قرضے مؤخر ہونے سے کیا عوام کو بھی ریلیف ملے گا؟

آئی ایم ایف اور دیگر ممالک کی جانب سے پاکستان سمیت 76 ممالک کے ذمہ قرض کی وصولی موخر کئے جانے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ حکومت کو ملنے والی اس بڑی ریلیف کے ثمرات کیا عام آدمی تک بھی پہنچیں گے اور کیا مہنگائی کی شرح میں بھی کمی کی جائے گی؟
یاد رہے کہ عالمی مالیاتی ادارے یا آئی ایم ایف نے کم شرح سود پر پاکستان کو 1.4 ارب ڈالرز فوری قرض دینے کا باضابطہ فیصلہ کیا ہے تاکہ پاکستانی عوام کو کرونا وبا کے دنوں میں ریلیف مل سکے۔ پاکستان نے قرضہ ادائیگی کی قسط کے طور آئی ایم ایف کو 12 ارب ڈالرز جمع کروانے تھے جو اب ریلیف ملنے کے بعد جمع نہیں کروانے پڑیں گے بلکہ کرونا وبا کے تحت پیدا ہونے والی صورتحال پر خرچ کیے جائیں گے۔ علاوہ ازیں عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل گراوٹ کے بعد پاکستان میں بھی تیل کی قیمتیں کم کی جا رہی ہیں جس کے بعد ملک کی معاشی صورتحال میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرضوں کی ادائی موخر ہونے سے پاکستان کی معیشت کتنی بہتر ہو گی اور عام آدمی کی زندگی پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ کیا حکومت کو آئی ایم ایف کی طرف سے ملنے والی ریلیف کے ثمرات عام آدمی تک بھی پہنچائیں جائیں گے؟ سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی آئے گی یا نہیں اور روپے کی قدر میں کتنی بہتری کا امکان ہے۔
اس حوالے سے معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے پاکستان کا قرضہ ایک سال تک مؤخر کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوتی رہیں تو ملک میں مہنگائی کی شرح صفر تک لائی جا سکتی ہے جبکہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کو بھی تقویت ملنے کا امکان ہے۔ تاہم بعض ماہرین اس سے اختلاف کرتے ہوئے سمجھتے ہیں کہ پاکستانی معیشت پر اصل بوجھ اندرونی قرضوں کا ہے بیرونی قرضے عام آدمی کو فائدہ دینے کے اقدام کی راہ میں رکاوٹ نہیں۔
اس ضمن میں سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ کہتے ہیں کہ اس سال پاکستان کو بارہ ارب ڈالر کے قرضے واپس کرنے تھے۔ اس ریلیف سے سب سے پہلے تو ان قرضوں کو واپس کرنے کی پریشانی کم از کم ایک سال کے لیے ختم ہوئی ہے بلکہ یوں سمجھ لیجیے کہ معیشت کو بارہ ارب ڈالر کی فنانسنگ مل گئی ہے۔ دوسری بات یہ کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کو ڈیڑھ ارب ڈالر کا مزید قرضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے پاکستان کو کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے عالمی مارکیٹ سے خریداری میں آسانی ہوگی۔ اس کے علاوہ قرضے مؤخر ہونے سے پاکستانی روپے کو تقویت ملے گی۔
اس وقت اگرچہ دنیا بھر کی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں کمزور ہو رہی ہے لیکن جب ریزرو میں ڈالر ہوں گے تو اس سے فرق ضرور پڑے گا۔ ڈاکٹر سلمان شاہ کے مطابق سٹیٹ بینک نے پاکستان میں مہنگائی کی شرح سات فیصد تک تجویز کی ہے۔ اگر تیل کی قیمتوں میں مزید کمی ہوتی ہے تو مہنگائی کی شرح صفر تک بھی آ سکتی ہے۔
تاہم دوسری جانب ماہرمعیشت ڈاکٹر فرخ سلیم کہتے ہیں کہ پاکستان پر 88 فیصد بوجھ تو اندرونی قرضوں کا ہے۔ بیرونی قرضوں کا تو صرف نعرہ لگایا جا رہا ہے۔ بیرونی قرضوں کے حوالے سے تو ہمیں صرف اتنی چھوٹ ملی ہے کہ سود اس سال نہیں بلکہ اگلے سال ادا کرنا ہے۔ اس سے عام آدمی کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ عام آدمی کو اگر کوئی فائدہ پہنچے گا تو وہ شرح سود میں دو فیصد کمی سے ہوگا۔ اس سے حکومت کو پانچ سو ارب روپے بچ جائیں گے اور اضافی وسائل پیدا ہوں گے۔ ان کو کرونا کے حوالے سے استعمال کیا جاسکے گا۔ یہ اچھا قدم ہے اور شرح سود میں مزید کمی کی جانی چاہیے۔ بیرونی قرضہ جات کا نعرہ زیادہ ہے لیکن اس کا حقیقی اثر اتنا زیادہ نہیں۔
