قرض کی عدم ادائیگی پر نوازشریف کے وارنٹ گرفتاری جاری

لاہور کی ایک بینکنگ عدالت نے سابق وزیراعظم نوازشریف، طارق شفیع،جاوید شفیع سمیت پانچ کزنوں کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دئیے۔ وارنٹ گرفتاری طلبی کے باوجود پیش نہ ہونے پرجاری کئے گئے۔
بینکنگ عدالت نے کشمیرملزاور اتفاق شوگرمل نے بنکوں سے اربوں روپے کا قرض لیکر واپس نہ کرنے کے کیس میں ملزموں کو طلب کیا تھا۔ پیش نہ ہونے پر بینکنگ عدالت نے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف، طارق شفیع،جاوید شفیع سمیت پانچ افراد کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔ عدالت نے طلبی کے باوجود پیش نہ ہونے پر نواز شریف کے کزنوں کو وارنٹ جاری کیے.
بینکنگ عدالت نے مختلف کمپنیوں کےلیے قرض لیکر واپس نہ کرنے کے کیس میں ملزموں کو طلب کیا تھا۔ کشمیرملزاور اتفاق شوگرمل پر مختلف بنکوں سے اربوں روپے کے قرضہ لیکر واپس نہ کرنے کا الزام ہے۔ کشمیر شوگر مل اور اتفاق شوگر ملز کے لیے گئے قرضوں کی واپسی کے لیے بنکوں نے عدالت سے رجوع کررکھا ہے۔ دائر درخواست میں سابق وزیر اعظم کے کزن میاں طارق شفیع، جاوید شفیع، اتفاق شوگر مل، کشمیر شوگر مل سمیت متعدد افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ بنک کی طرف سے جمع کرائی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اتفاق شوگر ملزمل اور کشمیر ملز نے 700 ملین قرضہ حاصل کیا۔ قرضے کی واپسی کے لیے متعدد نوٹسز جاری کیےگئے۔ اتفاق شوگرملز اور کشمیر مل قرضہ واپس نہیں کررہی۔درخواست میں عدالت سے قانون کے مطابق کارروائی کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔
خیال رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف 19 نومبر 2019 سے علاج کی غرض سے لندن میں مقیم ہیں جہاں ان کے مسلسل ٹیسٹ اور طبی معائنہ کیا جارہا ہے۔
24 دسمبر 2018 کو احتساب عدالت اسلام آباد نے نواز شریف کو العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں 7 سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ 29 اکتوبر 2019 کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے طبی بنیادوں پر سابق وزیراعظم کی 8 ہفتوں کے لیے سزا معطل کردی تھی۔ ہائیکورٹ کی جانب سے نوازشریف کی ضمانت منظوری اور سزا معطلی کا تحریری فیصلہ جاری کیا گیا تھا جس میں کہا گیا کہ نوازشریف کی ضمانت 8 ہفتوں کے لیے منظور اور سزا معطل کی جاتی ہے۔ فیصلے کے مطابق نوازشریف کی طبیعت خراب رہتی ہے تو وہ ضمانت میں توسیع کیلئے پنجاب حکومت سے رجوع کرسکتے ہیں.
16 نومبر 2019 کو لاہور ہائیکورٹ نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا تھا اور انہیں علاج کی غرض سے 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی جس کے بعد وہ 19 نومبر 2019 کو لندن روانہ ہوگئے تھے۔
