قسمت کے کھیل سے ارب پتی اور پھر ککھ پتی بننے والے لوگ

قسمت ایک ایسا جھولا ہے جو انسان کو جس تیزی سے بلندی پر لے کر جاتا ہے ، اسی رفتار سے اسے نیچے لاتے ہوئے زمین پر بھی لٹک دیتا ہے۔ یہ جھولا ہر انسان زندگی میں کئی مرتبہ جھولتا ہے ، دنیا میں ایسے بھی انسان موجود ہیں جن کو اس جھولے نے آسمانوں تک بلندی دکھائی۔ تاہم انہی انسانوں کو قسمت کے جھولے نے زمین بوس بھی کیا ، آج ہم آپ کو ایسے ہی افراد کی دلچسپ کہانیاں بتائیں گے۔
سب سے پہلے بات کرتے ہیں ایسے افراد کی جن پر قسمت کی دیوی مہربان ہوئی اور وہ اچانک امیر ہوگئے ، یہ کہانی ہے اگست 2013 کی جب ایک کسینو پرائس اپنے پھلتے پھولتے بزنس کو دیکھتے ہوئے ایک انعامی رقم کا اعلان کرتا ہے جس کی مالیت آج کے حساب سے 13 کروڑ 39 لاکھ روپے بنتی ہے۔ اس کے بعد قرعہ اندازی سے وہ اپنے ایک کسٹمر کا اعلان کرتے ہیں جس کا نام کیون لیوس بتایا جاتا ہے لیکن انعامی رقم ملنے کے دن لیوس کے دستاویزات دیکھ کر کسینو انتظامیہ اندازہ لگاتی ہے کہ یہ لیوئس نہیں ہے بلکہ نام کی مماثلت کی وجہ سے یہ شخص یہاں پہنچ گیا ہے۔ تاہم کسینو کے مالک نے دونوں افراد کو انعام دینے کا فیصلہ کیا جس سے ایک دور دراز گائوں کا غریب آدمی بھی امیر بن گیا ، اُس کو بھی 13 کروڑ 29 لاکھ روپے ادا کیے گئے۔
امریکہ میں رہنے والے ایک خوش قسمت خاتون کا نام کلینڈا بلیک ویل ہے جو کچھ عرصہ پہلے تک ایک غریب عورت تھی اور اپنے شوہر کی حرکات سے بڑی پریشان رہتی تھی کیونکہ اس کا شوہر امیر بننے کی غرض سے اپنی کمائی کا ایک بڑا حصہ لاٹری ٹکٹ کی خریداری پر خرچ کر دیتا تھا مگر یہ فارمولا اس کے پیسے برباد ہی کرتا چلا گیا ، ایخ رقز اس کی بیوی نے اپنے شوہر کو سبق سکھانے کے لیے اپنی کمائی سے بھی پرائز بانڈ خرید لیے تاکہ شوہر کو اندازہ ہو کہ رقم ضائع کرنے کی کتنی تکلیف ہوتی ہے۔ لیکن یہ فیصلہ اس عورت کے لیے خوش قسمت ثابت ہوا کیونکہ اس کے خریدے گئے لاٹری ٹکٹ سے ایک ملین ڈالر کی بھاری انعامی رقم نکل آئی ، یوں شوہر کو سدھارنے کے چکر میں یہ غریب عورت کروڑ پتی بن گئی۔
حادثاتی امیر ہونے کا ایک اور قصہ بھی ایک امریکی شہری کے گرد گھومتا ہے جس نے سیل میں لگی ایک پینٹنگ کو صرف چار ڈالر کے عوض خریدا اور پھر اس کو دوبارہ سے نیا فریم لگانے کا فیصلہ کیا۔ لیکن جب اس نے پینٹنگ کا فریم اتارا تو اس میں سے امریکہ کی آزادی کے متعلق کچھ دستاویزات اور چابیاں ملیں جس کو لے کر یہ شخص ماہرین کے پاس پہنچا تو اسے معلوم ہوا کہ یہ دستاویزات امریکہ کی آزادی کے وقت کی ہیں۔ امریکی حکومت نے جولائی 1776 میں پرنٹ ہونے والے ان دستاویزات کو 32 کروڑ 17 لاکھ روپے میں خریدا۔
