قرب قیامت کی نشانیاں کون کونسی ہیں؟

قیامت کا ذکر دنیا کے تمام مذاہب میں ملتا ہے ، روایت میں آتا ہے کہ قیامت سورۃ اسرافیل کی اس خوفناک چیخ کا نام ہے جس سے ساری کائنات زلزلے کی صورت میں لرز اٹھے گی ، پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے ، اس چیخ کی شدت سے تمام انسان اور جاندار مر جائیں گے ، اس ہولناک دن کی خبر تمام انبیا اکرام نے دی جبکہ اللہ کے آخری رسول حضور اکرم ﷺ نے بھی قرب قیامت کی چند نشانیاں بتائیں جن میں کعبہ کے طواف کا روکا جانا بھی شامل ہے جو کہ دنیا بھر میں کرونا وائرس پھیلنے کے بعد سے ہو چکا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اور وہ کونسی نشانیاں ہوں گی جن سے اندازہ لگ پائے گا کہ اب قیامت قریب ہے۔ کرونا وائرس کی وجہ سے سعودی حکومت نے عارضی طور پر طواف خانہ کعبہ کو رکوا دیا ہے جس کے بعد لوگوں نے اس کو قرب قیامت کی نشانی قرار دینا شروع کر دیا ہے۔ لیکن دراصل ایسا ہرگز نہیں ہے کیونکہ قرب قیامت کی نشانی میں طواف خانہ کعبہ کو زبردستی رکوانا شامل ہے جوکہ فی الوقت پوری ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ روایات یہ بھی بتاتی ہیں کہ حج کے موقوف ہونے کے بعد دوسرا بڑا واقعہ مسجد اقصیٰ کو شہید کرنے کا رونما ہوگا یعنی پہلے حج موقوف کیا جائے گا ، اس کے بعد یہودی قوتیں بیت المقدس کو شہید کریں گی ۔
قرب قیامت کی ایک نشانی یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ حج موقوف ہونے کے بعد سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کے نازل ہونے تک مسلمانوں پر نہایت کڑا وقت آئے گا ،ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جائیں گے اور دنیا بھر کے مسلمان انتہائی زبوں حالی کا شکار ہوں گے ، اس کے برعکس یہ وقت یہودیوں کے عروج کا ہوگا جس کا وہ کئی برسوں سے انتظار کر رہے ہیں ۔
علما اکرام اور اسلامی سکالرز بتاتے ہیں کہ یہ واضح نہیں ہے کہ پہلے حج موقوف کیا جائے گا یا بیت المقدس کو شہید کیا جائے گا ، دور حاضر میں فلسطین پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بیت المقدس پر یہودی قابض ہیں ، یہودی خود کہہ رہے ہیں کہ وہ بیت المقدس کو شہید کرنے کے لیے مناسب وقت کا انتظار کر رہے ہیں ، قرب قیامت کا وقت وہ ہوگا جب دنیا بھر کے مسلمان بیت المقدس کی شہادت جیسے بڑے اور غمناک واقعہ پر بھی خاموش رہیں گے ، مسجد اقصیٰ کو شہید کرنے کے بعد یہودی تھرڈ ٹیمپل کی تعمیر کریں گے ، یہ بھی واضح ہے کہ یہودی بیت المقدس کو شہید کرنے کے بعد اس کی بنیادوں میں سے تابوت سکینہ کو بھی تلاش کریں گے ۔
قرب قیامت کی ایک نشانی یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ جب یہودی بیت المقدس کی جگہ تھرڈ ٹیمپل کی تعمیر کریں گے تو وہ اس میں حضرت دائود علیہ اسلام کا تخت لا کر رکھیں گے ، یہ تخت بنیادی طور پر ایک پتھر ہے جوکہ اس وقت انگلینڈ کے ایک چرچ میں پڑا ہوا ہے لیکن کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ پتھر اس وقت اسرائیل کے قبضے میں ہے اور اسے عام انسانیت پر واضح نہیں کیا جا رہا ہے۔ جب یہ پتھر تھرڈ ٹیمپل میں رکھوا دیا جائے گا تو اس وقت دجال کا ظہور ہوگا جوکہ اس ٹیمپل میں آ کر اس پتھر پر بیٹھے گا اور اس کی تاج پوشی کی جائے گی ، اس کے بعد دجال گریٹر اسرائیل کی بنیاد رکھے گا جس کا نقشہ یہودیوں نے اپنی تعلیمات کے مطابق تیار کر رکھا ہے ۔سعودی عرب، عراق ، شام ، لبنان اور مصر کے بیشتر علاقہ جات اس سلطنت کا حصہ بتائے گئے ہیں۔ سعودی عرب کے دو عظیم شہر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ گریٹر اسرائیل کے نقشے میں نہیں آتے ہیں ، اس کے بعد حضرت امام مہدی کا ظہور ہوگا جس کے بعد مسلمان حضرت امام مہدی کو خلیفہ چنیں گے اور پھر حق و باطل کے درمیان بڑی جنگ ہوگی اور مسلمانوں کو فتح نصیب ہوگی ، حق و باطل کا یہ معرکہ آخری فیصلہ کن جنگ ہوگی جوکہ شام کی سرزمین پر لڑی جائے گی ۔
کہا جاتا ہے کہ اس جنگ کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کا ظہور ہوگا جس کے بعد امام مہدی اور حضرت عیسیٰ مل کر دجال کو موت کے گھاٹ اتاریں گے ، کتب میں قرب قیامت کی ایک اور بڑی نشانی بتائی گئی ہے کہ سورج مغرب سے طلوع ہوگا جس کے بعد توبہ کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے گا اور اس دوران سعودی عرب میں صفا نامی پہاڑی پھٹنے سے ایک عجیب الخلق جانور ظاہر ہوگا جس کو قرآن مجید میں داب تالعرض کہا گیا ہے ، اس کے پاس حضرت موسیٰ علیہ اسلام کا عصا مبارک اور حضرت سلیمان علیہ اسلام کی انگوٹھی ہوگی ، یہ جانور زمین پر بسنے والے مسلمانوں کی پیشانی پر اس عصا کی مدد سے ایک لکیر کھینچے گا جس سے حقیقی مسلمان کا چہرہ روشن ہو جائے گا جبکہ کافروں کے ماتھے پر یہ حضرت سلیمان علیہ اسلام کی انگوٹھی پھیرے گا جس سے ان کے چہرے سیاہ ہو جائیں گے جس کے بعد یہ جانور زمین سے غائب ہو جائے گا۔
اس کے بعد ایک فرحت بخش ہوا چلے گی جو دنیا پر موجود تمام مسلمانوں کی روح قبض کر لے گی ، اس موقع پر قرآن اور دین اسلام دنیا سے مکمل طور پر اٹھا لیا جائے گا اور دنیا میں فحاشی اور عریانیت عام ہو جائے گی ، اس کے بعد ایک آگ کی آندھی آئے گی جوکہ تمام کافروں کو ملک شام میں جمع کر دے گی جس کے بعد حضرت اسرافیل پہلا سور پھونکیں گے ، ناظرین یہی وہ دن ہوگا کہ جس کا نام قیامت ہے۔
