبے میں قائد اعظم محمد علی جناح کا نام بطور امیر ملت شامل کرنا چاہئے۔ یہ محض اتفاق نہیں تھا۔ چند روز قبل 21اگست کو نوائے وقت میں سوال اٹھایا گیا تھا کہ جمعے کے خطبے میں صوبائی وزیر اعلیٰ کا نام لینا چاہئے یا قائد اعظم کا نام شامل کیا جائے۔ اس دوران پیر تاج دین بار ایٹ لا نے انگریزی اخبا ر ایسٹرن ٹائمز میں قائداعظم کو پاکستان کا پہلا (امیر المومنین) بننے پر مبارکباد دی تھی۔ قائداعظم تو خود کو مولانا یا بادشاہ تک کہلانا پسند نہیں کرتے تھے بلکہ برسوں پہلے اپنے بارے میں ’صرف مسٹر جناح‘پر صراحت سے اصرار کر چکے تھے۔ قائداعظم کی آڑ میں دراصل اپنے لیے مذہبی تحکیم کا منصب مانگا جا رہا تھا۔ ثبوت اس کا یہ ہے کہ قائداعظم کی وفات کے بعد گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین نے کراچی میں علما اور مشائخ کی کانفرنسیں منعقد کیں۔ ایسی ہی ایک کانفرنس پر 26ستمبر 1948 کو نوائے وقت نے اداریہ لکھا کہ ’’حکومت پاکستان محض سیاست دانوں اور مدبروں پر مشتمل ہے۔ اسلامی حکومت کے لیے ضروری ہے کہ شیخ الاسلام کا منصب جلد از جلد قائم کیا جائے…. خوش قسمتی سے حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی پاکستان میں موجود ہیں۔ اپنے علم و فضل کے اعتبار سے اس منصب کے اہل ہیں۔ اگروہ یہ درخواست قبول فرما لیں تو حکومت کی بنیادی پالیسی پر اسلامی رنگ چڑھ جائے گا‘‘۔ گویا پاکستان کی کشتی ان تلاطم خیز سمندری منطقوں سے نکل آئی تھی جہاں ’آزاد خیال‘ محمد علی جناح کی قیادت مطلوب تھی اور اب ریاستی اختیار کے پتوار مذہبی پیشوائوں کے سپرد کرنے کا وقت آ رہا تھا۔
اس تذکرے میں ایک غلط فہمی کا ازالہ ضروری ہے، ہمیں بتایا جاتا ہے کہ15اگست 1947ءمیں کراچی میں مولانا شبیر احمد عثمانی اور ڈھاکہ میں ان کے برادر خورد ظفر احمد عثمانی نے پاکستان کا قومی پرچم لہرانے کی رسم انجام دی۔ بعض شپرہ چشم تویہاں تک لکھتے ہیں کہ گورنر جنرل قائد اعظم محمد علی جناح اس موقع پر کراچی میں موجود تھے۔ تحقیق پر اس روایت کے ڈانڈے معروف محقق عقیل عباس جعفری سے جا ملے۔ طالبعلم نے استاد گرامی عقیل عباس جعفری سے رابطہ کیا۔ انہوں نے ایک صحیح عالم کی طرح اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے فرمایا کہ انہیں ملتان کے لکھاری منشی عبدالرحمن خان کی تصنیف ’چند ناقابل فراموش شخصیات‘ سے یہ گمراہ کن خبر ملی تھی۔ اتفاق سے جہلم کے ایک ناشر نے حال ہی میں یہ کتاب دوبارہ شائع کی ہے۔ منشی عبدالرحمن نے اپنے اس دعوے کی سند میں اگست 1947ءکے کسی اخبار، جریدے یا ریڈیو پاکستان کی خبر کا حوالہ نہیں دیا۔ یہ تاریخ نہیں، ’پیراں نمی پرند، مریداں می پرانند‘ کا من گھڑت مضمون ہے۔ قائداعظم ضابطے کے پابند شخص تھے۔ گورنر جنرل کے منصب پر فائز ہوتے ہوئے وہ دستور ساز اسمبلی میں مشرقی بنگال کے کوٹے سے منتخب ہونے والے معمولی رکن پارلیمان کو ایسی کلیدی سرکاری رسم کیسے سونپ سکتے تھے۔
شبیر احمد عثمانی سے یہ جملہ بھی منسوب ہے کہ انہوں نے قائداعظم کی تدفین کے بعد فرمایا کہ ’’ہم نے اورنگزیب عالمگیر کے بعد ہندوستان کے سب سے بڑے مسلمان کو سپرد خاک کر دیا ہے‘‘۔ واضح رہے کہ عالمگیر کا انتقال 1707ء میں ہوا تھا۔ اس دوران ہندوستان میں شاہ ولی اللہ ( 1703 -1762)، شاہ عبد العزیز دہلوی (1746ء ۔1823ء) سید احمد بریلوی ( 1786ء – 1831ء) اور مولانا قاسم نانوتوی (1833ء-1880ء ) جیسے جید مسلمان علما گزرے جنہیں اس مبینہ بیان کی روشنی میں مولانا شبیر احمد عثمانی نے قائداعظم محمد علی جناح سے فروتر گردانا۔ اگر یہ بیان درست ہے تو اس پر قائداعظم کی نماز جنازہ کے بارے میں مولانا شبیر احمد عثمانی کا ایک اور بیان نہایت دلچسپ ہے جس کی تفصیل آئندہ قسط پر اٹھا رکھتے ہیں۔ (جاری ہے)