اب ہم بات کریں گے کہ امریکی شہری رچرڈ نوئیل کی جس پر قسمت کی دیوی کچھ یوں مہربان ہوئی کہ ایک روز وہ 100 ڈالر کا چینج لینے نکلا لیکن اس میں ناکامی پر اس نے کچھ لاٹری ٹکٹس خرید لیے ، چینج کیلئے خریدے گئے ان لاٹری ٹکٹس کی اہمیت کا اندازہ رچرڈ نوئیل کو تب ہوا جب اس میں سے ایک ٹکٹ کی انعامی رقم 1 ارب 33 کروڑ روپے اس کے نام نکل آئی ، بے مقصد خریدے گئے ان ٹکٹس نے رچرڈ نوئیل کو دنیا کا ارب پتی شخص بنا دیا۔
یہ تو تھی حادثاتی امیروں کی کہانی اب ہم بتاتے ہیں کہ اپنی کمائی سے امیر ہونے والے کس طرح غریب تر ہوگئے ، پہلے بات کرتے ہیں امریکی گلوکار مائیکل جیکسن کی جس کی ماہانہ آمدنی 50 ملین ڈالر تھی اور اس کے رہائشی محل کے ہر واش روم میں سونے کے نل لگائے گئے تھے لیکن اس کی دولت کو چٹ کرگئیں اپنی ہر گرل فرینڈز ، وقت مرگ جب مائیکل جیکسن کے کھاتوں کی جانچ کی گئی تو اس میں کوئی خاص رقم باقی نہیں تھی۔
ہالی ووڈ سٹار جانی ڈیپ بھی کچھ ایسی ہی داستان رکھتے ہیں جن کے اثاثوں کی مالیت 650 ملین ڈالر کے قریب تھی لیکن اس نے اپنی عیاشیوں پر اس طرح دولت اڑائی کہ ایک وقت ایسا آ گیا کہ اس کو اپنے منیجر سے ادھار کوٹ لے کر پہننا پڑا۔ پہلے تو جانی ڈیپ نے اس کا ذمہ دار اپنے منیجر کو ٹھہرایا لیکن پھر اس کی فلمی زندگی میں سابق اہلیہ کی بھی اسی انداز سے انٹری ہوئی اور معلوم ہوا کہ محترمہ نے صرف 4 ملین ڈالر کا میک اپ ہی خرید رکھا تھا۔
لنڈسے لوہن وہ اداکارہ ہیں جن کو چھوٹی عمر میں ہی ہالی ووڈ نے آسمان کی بلندیوں پر پہنچا دیا اور انھوں نے بے شمار دولت کمائی لیکن مہنگی جیولری اور کپڑوں کا شوق اس اداکارہ کو لے ڈوبا ، ایک ہوٹل میں دو برس تک قیام کے دوران اداکارہ کو 7 ملین ڈالر کی خطیر رقم ادا کرنا پڑی لیکن اسی ہوٹل نے 46 ہزار ڈالر کی رقم نہ ملنے پر اداکارہ کے خلاف مقدمہ کر دیا تھا۔
معروف امریکی باکسر مائیک ٹائیسن نے شہرت اور دولت کمائی لیکن اس کو سنبھال نہ پایا ، کروڑوں ڈالرز کی گاڑیاں ، کپڑے اور عیاشیاں اسے لے ڈوبیں ، اس نے ایک ٹائیگر بھی خرید رکھا تھا جس کی دیکھ بھال پر روزانہ کروڑوں روپے خرچ ہوتے تھے اور جب اس نے باکسنگ سے ریٹائرمنٹ لی تو اس کا خالی اکائونٹ اس کو منہ چڑھا رہا تھا ، اسی لیے کہتے ہیں کہ عزت اور شہرت ملنے پر کبھی اترانا نہیں چاہئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button